میرا اسلامی نام ولید ہے... دنیا کے 4 مشہور کرکٹر جنہوں نے اپنے کیریر کے عروج پر اسلام قبول کیا

image
 
اگرچہ کرکٹ ایک ایسا کھیل ہے جس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے مگر دنیا بھر میں اس کھیل کی مقبولیت کے سبب اس کو کھیلنے والے کھلاڑیوں کی شہرت ان کو سیلیبریٹی بنا دیتی ہے اور ان کا ہر ہر عمل دیکھنے والوں کے لیے ایک مثال بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے افراد کی مذہب کی تبدیلی بھی ایک بڑی خبر کی صورت میں سامنے آتی ہے۔
 
1: وائن پارنل
وائن پارنل کا تعلق جنوبی افریقہ کی قومی ٹیم سے تھا اور وہ اس میں بطور فاسٹ بالر کھیلتے رہے ہیں ۔ جنوبی افریقہ کی ٹیم میں ہاشم آملہ اور عمران طاہر بطور مسلم کھلاڑی کھیل رہے ہیں جن کے ساتھ وائن پارنل کی دوستی کسی سے ڈھکی چھپی نہ تھی- وائن پارنل خصوصاً ہاشم آملہ کے بہت قریب تھے کھیل کے دوران ان کو ہاشم آملہ کے ذریعے اسلام سے تعارف حاصل ہوا۔ وائن کا تعلق اس سے قبل عیسائی مذہب سے تھا انہوں نے 30 جولائی 2011 کو باقاعدہ طور پر اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا۔ اور ان کا اسلامی نام ولید رکھا گیا- اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اس بات کا بھی اقرار کیا کہ ان کا اپنے آبائی مذہب کو چھوڑ کر اسلام قبول کرنے کا فیصلہ ان کا ذاتی ہے اور اس میں ان کے کسی ساتھ کا کوئی عمل دخل نہیں ہے-
image
 
2: یوسف یوحنا
پاکستانی ٹیم کے سابقہ کھلاڑی یوسف یوحنا کا تعلق عیسائی مذہب سے تھا۔ کھیل کے دوران ان کا تعلق مشتاق احمد اور انضمام الحق سے ہوا جو کہ تبلیغی جماعت کا حصہ تھے- ان کی وساطت سے ہی یوسف یوحنا نے بھی تبلیغی جماعت کے اجتماعوں میں شرکت شروع کر دی۔ اور ان کی تعلیمات سے اس حد تک متاثر ہوئے کہ انہوں نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کر لیا- یوسف یوحنا نے سال 2005 میں اسلام قبول کیا اور ان کا اسلامی نام محمد یوسف رکھا گیا ۔ ابتدا کے کچھ مہینوں میں انہوں نے اپنے اسلام قبول کرنے کو خانداںی مسائل کے سبب پوشیدہ رکھا۔ مگر اس کے بعد ان کی بیوی تانیہ نے بھی ان کے ساتھ اسلام قبول کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا اور ان کا نام فاطمہ رکھا گیا۔ حالیہ دنوں میں محمد یوسف ایک باریش باعمل مسلمان کے طور پر اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں-
image
 
3: بکاش رانجھن داس
بکاش کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے۔ ان کا تعلق ہندو مذہب سے تھا ۔ بنگلہ دیش کی پہلی ٹیسٹ میچ کی ٹیم کا حصہ تھے ۔ ٹیم میں شامل ہونے کے کچھ عرصے بعد ہی انہوں نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کیا اور ان کا نام محمود الرحمن رانا رکھا گیا-
image
 
4: بی جورن فارٹین
بی جورن کا تعلق ساوتھ افریقہ کی قومی ٹیم سے ہے۔ اپریل 2021 میں اس 26 سالہ کھلاڑی نے اپنے انسٹا گرام اکاونٹ کے ذریعے باقاعدہ طور پر اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا۔ یہ اعلان انہوں نے اپنی شادی کے موقع پر کیا انہوں نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ ان کی ہونے والی بیوی نے بھی ان کے ساتھ اسلام قبول کیا ہے- ان کا اسلامی نام عماد رکھا گیا ۔ فارٹین اس سال پاکستان کے خلاف کھیلنے والی ٹی 20 سیريز کا بھی حصہ تھے۔
image
YOU MAY ALSO LIKE: