روزانہ ریلوے اسٹیشن سے گزرنے والی ہر ٹرین میں اپنے بھائی کو ڈھونڈتی ہوں۔۔۔ ایک اپاہج بہن جو پانچ سال سے اپنے لاپتہ بھائی کی منتظر ہے

 
باہر جاکر اپنی اور اپنے پیاروں کی قسمت بدلنے کا خواب پاکستان کے اکثر نوجوان دیکھتے ہیں لیکن ان میں سے شاذونادر ہی اس خواب کو پورا کرنے میں کامیاب ہوپاتے ہیں۔ لیکن ایسے افراد جو دوسرے ملک جانے کے لئے غیر قانونی طریقہ اختیار کرتے ہیں ان کا انجام ہمیشہ ہی برا ہوتا ہے۔ اس کے باوجود اپنی غربت سے تنگ نوجوان باہر جانے کا سنہری خواب دیکھتے بھی ہیں اور غلط راستہ اختیار کرتے ہیں جس کی سزا بعد میں صرف وہی نہیں بلکہ ان کا پورا خاندان بھگتتا ہے۔ ایسی ہی کہانی ہے اس خاندان کی جنکا بیٹا اور بھائی سالوں سے لاپتہ ہے۔
 
پانچ سال سے ریلوے اسٹیشن پر بھائی کا انتظار کرتی اپاہج بہن
عمر حیات جو ایران سے ترکی جاتے ہوئے غیر قانونی طور پر پکڑے گئے وہ اور ان کا خاندان وزیرآباد کے پاس ایک گاؤں میں رہتے تھے۔ روبینہ کوثر کی نگاہیں گزشتہ پانچ سال سے روزانہ ریلوے اسٹیشن سے گزرنے والی ہر ٹرین میں اپنے بھائی کو ڈھونڈھتی ہیں اور مایوس لوٹ آتی ہیں۔ روبینہ کہتی ہیں “میں نے اپنے بھائی عمر حیات کو کہا تھا کہ گھر کے حالات بہتر کرنے ہیں تو یہاں رہ کر بھی کرسکتے ہو اس کے لئے غلط راستہ نہیں اختیار کرو“
 
روبینہ کہتی ہیں کہ ان کے چھوٹے بھائی عمر پہلے درزی کا کام کرتے تھے لیکن ان کے ایک رشتے دار ایجنٹ نے انھیں باہر جانے کے سبز باغ دکھانا شروع کیے۔ ایجنٹ نے کہا تھا کہ جہاز سے باہر بھیجے گا اور پاسپورٹ بھی بنوایا لیکن بعد میں ایجنٹ نے دھوکہ دیا اور پاسپورٹ یہیں چھوڑ دیا۔ روبینہ کہتی ہیں کہ “میری آخری بار اپنے بھائی سے تب بات ہوئی جب وہ ایران کی سرحد پر تھا اور اس کے بعد ایجنٹ نے ہمیں بتایا کہ تمھارا عمر پکڑا گیا ہے۔ پھر میں دو سال بھائی کا انتظار کرتی رہی اور جب میرا صبر جواب دے گیا تو میں نے ایف آئی اے میں رپورٹ درج کروائی“
 
 
روبینہ پولیو کا شکار اور دونوں ٹانگوں سے معذور ہیں
 ڈی ڈبلیو کی رپورٹ کے مطابق بچپن میں پولیو ہونے کی وجہ سے روبینہ دونوں ٹانگوں سے معذور ہیں لیکن اس کے باوجود انھوں نے اپنی بیماری کو کمزوری نہیں بننے دیا۔ وہ گھر کا تمام کام خود کرتی ہیں اور ساتھ ساتھ بھائی کو واپس لانے کے لئے کوشش بھی کرتی ہیں روبینہ تھانہ سسٹم کی شکایت کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ “ اللہ کی مرضی ہے اس نے مجھے ایسا بنایا لیکن مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا۔ میں جب بھی تھانے جاتی ہوں بہادر بن کے جاتی ہوں وہاں مجھے بہت زیادہ دھمکیاں بھی دیتے ہیں لیکن میں پیچھے نہیں ہٹتی““
 
ماں نے آج تک بیٹے کے کپڑے سنمبھال کے رکھے ہیں
عمر حیات کی والدہ نے آج تک وہ قمیض سنمبھال کر رکھی ہے جسے ان کا بیٹا باہر جانے سے پہلے پہنے ہوا تھا۔ وہ دن بھر روتی رہتی ہیں اور اپنے بیٹے کی واپسی کی دعائیں کرتی ہیں۔ ان کو یقین ہے کہ ان کا بیٹا زندہ ہے اور ایک دن وہ واپس ضرور آئے گا۔ وہبینہ بھی گھر گھر جا کر لوگوں کو اپنی کہانی سناتی ہیں اور ان میں اس بات کا شعور پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں کہ کبھی باہر جانے کے لئے غلط راستہ نہ اختیار کریں۔ یہ سب کرنے سے ان کا دل تھوڑا ہلکا ہوجاتا ہے لیکن دن ڈھلتے ہی وہ دوبارہ ریلوے اسٹیشن پر اپنے بھائی کا انتظار کرنے لگتی ہیں۔
 
 
باہر جاکر اپنی اور اپنے پیاروں کی قسمت بدلنے کا خواب پاکستان کے اکثر نوجوان دیکھتے ہیں لیکن ان میں سے شاذونادر ہی اس خواب کو پورا کرنے میں کامیاب ہوپاتے ہیں۔ لیکن ایسے افراد جو دوسرے ملک جانے کے لئے غیر قانونی طریقہ اختیار کرتے ہیں ان کا انجام ہمیشہ ہی برا ہوتا ہے۔ اس کے باوجود اپنی غربت سے تنگ نوجوان باہر جانے کا سنہری خواب دیکھتے بھی ہیں اور غلط راستہ اختیار کرتے ہیں جس کی سزا بعد میں صرف وہی نہیں بلکہ ان کا پورا خاندان بھگتتا ہے۔ ایسی ہی کہانی ہے اس خاندان کی جنکا بیٹا اور بھائی سالوں سے لاپتہ ہے۔
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
06 May, 2021 Views: 787

Comments

آپ کی رائے