زندگی کا گھوڑا موت کا ساتھی

(Azra Faiz, Wah)

میں موت ہوں۔لوگ مجھے زندگی کا دشمن بلکہ قاتل سمجھتے ہیں جبکہ میں زندگی کی ساتھی ہوں ۔میں ہر پل اس کے ساتھ رہتی ہوں ۔میں تب بھی اس کے ساتھ ہوتی ہوں جب انسان خون کا ایک قطرہ تھا ۔پھر ان قطروں سے لوتھڑا بنا تب بھی۔۔ ۔اور تب بھی جب اس لوتھڑےپر ہڈیا ں اور ہڈیوں پر گوشت بنا اور یہ انسان زندگی کے گھوڑے پر سوار ہوکر زندگی کی دوڑ میں چلا میں تب بھی اس کے ساتھ تھی ایک ٹائمر کی طرح ٹِک ٹِک کرتی اپنی موجودگی کا احساس دلاتی۔انسان جتنا بھی زنگی کے میدان میں بھاگے میں اس کے ساتھ بھاگتی ہوں ۔پھر کوئی تو میرے خوف میں مبتلا ہوکر مجھ سے پیچھا چھڑانے اور چھپنے کے سو جتن کرتا ہے اور کوئی میری ٹک ٹک کی آ واز سے پریشان ہوکر کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتا ہے ۔۔ ۔۔اور کچھ بہرے ہوجاتے ہیں عقل سے ان کو میری ٹک ٹِک سنائی نہیں دیتی۔ ۔ ۔ ۔ لیکن یہ بے عقل ہیں ۔۔۔نادان ۔۔جبکہ عقل والے میری ٹِک ٹِک پر کان دھرے رکھتے ہیں ۔۔میری موجودگی کا احساس ہر پل رکھتے ہیں ۔اس لئے وہ زندگی کے گھوڑے پر سوار ہوکر بلا سبب اندھوں ،بہروں کی طرح بھاگتے نہیں رہتے بلکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ صرف بھاگنا جیت نہیں اور فاصلے اور وقت کا ٹائمر تو بج ہی رہا ہے تو پھر صحیح راستے کا تعین کیوں نہیں ۔ایسے میں عقل والے رک کر زنگی کی میپ بک اٹھاتے ہیں ۔قرآن پاک ایک ایسی میپ بک ہے جو انہیں صحیح راستے کی رہنمائی دیتی ہے ۔۔راہ میں آنے والی مشکلات ،دشمن سے بچنے کے طریقے ۔۔ بھٹکنے کی صورت میں مدد ۔۔ اور دشمن سے لڑنے والے ہتھیار کا علم۔۔۔ اس میپ کے مطابق زندگی کے گھوڑے کا خیال ۔اس کا استعمال کا طریقہ کار وضح کرتی ہے اور پھر جس نے زندگی کے گھوڑے کو اس کتاب کے متابق چلایا اس کا اختتام بھی مجھ پر اور جس نے نہیں چلایا اس کا بھی مجھ پر لیکن جو کتاب کے مطابق میری آغوش میں آیا اس کے لئیے تو انعامات کی بارِش ۔مزے۔نہ ختم ہونے والی خوبصورت ،آرام دہ زندگی اور افسوس جس نے میرے ہونے کو بھول گیا ۔بے سب بھاگتا رہا ،غورو فکر نہ کیا میری آغوش میں آنے کے بعد نہ ختم ہونے والی آگ اور درد سے بھری زندگی اور ہمیشہ کا خسارا ۔۔ افسوس صد افسوس
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: azra faiz

Read More Articles by azra faiz: 41 Articles with 51049 views »
I belong to a baloach family .I born in a village ,got my primary education under a tree and higher education from the well reputed institute in Karac.. View More
03 Jul, 2021 Views: 315

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ