نائی اور دانائی

(Muhammad Nasir Iqbal Khan, Lahore)

میں تومعاشرے کے ایک عام" نائی "کو "دانائی" کے معاملے میں اناڑی حکمرانوں سے بہت بہتراوربرتر سمجھتاہوں۔وہ پیشہ ورانہ خدمات انجام دیتے ہوئے اپنے مہربانوں کوکئی مفت اورمفیدمشوروں سے نوازتا ہے۔دانائی کسی کی میراث نہیں ،ایک عام کسان بھی اپنی فہم وفراست اوربصیرت سے اپنے عہد کے دانشورحضرات کومستفید اورحیران کرسکتا ہے۔داناؤں کی صحبت میں انسان دانائی سیکھتا ہے جبکہ احمقوں کے ساتھ دوستی کادم بھرنیوالے خود بھی احمق بلکہ جاہل مطلق بن جاتے ہیں۔تبدیلی سرکار کیلئے دانائی یقینا شجرممنوعہ ہے لہٰذاء سیاسی طورپررسوائی اورہرمحاذ پرپسپائی حکمران جماعت کامقدربن گئی ہے ۔میں چار دہائیوں سے دیکھ رہا ہوں اقتدار کے ایوانوں میں "دیوانوں" کاراج ہے ،وہاں ـ"داناؤں" اور "دانائی" کو "رسائی" نہیں ملتی ۔اب تو"نائی "کوبھی "راجا" کہا جاتا ہے جبکہ تخت اسلام آباد پربراجمان تبدیلی سرکار کے سرخیل کوعوام ان دنوں جس طرح کے القابات سے نوازتے اورپکارتے ہیں انہیں کالم میں نقل نہیں کیا جاسکتا۔حکمران یادرکھیں اقتدار کے دوام واستحکام کیلئے آمرانہ اقدامات کرتے ہوئے "اکرام" سے محروم ہوجاناسراسرخسارہ اور گھاٹا ہے ۔اس انسان سے زیادہ بدقسمت کون ہوگا جوحکومت کرتے کرتے اپنے عوام میں اپنی بچی کھچی عزت گنوا بیٹھے،ان نادان حکمرانوں نے اپنے ساتھ ساتھ ریاستی اداروں اورمحکموں کی عزت بھی تار تارکردی ۔معلوم نہیں ہمارے ہاں اقتدار میں آنیوالی سیاسی اشرافیہ کی مت کیوں ماری جاتی ہے،ان کی عقل پرپردے کیوں پڑ جاتے ہیں۔انہیں خوشامد اورچاپلوسی کاچسکا کیوں پڑجاتا ہے۔ہمارے ہاں منتخب اورغاصب حکمران کانوں کے کچے کیوں ہوتے ہیں۔یہ ان کرداروں کواپنا مشیربناتے ہیں جوانہیں مناسب مشورہ تک نہیں دے سکتے۔امورریاست اورامورسیاست کے بارے میں اپنے جہاندیدہ اورسنجیدہ سیاسی اتحادیوں کی بجائے ایک خاتون خانہ سے مشورے کرنیوالے حکمران زندگی بھر بندگلی سے باہرنہیں نکل پاتے۔این اے249کراچی میں تبدیلی سرکار کی کرچیاں کوئی نہیں سمیٹ سکتا۔این اے249کے ووٹرز نے تحریک لبیک پرپابندی کاآمرانہ اقدام مستردکردیا ۔

بڑے بڑے تعلیمی اداروں میں زیرتعلیم رہنے اورنامور رائٹرزکی کتب کامطالعہ کرنے کے باوجودتعلیم نے ہمارے حکمرانوں اور بعض حکام کاکچھ نہیں بگاڑا ۔کپتان اپنے پیشرووزیراعظم نوازشریف اورشہبازشریف کوشعبدہ بازکہتا ہے لیکن موصوف نے خود بھی شروع دن سے اب تک شعبدہ بازی،شوبازی ،بیان بازی اور"بلے بازی" کے سوا کچھ نہیں کیا۔حکومت اورتحریک لبیک کے درمیان حالیہ تناؤ اورتصادم کے نتیجہ میں پرتشدد واقعات نے بیڈگورننس کا بھانڈا پھوڑدیاہے۔اپنے جذبات کے اسیرحکمرانوں کاانتقامی رویہ بدانتظامی اورملک وقوم کی بدنامی کاسبب بنا۔تبدیلی سرکار میں اوپر سے نیچے تک رواداری اوربردباری کافقدان جبکہ ان کاہردوسراوزیر بدزبان اوربزدار ہے،کپتان سمیت ان کا کوئی ٹیم ممبر بردبار نہیں ۔کسی بھی ریاست اورمعاشرے کیلئے بدزبان عناصربدعنوان افراد سے زیادہ بدتربلکہ معاشرے کیلئے بوجھ ہوتے ہیں۔ تحریک لبیک کے حامی اپنے آقا حضرت محمدرسول اﷲ خاتم النبین صلی اﷲ علیہ وآلہ واصحبہٰ وسلم کے فدائی اور ناموس رسالت کی حفاظت کے داعی ہیں لہٰذاء دونوں جہانوں میں ان کامستقبل روشن ہے۔دوسروں کی طرح انہیں بھی پرامن احتجاج کرنے کاحق حاصل ہے ۔اپناچارٹرآف ڈیمانڈ منوانے کیلئے دھرنے پربیٹھنا کوئی گناہ نہیں تاہم توڑ پھوڑ ،تشدد اورجلاؤگھیراؤ میں ملوث عناصر قابل رحم نہیں ہیں،ان کی شناخت کے بعد انہیں گرفت میں لیاجائے لیکن اس آڑ میں عام شہریوں کوہراساں اورانہیں گرفتارکرناقانون شکنی کے مترادف ہے۔حکومت کیلئے دھرنے کے پرامن شرکاء اورپرتشدد واقعات میں ملوث افراد میں تفریق کرنا از بس ضروری ہے۔حکومت کاانہیں ایک لاٹھی سے ہانکنا بدترین حماقت اورانتظامی جہالت کے زمرے میں آتا ہے۔

دھرنے پر باضابطہ بیٹھنے والے تحریک لبیک کے کارکنان یا مقامی آبادیوں کے وہ لوگ جوآتے جاتے کچھ دیروہاں رک کر صورتحال کامعائنہ کر تے رہے ان دونوں طبقات میں زمین آسمان کافرق ہے لہٰذاء کارکنان کی گرفتاریوں کاجوازتوسمجھ آتا ہے لیکن عام شہریوں کیخلاف سی سی ٹی وی فوٹیج یاسپیشل برانچ کے اہلکاروں کی طرف سے بنائی جانیوالی متنازعہ فہرست میں نام آنے کی بنیادپرکریک ڈاؤن ماورائے قانون اقدام ہے۔گلی ،محلے ،چوک میں یاپھرکسی شاہراہ پرکچھ ہورہا ہو تووہاں رکنا ہمارے شہریوں کی فطرت ہے۔کسی مقام پرکوئی حادثہ ہوجائے تووہاں شہریوں کااجتماع 1122کے اہلکاروں کی امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ بن جاتا ہے ۔جہاں کوئی مداری اپنے بندر اورکتے کے ساتھ تماشاکررہا ہوتووہا ں بھی دوتین سولوگ اکٹھے ہوجاتے ہیں۔کسی شاہراہ سے کوئی ریلی یاجلوس گزرے تومقامی لوگ اورشاہراہ سے ملحقہ دکانوں کے ٹریڈرز بھی معائنہ کرنے کیلئے فٹ پاتھ پرکھڑے ہوجاتے ہیں اورکیمرہ انہیں بھی ریلی اورجلوس کاحصہ سمجھتا ہے ۔اگردھرنے پربیٹھنا جرم ہے توپھر اس وقت شریک اقتدار کئی اہم شخصیات بھی مجرم ہیں لہٰذاء انہیں بھی گرفتاراوران کاٹرائل کیاجائے۔

حکومت منصفانہ اورآزادانہ تحقیقات کے بعد صرف ان شرپسندعناصر کی گرفتاری یقینی بنائے جوپرتشددواقعات میں براہ راست ملوث ہیں۔جس طرح نیب حکام معاشرے کے بدعنوان عناصر کو تحقیقات کیلئے طلب کرنے سے قبل سوالنامہ بھجواتے ہیں ا س طرح ناموس رسالت سے مقدس کاز کیلئے دھرنے کے شرکاء کو براہ راست گرفتارکرنے کی بجائے انہیں بھی سوالنامہ اورحلف نامہ بھجوایاجائے جوسچا عاشق رسول ؐ ہوگا وہ اپنے بچاؤکیلئے جھوٹ کاسہارا نہیں لے گا۔اوّل تو جولوگ ناموس رسالت کیلئے آواز اٹھاتے اورپرامن احتجاج کرتے ہیں ان کیخلاف مزاحمت کی بجائے ان کے ساتھ مکالمے اورمفاہمت کی ضرورت ہے لہٰذاء ان کی گرفتاریوں سے اجتناب کیاجائے۔جس طرح ریاست نے ایک ماں کی طرح بلوچستان میں پہاڑوں سے اترنے والے ناراض نوجوانوں کو اپنے سینے سے لگایا اس طرح ناموس رسالت کے پروانوں اوردیوانوں کوبھی درگزرکیاجائے ،تاہم جو شرپسند عناصردھرنوں کی آڑ میں ریاست کی رِٹ اورتحریک لبیک کی شہرت پرشب خون مارنے میں ملوث رہے ہیں ان میں سے ہرایک قرارواقعی سزاکامستحق ہے ۔ہمارے ہاں پسندناپسند، نفرت اورعداوت یاپھر رشوت کی بنیاد شہریوں کوبوگس مقدمات میں نامزدکرنے کاسلسلہ بہت پرانا ہے ۔حکمران اورحکام یادرکھیں سانحہ ساہیوال بھی اُس شخص کی ذاتی عناداورعداوت کاشاخسانہ تھا ،جس نے سی ٹی ڈی کوگمراہ کیا اوران کے ہاتھوں انہونی ہوگئی جبکہ تبدیلی سرکار اورپنجاب پولیس کوکٹہرے میں کھڑاہونا پڑا لہٰذاء سپیشل برانچ کے اہلکاروں کی طرف سے بنائی جانیوالی فہرست کوئی آسمانی صحیفہ نہیں ہے۔

تبدیلی سرکار کے آشیر باد سے ناموس رسالت کے پہریداروں کیخلاف کریک ڈاؤن کی آڑ میں پولیس اہلکاروں کا چادروچاردیواری کاتقدس پامال کرنا ہرگزجائز نہیں ہے ۔میں پاکستان مسلم لیگ (قائداعظمؒ)پنجاب کے ممتاز ومستعدرہنما ء ،انٹرنیشنل ہیومن رائٹس پنجاب کے متحرک صوبائی صدر،منفرداسلوب کے قلم کار اورکتب فروش محمدیونس ملک کوکئی دہائیوں سے بہت اچھی طرح سے جانتا ہوں،وہ چاردہائیوں سے شنگھائی پل فیروزپورروڈکے پاس مقیم اورمقامی شہریوں میں بہت مقبول ہیں ۔محمدیونس ملک اپنے گھر آتے جاتے ہوئے شنگھائی پل فیروزپورروڈ کے پاس سے گزرتے ہیں اوراس دوران ایک روز"ابزرور" کی حیثیت سے وہاں تحریک لبیک کے دھرنے کامعائنہ کرنے کیلئے کچھ دیروہاں کھڑے ہوگئے تواس پاداش میں سپیشل برانچ کے متعصب اہلکاروں نے ان کانام بھی متنازعہ فہرست میں درج کر لیا جس کے بعد18اپریل کولاہورپولیس کے نامعلوم اہلکاروں نے محمدیونس ملک کی گرفتاری کیلئے چادروچاردیواری کاتقدس پامال اوران کے بیوی بچوں کوہراساں کیا۔تحریک لبیک سے کوئی وابستہ ہویا نہ ہو لیکن ناموس رسالت کی حفاظت کاصادق جذبہ ہرمسلمان کے ایمان کی بنیاد ہے،جس کسی مسلمان میں ناموس رسالت کی خاطر خود کوفناکرنے کاحوصلہ نہیں اس کاایمان کمزورہے۔اگرمحمدیونس ملک سے نیک نام اور معاشرے کیلئے مفید لوگ اپنے محافظوں کی طرف سے اس طرح کی مجرمانہ روش سے محفوظ نہیں توپھر عام آدمی کے ساتھ کیا کچھ ہوتا ہوگااس کاتصور بھی نہیں کیاجاسکتا۔قوی امید ہے لاہور کے پروفیشنل اور انصاف پسندسی سی پی او غلام محمودڈوگر کی خصوصی دلچسپی اور براہ راست مداخلت کے نتیجہ میں سپیشل برانچ کی متنازعہ فہرست کا دوبارہ جائزہ اور صرف پرتشدد واقعات میں ملوث شرپسندعناصر کو گرفت میں لیاجائے۔منتقم مزاج حکمرانوں کے نام نہاد انتظامی بلکہ انتقامی اقدامات سے امن پسند اورقانون کی حکمرانی کے حامی شہری اپنی حفاظت پرمامور سکیورٹی فورسز سے متنفر اوربیزار ہورہے ہیں ، اناڑی حکمران اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے سکیورٹی فورسز کومتنازعہ بناتے ہوئے عوام کے قلوب میں سرکاری اداروں اوراہلکاروں کیخلاف نفرت کی فصل کاشت نہ کریں۔میں توپولیس حکام اوراہلکاروں کوبھی معتوب ومغلوب سمجھتا ہوں کیونکہ ایک ڈسپلن فورس کی حیثیت سے یہ ارباب اقتدار کے نجی مفادات کی حفاظت جبکہ ناجائز احکامات کی بجاآوری سے انکاراورانہیں قانون کی زبان میں گائیڈ نہیں کرسکتے کیونکہ ہمارے مشورہ نہیں لیا جاتا بلکہ حکم دیاجاتا ہے۔اناڑی اورمنتقم مزاج حکمران اپنی محدودسوچ اور سوجھ بوجھ کے مطابق فیصلے کرتے اور حکم دیتے ہیں جبکہ بدنامی اورناکامی پولیس کامقدربن جاتی ہے لہٰذاء پولیس کو اپنی نیک نامی اورکامیابی وکامرانی کیلئے قانون کے دائرہ کارمیں رہتے ہوئے حکمرانوں کی بدانتظامی کیخلاف آبرومندانہ مزاحمت کرنا ہوگی ۔نیک نام محمدعلی نیکوکارہ کی طرف ناکارہ نظا م اورہرناجائزاحکام کی اطاعت سے انکارکرناہوگاکیونکہ کوئی ریاستی ادارہ یامحکمہ اپنے ہم وطنوں کی بیزاری، بداعتمادی اوربددلی کامتحمل نہیں ہوسکتا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Nasir Iqbal Khan

Read More Articles by Muhammad Nasir Iqbal Khan: 90 Articles with 29896 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 May, 2021 Views: 167

Comments

آپ کی رائے