نیسلے پاکستان نے CSV (کریئٹنگ شیئرڈ ویلیو) اور سسٹین ایبلیٹی رپورٹ شائع کردی

 
نیسلے پاکستان نے حال ہی میں’’ نیسلے ان سوسائیٹی:کریئٹنگ شیئرڈ ویلیو (CSV)2020 رپورٹ‘‘ شائع کی ہے۔ نیسلے پاکستان کی طرف سے مشترکہ اقدار کی تخلیق کے حوالے سے شائع رپورٹ میں اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے مطابق افراد، خاندانوں ، معاشروں اور دنیا کیلئے تین مرکزی شعبوں کو اجاگر کیا گیا جو اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف (UN SDGs)کے تحت ہیں۔
 
 نیسلے کے مشترکہ اقدار کی تخلیق(CSV) کے فلسفہ کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے سامر شدید، سی ای او، نیسلے پاکستان نے کہا’’’ہمارے CSV اقدامات ہمارے کاروبار کرنے کے طریقوں کیلئے بنیادی رہنمائی اصول فراہم کرتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ ہم شیئر ہولڈرز اور معاشرے کیلئے مشترکہ اقدار کی تخلیق کے ذریعے کامیابی کا طویل سفر طے کریں گے۔‘‘
 
انہوں نے کہا ’’ہماری کمپنی کی صحت اس معاشرے کی صحت اور استحکام سے جڑی ہوئی ہے جہاں ہم آپریٹ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نیسلے کا مقصد غذائیت سے بھر پور خوراک کی فراہمی سے آج اور آنے والی نسلوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانا ہے‘‘
 
 
سامر شدید نے واضح کیا کہ نیسلے کے CSVاقدامات ملک کو درپیش چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کیلئے معاون ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 'ہم مستقبل میں معاشروں کی بہتری کیلئے اپنے مینوفیکچرنگ یونٹس میں اقدامات اٹھانے کے ساتھ ساتھ متعدد پروگرام بھی متعارف کرارہے ہیں۔ عالمی سطح کے شعبوں پر ہماری توجہ ہمارے مقصد میں مضبوطی سے سرایت کرچکی ہے اور ہر ایک شعبے میں کی جانے والی ہماری کوششیں اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف (UN SDGs) کے مطابق ہیں۔
 
2020میں کورونا وبا نے پاکستان سمیت پوری دنیا پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ کورونا وبا سے متاثرہ افراد اور فرنٹ لائن ورکرز کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے نیسلے پاکستان نے 40 لاکھ کی تعداد میں دودھ، جوس، بچوں کے خوراک، پانی اور آئرن سپلیمنٹ پر مشتمل مصنوعات کو معاشرے کے متاثرہ طبقا ت میں معاونت کے طور پر فراہم کیا۔
 
غذائی کمی کے حوالے سے ملک کو درپیش چیلنجزکی روشنی اور اچھی صحت اور فلاح بہود کے بارے میں یواین ایس ڈی جی۔3 کے مطابق صحت مند بچوں کیلئے نیسلے کے پروگرام (N4HK) کے ذریعے رواں سال 2 لاکھ50ہزار بچوں تک رسائی کی گئی جبکہ310سکولوں میں 1300 سے زائد اساتذہ کو غذائیت کے حوالے سے تربیت بھی فراہم کی گئی۔
 
 
 حکومت کے احساس پروگرام کے تحت نیسلے بی آئی ایس پی (BISP) رورل ویمن سیلز پروگرام‘ کے ذریعے بی آئی ایس پی سے مستفید ہونے والی1500 خواتین کو مدد فراہم کی گئی جو پنجاب اور سندھ کے 12اضلاع میں دیہی سیلز ایجنٹس کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ بی آئی ایس پی سے مستفید ہونے والی خواتین کی مائیکرفنانس تک رسائی کو بہتر بنانے کے نیسلے پاکستان نے فلاحی ادارے اخوت کے ساتھ شراکت داری نے 147 خواتین کو ان کے کاروبار کو بڑھانے میں مدد فراہم کی جو یواین ایس ڈی جی۔ 5(صنفی مساوات) اور 8 (کام کا موزوں ماحول اور معاشی ترقی) کیلئے نیسلے کے عزم کا حصہ ہے۔
 
 نیسلے کے CSV کے فلسفہ کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے وقار احمد، ہیڈ آف کارپوریٹ افیئرز، نیسلے پاکستان نے کہا ’’ہمارا گلوبل سسٹینیبلیٹی روڈ میپ چار مقاصد پر مشتمل ہے جس میں موسمیاتی تبدیلی، پائیدار پیکیجنگ، پانی کا تحفظ اور ذمہ دار سورسنگ پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔‘‘
 
انہوں نے کہا ’’ہم 100 فیصد پیکیجنگ کو 2025 تک ری سائیکل یا دوبار قابل استعمال بنانے کو یقینی بناتے ہوئے کچرے سے پاک مستقبل کے حصول کیلئے مستقل جدوجہد کررہے ہیں جبکہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو 2030 تک نصف اور 2050 تک زیرو کرکے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے پر عزم ہیں۔‘‘
 
پانی ایک مشترکہ اور قیمتی وسائل ہے جس کا تمام استعمال کنندہ کی طرف سے پائیدار انتظام کیا جانا چاہیے۔ اپنی اجتماعی کوششوں کی سوچ کے ساتھ نیسلے پاکستان نے ’کیئرنگ فار واٹر-پاکستان اقدام کے تحت LUMS، UVAS، WWF، SDPI اور PIRC جیسے اداروں کے ساتھ مل کر 152 ایکٹر زمین پر ڈرپ ایری گیشن سسٹم نصب کیا گیا جس سے 2020 میں 428 ملین لیٹرز پانی کی بچت کرنے میں مدد ملی۔ یہ اقدام UN SDG۔6 اور۔17سے منسلک ہیں۔
 
وقار احمد نے مزید کہا’’پاک مستقبل کے ہمارے وژن کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ہم پیکیجنگ کے کچرے سے نمٹنے کیلئے اپنے اقدامات کو تیز کررہے ہیں۔اس کے علاوہ ہم نے آگاہی مہمات اور مقامی لوگوں کی تربیت کے ذریعے ذمہ دار سیاحت کو فروغ دینے کیلئے ’’خیبر پختونخوا میں ٹریول ریسپانسیبلیٹی فار ایکسپیرنسنگ ایکو سسٹم (TREK) کے آغاز کیلئے عالمی بینک اور خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ شراکت داری قائم کی ہے۔
 
کمپنی کا ضلعی انتظامیہ،، گلگت. بلتستان ویسٹ مینجمنٹ کمپنی اور قراقرم ایریا ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے ساتھ شراکت داری میں کلین ہنزہ پراجیکٹ جاری ہے۔ پراجیکٹ کے تحت ہنزا اور گلگت کو کچرے سے پاک بنانے اور خطے میں پائیدار سیاحت کے فروغ کیلئے پلاسٹک کے کچرے کی ویسٹ مینجمنٹ اور ریسائیکل کرنے کے نظام پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے ۔
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
07 May, 2021 Views: 6055

Comments

آپ کی رائے