میرے پاپا نے آخری میسج میں پوچھا کہ کہاں ہو۔۔۔ آکسیجن خود لاکر دی مگر میرے پاپا کو نہیں بچایا گیا۔۔۔ بھارت میں کورونا کی ابتر صورتحال اور طبی عملے کی مشکلات

 
بھارت میں کورونا سے مرنے والے مریضوں کے پیارے ایسی باتیں بتا رہے ہیں جنھیں سن کر روح لرزتی محسوس ہوتی ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا دہلی کے دو بہن بھائی کے ساتھ جنھوں نے اپنے والد کو اسپتال میں داخل کرانے کے باوجود کھو دیا۔ مرحوم انیل کھنہ کی بیٹی کا کہنا ہے کہ "میں واٹس ایپ پر اپنے بابا سے بات کررہی تھی انھوں نے کہا کہ یہاں آکسیجن ختم ہوگئی ہے میں نے کہا بابا آپ فکر نہ کریں میں آکسیجن لے کر آتی ہوں۔ میں اور میرا بھائی بھاگے بھاگے سلینڈر لے کر آئے تو اسپتال والوں نے کہا کہ اکسیجن ہے لیکن اوپر جاکر دیکھا تو آکسیجن نہیں تھی"
 
میرے پاپا نے آخری میسج کیا تھا کہ کہاں ہو
انیل کھنہ کی بیٹی کہتی ہیں پاپا نے مجھے آخری میسج میں پوچھا تھا کہ کہاں ہو اور پھر وہ مر گئے۔ انیل کھنہ کے صاحبزادے کہتے ہیں کہ یہاں اسپتال میں آکسیجن لاکر دی پھر بھی میرے پاپا کو بچا نہیں سکے۔ دوسری جانب دہلی کے اسپتالوں میں طبی عملے کے حالات بھی مختلف نہیں
 
 
ہمارے کانوں میں ہر وقت آواز گونجتی رہتی ہے جیسے ایمر جینسی میں کوئی ہمیں پکار رہا ہے
یہ کہنا ہے 26 سالہ ڈاکٹر روہن اگروال کا جنھوں نے فی الحال اپنی میڈیکل کی تعلیم بھی مکمل نہیں کی ہے لیکن بھارت کے سب سے بڑے شہر دہلی کے ہولی فیملی اسپتال میں ڈاکٹر کی حیثیت سے کام کررہے ہیں اور محدود ترین وسائل ہونے کے باعث وہ خود طے کررہے ہیں کہ اس صرتحال میں کس مریض کو زندہ رہنا چاہئے اور کسے مرجانا چاہئیے۔ بھارت کا طبی نظام بری طرح ٹوٹ پاٹ کا شکار ہوچکا ہے لیکن حکومت ابھی بھی سچ بتانے سے گریزاں ہے اور سب کچھ بہت اچھا دکھانے کی کوشش کررہی ہے۔ڈاکٹر روہن کہتے ہیں کہ “ہمیں ایسا کام کرنے کو کہا جارہا ہے جو ہمارا نہیں خدا کا کام ہے ہم تو بس انسان ہیں اور چاہتے ہیں کہ سب زندہ رہیں لیکن حکومت کی طرف سے ہمیں کہا گیا ہے کہ محدود وسائل ہیں اس میں سب کو برابر کی توجہ اور علاج نہیں دیا جاسکتا“
 
 
اپنے کام کی نوعیت کے اوقات کے بارے میں ڈاکٹر روہن کہتے ہیں کہ “مجھےایک گھنٹہ نہیں ملتا کہ میں ذہنی طور پر پرسکون پوجاؤں۔ اس وقت ہمیں دو دو دن مسلسل کام کرنا پڑ رہا ہے“
 
اگر ہم کو وائرس لگ گیا تو ہمیں بھی اسپتال میں بیڈ نہیں ملے گا
ایک اور جونئیر ڈاکٹر کہتے ہیں کہ “مجھے ویکسین نہیں لگی اور میں ڈرتا ہوں کہ مجھے وائرس لگ گیا تو میرے ہی اسپتال میں مجھے علاج کے لئے بیڈ نہیں مل سکے گا کیونکہ ہم اپنی گنجائش سے بہت زیادہ مریض لے رہے ہیں۔ وسائل بہت کام ہیں اور مریض بہت زیادہ“
 
گودام میں بھی کورونا کے مریض
اسپتال میں جس کو جہاں جگہ ملتی ہے وہ مریض کو لے آتا ہے۔ بھارت کے سب سے بڑے اسپتال میں کئی دنوں سے کوئی بیڈ دستیاب نہیں اس کے باوجود اسپتال میں جگہ جگہ خود ہی بیڈ لگا کر مریض داخل کیے جارہے ہیں حتیٰ کہ وہ کمرہ جہاں میڈیکل کا کچرا وغیرہ پھینکا جاتا ہے وہاں بھی کورونا کے مریضوں کو رکھا گیا ہے۔
 
ایک نجی ادارے دا اسٹار کی بنائی گئی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر روہن اپنی شفٹ شروع ہوتے ہی سب سے پہلے کورونا کے جنرل وارڈ میں جاتے ہیں جہاں وہ کم سے کم 65 مریضوں کو دیکھتے ہیں۔ ان کے پاس ہر مریض کو دینے کے لئے مشکل سے صرف 3,4 منٹ ہوتے ہیں اس کے بعد وہ ایمرجینسی روم میں جاتے ہیں ۔
 
 
رپورٹ میں دکھایا گیا کہ ایک 74 سالہ خاتون کورونا کی وجہ سے بہت بری حالت میں ہیں۔ ڈاکٹر روہن ان کے اہلِ خانہ کو بتاتے ہیں کہ اب انھیں کسی دوسرے اسپتال میں مریضہ کو لے جانا ہوگا اور وہ کسی بھی وقت انتقال کرجائیں گی۔ اسی طرح ایک ہی خاندان کے 5 مریض لائے گئے جن میں کسی ایک کو بھی بیڈ نہیں مل سکا۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق یومیہ کورونا کے آدھے مریض صرف بھارت میں ہی ہوتے ہیں۔
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
01 May, 2020 Views: 998

Comments

آپ کی رائے