والدین کی رضامندی کیسے حاصل کی جائے ؟،

(Muhammad Saleem afaqi, Peshawar)

 قدرت کی طرف سےوالدین کسی انمول تحفہ ،عظیم سرمایہ اور نعمت کبریٰ سے کم نہیں جس کی جتنی بھی خدمت کی جاۓ کم ہے ۔ جس طرح بچوں کے حقوق والدین پر ہوتے ہیں بلکل اسی طرح والدین کے حقوق بھی بچوں پر ہوتے ہیں وہ والدین جو بچوں کو آسمان سے زمین پر لاۓ ان کی پیدائش پرطرح طرح کی تکالیف و مشقتیں جھیلیں دن بھر کی محنت مزدوری کرکے ان کا پیٹ پالا ان کی تکلیف کو اپنی تکلیف پر مقدم جانا اور زمانے کے نشیب و فراز کی پرواہ کئے بغیر انہیں پالا پوسا ان کی چھو ٹی چھوٹی تمنناؤں سے لیکر بڑی بڑی خواہشات کو پورا کیا اور نہ جانے کیا کیا پاپڑ بیلے ۔اسی لئے بچوں پر لازم ہے کہ وہ والدین کے ساتھ انتہائ نرمی کے ساتھ پیش آئیں اور ان کں سخت باتوں کا جواب بھی احسن طریقے سے دیں ایک د فعہ کا ذکر ہے کہ ایک والد اپنے بیٹے کے ساتھ راستے پے جا رہا تھا اس نے بیٹے سے پوچھا کہ درخت پر کیا بیٹھا ہوا ہے بیٹےنے جواب دیا طوطا ، دوبارہ استفسار کیا تو بیٹے نے قدرے سخت لہجے میں جواب دیا، جب تیسری مرتبہ پوچھا تو برخوددار آگ بگولہ ھو گیا اور کہنے لگا کہ سو مرتبہ تو بتایا ہے طوطا طوطا۔۔۔۔۔۔طوطا لیکن آپ کو سمجھ ہی نہیں آتی خدا کے لیے خاموش ہو جاؤ اور میرا سکون برباد نہ کرو۔۔والد نے جب بیٹے کا پارہ چڑہے ہوۓ دیکھا تو روتے ہوۓ گویا ہوۓ بیٹا آج سے تیس سال پہلے ہم اسی راستے پر جا رہے تھے ۔تم میرے کندھے پر سوار تھے جب آپ نے طوطا دیکھا تو لگا تار مجھ سے یہی سوال کیا تھا بابا درخت پر کیا بیٹھا ہے میں نے خوشی سے جواب دیا تھا طوطا اور پھر آپ نے بار بار پوچھا تھا اور میں نے ہر بار اتنے ہی پیارسے جواب دیا تھا میں نے تمہاری محبت کو آزمانا تھا۔ بیٹا باپ کی منطق پر شرمسار ہوا۔ اسی لئے اولاد پر یہ فرض عائد ھوتا ہے کہ والدین کے سامنے ادب سے بیٹھیں اور ان کی باتوں کو توجہ سے سنیں ان کی باتوں کو کاٹیں اور نہ ہی سنی ان سنی کریں۔والدین کی باتوں کو حکم کا درجہ دیں۔ان پر عمل کریں۔اپنی آوازکو والدین کی آواز کے سامنے پست رکھیں ان کے سامنے سنجیدہ رہیں ۔ ان کے ساتھ بد اخلاقی سے بات ہر گزنہ کیئجے۔والدین کی مسرت کو اپنی خوشی پر مقدم جانیں۔ماں باپ کے سامنے موباٰئل فون استعمال نہ کریں اور فون پر غیر ضروری کال ڈراپ کردیں اور اگر ضروری ہو تواجازت لیکر کال کریں والدین سودا سلف کے لئے پیسے دیں تو بازار سے واپسی پر خود ہی بقایا بھی لوٹا دیں اور حساب بھی دے دیں۔ ماں باپ سے ہر وقت پیسوں کا تقاضا نہ کریں بلکہ ضرورت کے مطابق ان سے لیکر خرچ کریں اور بچت کی عادت ڈالیں۔گھر سے باہر جائیں تو ان سے اجازت لے کر جائیں اور اتنے ہی ٹائم میں واپس آ جائیں اور اگر اجازت نہ ملے تو ضد نہ کریں اور ہنسی خوشی ان کا فیصلہ تسلیم کر لیں۔مہمانوں کے سامنے تو پیسے بلکل ہی نہ مانگیں۔جب گھرمیں مہمان آجائیں تو ایک سائیڈ پر بیٹھ کر والدین کے حکم کا انتظار کریں ۔مہمانوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا نہ کھائیں بلکہ ان کی خدمت کریں۔اپنے والدین کے پیشے پر فخر کریں اور ان کا ہاتھ بٹائیں۔والدین کے عزیز رشتہ داروں ،احباب کے ساتھ بھی ادب کے ساتھ پیش آئیں۔اپنے گھر کی باتیں گھر سے باہر ڈسکس نہ کریں اور باہر کی قابل ذکر باتیں والدین کے نوٹس میں لانے سے گریز نہ کریں۔والدین کے موبائل،پرس،لیپ ٹاپ وغیرہ میں ہاتھ نہ ماریں بلکہ اگر ضرورت ہو تو اجازت لیکراستعال کرنا چاہیے۔جب ماں باپ فارغ ہوں تو ان کو سکول کی ڈائریاں د کھائیں ان پر دستخط لینا نہ بھولیں اگر سکول کی طرف سے والدین کے لئے پیغام ہو تو پہلی فرست میں شئیر کریں۔ والدین کی مجودگی میں خود کو تھکا ہوا اور بور محسوس نہ کرین بلکہ فریش فریش رہیں تا کہ والدین آپکو دیکھ کر خوش رہیں اور بوریت کا احساس نہ ہونے پائے ۔ یہ بھی ضروری ہے کہ والدین کے سامنے خود کو نمایاں نہ کریں جب وہ خود کو کسی قابل نہ سمجھیں تو ان کو بتائیں کہ وہ آپ کے لۓ کتنے زیادہ اہم ہیں۔ماں باپ کے سامنے بیٹھتے ہوئے اپنے پاؤں مت پھیلائیں اور نہ ہی ان کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھیں۔ان کی صحت کا خیال کیجئے۔ان کے سامنے شور شرابہ، میوزک نہ لگائیں بلکہ ان کے آرام کا خاطر خواہ خیال رکھیں اگر کوئ سخت بات کہ بھی دیں جو آپ کو ناگوار گزرے تو مسکرا کر اپنا مؤقف رکھیں۔اپنے ماں باپ کے کمرے کی صفاٰئ کا خاص خیال رکھیں اور ان کے کمرے میں بغیر اجازت نہ جائیں۔اکثر بچے والدین سے خدمات لیتے ہیں بلکہ بڑے بچوں کو چاہیے کہ اپنے کھانے پینے کی سروس خود کریں اور گزرتے لمحات کے ساتھ اپنے والدین کے دست بازو بنیں۔ حقیقت یہ ہےکہ اولاد اپنے بوڑھے والدین کا سہارا ہوتی ہے لہذا خودکفیل اولاد پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کی مالی ضروریات کا مکمل خیال رکھےبالخصوص جب وہ ضرورت مند ہوں ۔ والدین کو بھی چاہیے کہ اپنےبچوں کو سکھائیں کہ ماں کے حقوق کیا ہیں والد کےحقوق کیا ہیں بچوں کے حقوق کیا ہیں اس سلسلے میں اپنی اولاد کی تربیت کریں کبھی کسی عالم فاضل کو گھر بلا کر اس سلسے میں بات چیت بھی کی جا سکتی ہے انٹرنیٹ پر لیکچر بھی سنا جا سکتا ہے سچ پوچھئے تو والدین کی رضا میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کی رضا ہے اسی لئے قرآن کریم میں والدین کے حقوق کی تاکید کی گئی ہے سچ پوچھیئے تو اسی میں ہی دنیا میں سکون،عزت اور خوش حالی ہے اور آخرت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کامیابی ہی کامیابی ہے۔جب کہ نافرمانی کی صورت میں رسوائ ہی رسوائ ہے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Saleem Afaqi

Read More Articles by Muhammad Saleem Afaqi: 18 Articles with 18918 views »
PhD Scholar in Education
MA International Relations
MA Political Science
MA Islamiyat
.. View More
26 Jun, 2021 Views: 517

Comments

آپ کی رائے