کس ۔۔۔۔۔نے تمہیں اے سی لگایا؟

(Imran Amin, )

ایک استانی نے اپنی کلاس کے بچوں کو ایک نامکمل فقرہ دیا جس کو ہر بچے نے اپنی اپنی سوچ کے مطابق مکمل کیا۔نامکمل فقرہ یہ تھا’’ہر بڑے آدمی کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے‘‘۔اب آپ بچوں کے مندرجہ ذیل جوابات دیکھیں۔
ہر بڑے آدمی کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے پھر بھی وہ بڑا آدمی بن جاتا ہے۔
ہر بڑے آدمی کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے جس سے ہوشیار رہنا بہت ضروری ہے۔
ہر بڑے آدمی کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے جسے یہ علم نہیں ہوتاکہ اُس کے آگے کھڑا آدمی واقعی ایک بڑا آدمی ہے۔
ہر بڑے آدمی کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے جو اُس پر ہمیشہ شک کرتی ہے۔
ہر بڑے آدمی کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے جو یہ سوچ کر حیران ہوتی رہتی ہے کہ دنیا اس بے وقوف آدمی کوبڑا آدمی کیوں کہتی ہے۔
ہر بڑے آدمی کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے جو اُس کے کان میں کہتی رہتی ہے کہ میرے بغیر تم کچھ بھی نہیں ۔
ان سب جملوں میں سب سے جاندار جواب یہ تھا
ہر بڑے آدمی کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے جو دوسری عورتوں کو اس کے قریب پھٹکنے نہیں دیتی۔
مگر ہمارے جاندار پنجاب کی صحت مند خاتون وزیر نے اپنے طرز عمل سے ثابت کیا ہے ’’ہر بڑے آدمی کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے جو اس کو کامیاب نہیں ہونے دیتی‘‘۔عمران خان بے شک ایک بڑے آدمی ہیں اور کھیل کی دنیا میں نام کمانے کے بعد اب سیاست کی دنیا کے کنگ بنے بیٹھے ہیں۔اُن کی سیاسی بصیرت اور سوچ سے اختلاف کیا جاسکتا ہے،نالائقی اور بد انتظامی پر بات کی جا سکتی ہے،ذاتی غلط فیصلوں کے انبار پیش کیے جا سکتے ہیں،سیلیکٹڈ اور نان سیلیکٹڈ پر اظہار خیال کیا جا سکتا ہے،وسیم اکرم پلس کی بلا جواز حمایت پر اعتراضات اٹھائے جا سکتے ہیں، ٹی ایل پی کے ساتھ ناروا سلوک پر دلائل مانگے جا سکتے ہیں،پارٹی کی تنظیم سازی کو نظر انداز کرنے کی وجوہات تلاش کی جا سکتی ہیں مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایک بڑے آدمی ہیں مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس بڑے آدمی کو کامیاب نہ بنانے میں کون کون سے عوامل کارفرما ہیں؟۔ان عوامل کو جاننے کے لیے ہمیں شاید زیادہ تردد نہ کرنا پڑے کیونکہ محترمہ فردوس عاشق اعوان کا اے سی سیالکوٹ سونیا صدف کے ساتھ ناروا سلوک اور فرعونیت والا لب ولہجہ ہی بتانے کے لیے کافی ہے کہ’’بڑا آدمی کامیاب کیوں نہیں ہے‘‘۔ہمارا مذہب اسلام جس کی بنیادی تعلیمات میں انسانوں سے اچھا سلوک شامل ہے اور قرآن پاک میں آتا ہے ’’نبی پاک ﷺ کی ذات تمہارے لیے بہترین اسوہ حسنہ ہے‘‘۔جن کو خالق کائنات نے خلق عظیم کا لقب دے دیا ہو، جن کی پوری زندگی قرآن کی ترجمانی کرتی ہو،جن کے اخلاق حسنہ پر علماء مغرب کی بھی شہادتیں موجود ہو۔آپ ﷺ نے دنیا کے سامنے اخلاق کا وہ نمونہ پیش کیا کہ آپ کے جانی دشمن ابو سفیان کو بھی قیصر روم کے دربار میں آپ کے اعلیٰ اخلاق کا اعتراف کرنا پڑا۔ایک جنگ کے بعد دربار رسالت میں حاتم طائی کی بیٹی ننگے سر پیش ہوئی تو آپﷺ نے صحابہ کو اپنی چادر دے کر کہا ’’بیٹی تو بیٹی ہوتی ہے چاہے دوست کی ہو یا دشمن کی ،اس بچی کا سر ڈھانپ دو‘‘۔آپﷺ پر کوڑا پھینکنے والی بیمار ہوئی تو خیریت پوچھنے گھر چلے گئے۔یاد رہے کہ ہمارا دین جہاں عام آدمی کے لیے اخلاقیات کے اعلیٰ مدارج کا تعین کرتا ہے وہاں حکمران طبقے کے لیے تو اخلاقیات کے مزید اعلیٰ درجے بتائے گئے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں جب برصغیر میں برطانو ی سامراج حکومت کرنے آیا تو اس خطہ میں اپنی حاکمیت اور بالادستی کو قائم رکھنے اور انگریز افسروں کا عوام میں رُعب جمانے کے لیے مختلف قوانین اور حربے استعمال کیے اور ہمیشہ گورے افسروں اور کالے فرمانبردار ماتحتوں کو اعلیٰ درجے پر رکھا اور مقابلے میں عام عوام کو کیڑے مکوڑوں کی سی حیثیت دی ۔ان گورے اور ذہنی غلام کالے فرمانبردار افسروں کو اتنے اختیارات دئیے گئے کہ وہ سیاہ و سفید کے مالک بن بیٹھے جبکہ وسری طرف غریب عوام افسران کے در کے غلام بن گئے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ستر سال کی آزادی کے بعد بھی حالات جوں کے توں ہیں۔
نکلی نہیں ذہنوں سے ابھی خوئے غلامی
۔۔۔آزاد وطن، اتنا بھی آزاد نہیں ہے

یہ بات قابل توجہ ہے کہ ان خامیوں کو دور کرنا کس کی ذمہ داری ہے؟۔حکومت وقت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ کسی بھی معاشرے کوبہترین اعمال کی آماجگاہ بنائے اور اس کام کے لیے سب سے پہلے خود حکومت کو خود احتسابی عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔اپنے گھر کو دوسروں کے لیے قابل تقلید بنانا پرتا ہے تاکہ سزا و جزا کے عمل کے اثرات کے تحت باقی ادارے بھی اپنی اصلاح خود کر لیں وگرنہ حکومت اپنے طور پر اقدامات اُٹھانے کی پابند ہوگی مگر افسوس اس بات کا ہے کہ موجودہ حکومت نے اپنے انتخابی نعرے کو نظرا نداز کرتے ہوئے اداروں کی اصلاح کے لیے ابھی تک کوئی بھی اقدامات نہیں اُٹھائے جبکہ اس حکومت کے وزراء اپنے نامناسب بیانات اور رویوں کی وجہ سے پہلے دن سے ہی اپنی حکومت کو مشکل میں ڈالتے رہے ہیں۔ایک خاتون وزیر محترمہ زرتاج گل کے شگوفوں کی تازگی کا احساس ابھی کم نہیں ہوا کہ جو موسمی حالات کی خوشگوار تبدیلی کو مسکراہٹ عظیم کا شاخسانہ قرار دے چکی ہیں اور ساری دنیا میں ان کے COVIDپر پیش کیے جانے والے 16 نکات کابھی خوب چرچا رہا ہے ۔اب نئی قسط میں آپا فردوس عاشق اعوان نے اپنی آمد کا بگل بجا دیا۔پس ثابت ہوا کہ ’’بڑا آدمی کامیاب کیوں نہیں ہے اور نہ ہوگا کیونکہ اس کے پیچھے ایک نہیں بلکہ کئی عورتوں کے ہاتھ ہیں‘‘۔

ضروری نوٹ:اپنے ملک کی خواتین سے معذرت کے ساتھ کیونکہ اس کالم میں صرف نالائق خواتین کا تذکرہ ہے جبکہ کامیاب خواتین میں محترمہ سونیا صدف جیسی دیگر شامل ہیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Imran Amin

Read More Articles by Imran Amin: 41 Articles with 9853 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 May, 2021 Views: 139

Comments

آپ کی رائے