ہمارے پاس ایک کاپی خریدنے کے لئے بھی پیسے نہیں ہوتے تھے --- ایسی باہمت ماں جس نے غربت کے باوجود اپنے 10 بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی

 
ہر ماں باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولادیں پڑھ لکھ کر معاشرے کے فعال فرد بنیں۔ اگر ماں باپ خود تعلیم یافتہ ہوں تو بچوں کو پڑھانا لکھانا کچھ اتنا مشکل نہیں لیکن اگر وہ ان پڑھ ہونے کے ساتھ ساتھ غریب بھی ہوں تو بچوں کو تعلیم دلانے کا خواب بس خواب بن کر ہی رہ جاتا ہے لیکن کچھ لوگ اپنے ارادوں میں اٹل ہوتے ہیں۔ ترکی میں اناطولیہ کی رہائشی اصل اِمرے 60 سالہ بزرگ خاتون ہیں جنھوں نے خود ان پڑھ اور غریب ہونے کے باوجود اپنے دس بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائی۔ ان کے تمام بچوں نے گریجویشن کی اور اعلیٰ ڈگریاں حاصل کیں۔ اب اصل امرے خود اپنی پوتی سے پڑھنا لکھنا سیکھ رہی ہیں۔
 
ہمارے پاس ایک کاپی خریدنے کے لئے بھی پیسے نہیں ہوتے تھے
اصل امرے بچوں کو تعلیم دلانے کے سفر کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتی ہیں کہ“ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں ہوتے تھے کہ گھر کے لئے پردے خرید سکیں۔ بچوں کو تعلیم دلانے کے لئے انھیں کاپیاں، کتابیں دلانا ضروری تھا لیکن حالات کچھ ایسے تھے کہ اکثر ایک کاپی خریدنے کے پیسے بھی نہیں ہوتے تھے“
 
 
گاؤں کے لوگ ہمارے پیٹھ پیچھے باتیں کرتے تھے کیونکہ۔۔۔
اصل امرے کی خوش قسمتی یہ رہی کہ ان کے شوہر بھی ان کی طرح بچوں کو تعلیم دلانے کے لئے پرجوش تھے۔ اگرچہ وہ خود محنت مزدوری کرکے خاندان کا پیٹ پال رہے تھے اس کے باوجود دونوں میاں بیوی نے بچوں کو اسکول میں داخل کروایا۔ جلال امرے خصوصاً اپنی بیٹیوں کی کامیابی پر بہت خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ “گاؤں کے لوگ ہمارے پیٹھ پیچھے باتیں کرتے تھے کیونکہ ہم نے اپنی بیٹیوں کو بھی اسکول میں داخل کروایا تھا۔ لیکن ہم نے ان کی بات پر دھیان نہیں دیا۔ میری پانچوں بیٹیوں نے گریجویشن کیا جن میں سے 4 ٹیچر اور ایک نرس ہے“
 
 
یونیفارم کی شرٹ نہ ہونے کی وجہ سے۔۔۔
اصل امرے اپنے بیٹے کے بچپن کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ “ایک دن میرے بیٹے نے کہا کہ میرے استاد سے کہیں میں بیمار ہوں کیونکہ میرے اسکول کی شرٹ خراب ہوگئی ہے مجھے وہاں بہت شرمندگی ہوتی ہے“ اصل امرے آنکھ میں آنسو صاف کرتے ہوئے مزید کہتی ہیں کہ “زندگی میں کچھ چیزیں آپ کبھی بھلا نہیں سکتے“
 
اصل امرے کے وہی صاحبزادے اب ایک اسپتال میں ڈاکٹر ہیں اور اپنی والدہ کی محنت اور کاوشوں کا شکریہ ادا کرنے کے لئے انھوں نے ایک خوبصورت گھر بنا کر دیا ہے جس میں ان کا پورا خاندان رہتا ہے۔
 
میری دادی نے مجھ سے کہا کہ وہ پڑھنا چاہتی ہیں
اصل امرے اپنی پوتی زینب سے لکھنا پڑھنا بھی سیکھ رہی ہیں ان کی ننھی پوتی زینب کہتی ہیں کہ “میری دادی نے مجھ سے کہا کہ میں لکھنا پڑھنا چاہتی ہوں جس پر میں نے ان سے کہا کہ دادی آپ خود سے لکھ پڑھ سکتی ہیں۔ اس لئے میں نے ان کو پڑھانا شروع کردیا۔ اصل امرے کہتی ہیں کہ “میں لوگوں سے بس کے نمبر پوچھ پوچھ کے تنگ آچکی ہوں کیوں کہ میں خود نہیں پڑھ سکتی“
 
بے شک علم حاصل کرنے کے لئے عمر کی کوئی قید نہیں۔ اصل امرے اور ان کے شوہر جیسے باہمت لوگ ہی زمانے کے لئے مثال ہیں۔
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
03 May, 2021 Views: 1183

Comments

آپ کی رائے