ان بچوں کو مٹی میں اس لیے دبایا کہ--ضلع جھل مگسی میں دو بچوں کی مٹی میں ڈھکی وائرل تصاویر کے پیچھے اصل کہانی کیا ہے؟

 
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع جھل مگسی سے دو بچوں کی ایسی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر ہوئیں ہیں جن کے سر کے سوا ان کا پورا جسم مٹی میں ڈھکا ہوا تھا، جس سے فوری طور پر دیکھنے والوں کو یہ لگا کہ شاید کسی مذہبی یا علاقے کے مخصوص رسم و رواج کے طور پر ان کے دھڑوں پر مٹی ڈالی گئی ہو۔
 
لیکن ان بچوں کے چہروں سے ایسا نہیں لگ رہا تھا بلکہ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کسی شدید صدمے سے دوچار ہیں۔
 
جھل مگسی کی تحصیل گنداوہ کے تحصیلدار ہادی بخش نے بتایا کہ دو جولائی کو دونوں بچے بجلی کے کرنٹ لگنے کے باعث زخمی ہو کر بے ہوش ہو گئے جبکہ ان کا ایک اور ساتھی ہلاک ہو گیا۔۔
 
ہادی بخش کا کہنا تھا کہ اپنے پیاروں کو بچانے کے لیے والدین کے ذہن میں فوری طور پر جو آیا انھوں نے وہی کیا اور ہسپتال لے جانے سے پہلے ان کے دھڑوں کو مٹی سے ڈھانپ دیا۔
 
مقامی حکام نے اس واقعے کے حوالے سے بلوچستان میں بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (کیسکو) کے متعلقہ علاقے کے لائن مین سمیت دو افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے جبکہ کیسکو کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بجلی کے جن تاروں سے بچوں کو کرنٹ لگا وہ ایک غیر قانونی لائن کی تھیں۔
 
بجلی سے ہلاک اور زخمی ہونے والے بچے کون ہیں؟
یہ بچے چرواہے تھے جن میں ہلاک ہونے والے بچے کی عمر 12 سال جبکہ زخمیوں کی عمریں بھی 12 سے 13 سال کے درمیان تھیں۔
 
کوشش کے باوجود زخمی بچوں کے والدین سے رابطہ نہیں ہو سکا تاہم اس سلسلے میں لیویز تھانہ جھل مگسی میں ہلاک ہونے والے بچے بشیر احمد کے والد نذیر احمد کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کروائی گئی ہے۔
 
 
ایف آئی آر کے مطابق ضلع کی تحصیل جھل مگسی کے علاقے حامر میں ایک شخص نے بغیر کھمبوں کے بجلی کی ایک غیر قانونی لائن درختوں کے اندر سے کھینچی جس کی تاریں زمین پر گر گئی تھیں۔
 
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ مارچ سنہ 2021 کو اس لائن کی بجلی منقطع کی گئی تھی لیکن دو جولائی کو اس لائن میں بجلی چھوڑ دی گئی تھی جس کے باعث صبح دس بجے تین چرواہے بچے بشیر احمد، امام دین اور اللہ دتہ زمین پر گری تاروں سے کرنٹ لگنے سے بے ہوش ہو گئے اور ان میں سے بشیر احمد ہلاک ہو گیا۔
 
ایف آئی آر کے مطابق بشیر احمد کو ہسپتال لائے بغیر دفن کیا گیا تاہم باقی دو بچوں کو علاج کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال گنداوہ پہنچایا گیا۔
 
ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ واقعہ علاقے میں کیسکو کے ایک لائن مین کی لاپرواہی کے علاوہ تاریں اپنے گھر تک لے جانے والے شخص کی وجہ بھی سے پیش آیا اس لیے ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔
 
تحصیلدار گنداوہ ہادی بخش نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد جب وہ جائے وقوعہ پر گئے تو وہاں سٹیل کی بجائے لکڑیوں پر بجلی کی تاریں لگی ہوئی تھیں۔
 
ان کا کہنا تھا کہ لکڑیوں پر لگی بجلی کی تاروں کو ایک جنگل سے گزارا گیا تھا اور یہ بتایا گیا کہ تیز ہواﺅں کی وجہ سے یہ لکڑیاں گر گئی تھیں جس کے باعث ان پر لگی تاریں زمین پر پڑی ہوئی تھیں۔
 
انھوں نے کہا کہ تاروں کے زمین پر گرنے اور ان میں کرنٹ کی موجودگی کی وجہ سے وہاں سے گزرتے ہوئے نہ صرف تینوں بچوں کو کرنٹ لگ گیا بلکہ ان کی کچھ بکریاں بھی ہلاک ہو گئیں۔
 
ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کے ڈاکٹر پریم کمہار نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ دونوں بچے بجلی کا کرنٹ لگنے سے زخمی ہوئے تھے۔
 
’ان کے والدین نے ہمیں بتایا کہ جو بچہ ہلاک ہوا وہ بجلی کے تاروں کے ساتھ پڑا ہوا تھا جبکہ دوسرے دو بچے تاروں سے کچھ فاصلے پر بے ہوش پڑے تھے۔‘
 
بشیر کے والد کا کیا کہنا ہے؟
ہلاک ہونے والے بچے بشیر احمد کے والد نے بتایا کہ بچوں کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا تھا اس کے بارے میں کسی اور نے آ کر انھیں اطلاع نہیں دی بلکہ ان بچوں میں سے ایک نے گرتے سنبھلتے آ کر اطلاع دی۔
 
ان کا کہنا تھا کہ ’جہاں یہ واقعہ پیش آیا اس سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر ہمارے گھر ہیں لیکن ہم حیران تھے وہ کیسے اتنا دور پیدل آیا۔‘
 
’وہ زیادہ بول نہیں سکتا تھا لیکن ہمارے بار بار پوچھنے پر اس نے بتایا کہ میرا جسم ایسا ہو رہا ہے جیسے اس میں کانٹے چبھ رہے ہوں۔ ہم نے دیکھا تو ان کے جسم پر زخم تھے اور ان سے خون بہہ رہا تھا۔‘
 
انھوں نے کہا کہ اس بچے سے بمشکل ہمیں جو معلومات ملیں ان کی مدد سے جب ہم دوسرے دو بچوں کے پاس پہنچے تو وہ بجلی کے تاروں کے قریب بے ہوش پڑے تھے اور ان کی حالت خراب تھی۔
 
انھوں نے بتایا کہ میرے بیٹے بشیر احمد کی حالت بہت زیادہ خراب تھی۔ میں نے ان کو اٹھا کر اپنے گود میں رکھا تو اس نے ایک دو مرتبہ آنکھیں کھول کر مجھے دیکھا لیکن وہ بول نہیں سکتا تھا۔
 
ان کا کہنا تھا کہ وہ میری گود میں دس منٹ تک زندہ رہا لیکن بعد میں دم توڑ دیا۔
 
انھوں نے بتایا کہ زخمی ہونے والے دوسرے دونوں بچے بھی میرے رشتہ دار ہیں۔
 
نذیر احمد نے بتایا کہ ہمارے علاقے میں علاج معالجے کی سہولیات نہیں اور پریشانی میں بالکل سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ہم کیا کریں جس پر وہاں جو لوگ جمع ہوئے تو ان میں سے بعض نے مشورہ دیا کہ جسم کی سوزش اور درد کو کم کرنے کے لیے ان کے دھڑوں کو مٹی سے ڈھانپ دیا جائے۔
 
ان کا کہنا تھا کہ ایک دو ڈاکٹروں سے بھی ہم نے فون پر رابطہ کیا تو انھوں نے فوری طور پر ہسپتال پہنچانے کے لیے کہا لیکن دور ہونے کی وجہ سے ہم فوری طور پر ان کو ہسپتال نہیں پہنچا سکتے تھے اس لیے وہاں لوگوں کے مشورے کے مطابق ان کے جسموں پر مٹی ڈالنے کے سوا ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔
 
انھوں نے بتایا دوسرے دو بچوں کی حالت بھی بہت زیادہ ٹھیک نہیں۔ ان کی حالت کے پیش نظر ہم چاہتے ہیں کہ ہم ان کو کوئٹہ لے جائیں یا لاڑکانہ لیکن ہمارے پاس وسائل نہیں۔
 
نذیر احمد نے بتایا کہ لوگوں کی لاپرواہی کی وجہ سے جہاں ہم نے اپنا ایک بچہ کھو دیا وہاں کرنٹ لگنے سے ہماری بارہ بکریاں بھی ہلاک ہو گئیں۔
 
 
ہسپتال پہنچانے سے پہلے زخمی بچوں کو بچانے کی کوشش
بلوچستان کے دوردراز کے علاقوں میں علاج معالجے کی سہولیات کا فقدان ہے اس لیے مریضوں کو علاج معالجے کے لیے بڑے بڑے شہروں تک لے جانا پڑتا ہے۔
 
جس علاقے میں بچوں کو کرنٹ لگنے کا واقعہ پیش آیا وہ جھل مگسی کے ہیڈ کوارٹر گنداوہ سے بہت زیادہ دور نہیں بلکہ 35 سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے لیکن پختہ سڑک نہ ہونے کی وجہ سے گنداوہ پہنچنے میں زیادہ وقت لگتا ہے۔
 
مقامی صحافی عبد الحمید لاشاری نے بتایا کہ حامر سے گنداوہ پہنچنے میں ڈیڑھ سے دو گھنٹے لگتے ہیں۔
 
ان کا کہنا تھا کہ چونکہ قریب میں کوئی ہسپتال نہیں تھا تو والدین کے ذہن میں فوری طور پر پہلے سے آزمائے ہوئے ٹوٹکے کے طور پر یہ آیا کہ ان کے جسم کو مٹی سے ڈھانپا جائے یا مقامی طبیبوں نے انھیں یہ مشورہ دیا ہو گا اس لیے پہلے انھوں نے وہی کیا۔
 
انھوں نے بتایا کہ ان علاقوں میں جلنے کی صورت میں جسم کی سوزش کو کم کرنے کے لیے اس کو مٹی سے ڈھانپنے کا نسخہ آزمایا جاتا ہے۔
 
واقعے کے بعد ان بچوں کی جو تصاویر لی گئی تھیں ان میں وہ ہوش میں دکھائی نہیں دے رہے تھے اور سر کے سوا ان کے پورے جسم پر مٹی تھی۔
 
عبد الحمید لاشاری نے بتایا کہ ان علاقوں میں بہت سارے علاج معالجے لوگ اپنے طور پر بھی کرتے ہیں۔
 
ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کے ڈاکٹر پریم کہمار نے کہا کہ بجلی کے کرنٹ سے زخمی ہونے یا صدمے کا مٹی سے علاج تو نہیں ہوتا لیکن ان کا بھی یہ ماننا تھا کہ مختلف علاقوں میں لوگوں کے اپنے ٹوٹکے ہوتے ہیں جن کو وہ استعمال کرتے رہتے ہیں۔
 
 
کیسکو کا مؤقف کیا ہے؟
کوئٹہ میں کیسکو کے ترجمان افضل بلوچ نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد ضلع میں کیسکو کے حکام نے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا۔
 
ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے کو سفرانی فیڈر سے بجلی فراہم کی جاتی ہے اور یہ بنیادی طور پر ایک زرعی فیڈر ہے جس میں دن کی بجائے رات کو دیر سے بجلی فراہم کی جاتی ہے۔
 
انھوں نے بتایا کہ عدم ادائیگیوں کی وجہ سے اس کے بعض حصوں کی بجلی منقطع کر دی گئی تھی لیکن بعض صارفین نے ایک غیر قانونی لائن کھینچی تھی جس کے باعث یہ حادثہ پیش آیا۔
 
انھوں نے کہا کہ کیسکو کسی علاقے میں لکڑیوں کو کھمبے کے طور پر استعمال نہیں کرتی اور اگر کسی علاقے میں یہ ہیں تو وہ لوگوں نے اپنے طور پر غیر قانونی طور پر لگائے ہیں۔
 
ان کا کہنا تھا کہ کیسکو کے مقامی حکام نے اس واقعے کے بارے میں تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جبکہ فوری طور پر علاقے کے لائن مین اللہ بخش کو معطل کیا گیا ہے۔
 
Partner Content: BBC Urdu
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
07 Jul, 2021 Views: 57773

Comments

آپ کی رائے