سادگی میں بھی حسن تھا۔۔۔ عید کی وہ روایات جو وقت کے ساتھ دم توڑتی جارہی ہیں

 
ہر پل بدلتی دنیا نے جہاں بہت ترقی کرلی ہے وہیں بہت سی روایات ختم کر کے تہواروں کا حسن بھی مانند کردیا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب عیدین کے موقع پر روایتی جوش و خروش سے خوشیاں منائی جاتی تھیں۔ خوشیاں تو آج بھی منائی جاتی ہیں لیکن سادگی سے بھرپور وہ لمحات کہیں کھو سے گئے ہیں جو کبھی ان تہواروں کا لازمی حصہ ہوا کرتے تھے۔ آج ہم بات کریں گے ماضی کی ان سنہری روایتوں کا جن کے ہونے سے عید کا لطف ہی دوبالا ہوتا تھا۔ اب چاہیں تو آپ ان روایات کو اپنا کر دوبارہ زندہ کرسکتے ہیں
 
مل جل کر مہندی لگانا
پہلے زمانے میں لڑکیاں اور خواتین گھر پر ہی مہندی گھول کر ایک دوسرے کے ہاتھ پر ڈیزائن بناتی تھیں اور صبح ہر لڑکی کو ہاتھ دھو کر یہ دیکھنے کی جلدی ہوتی تھی کہ اس کے ہاتھ پر مہندی کا رنگ کیسا ہے۔ مہندی تو آج بھی لگتی ہے لیکن جگہ جگہ کھلے پارلرز میں لگنے والی مہنگی مہندی میں پہلے والی سادگی کہاں
 
 
گھر کے بڑے کا جانور کو ذبح کرنا
پہلے گھر کا سربراہ یا بڑا ہی بکرا عید کے دن جانور کو ذبح کرتا تھا۔ یہی اصل سنتِ ابراہیمی بھی ہے لیکن اب جانور کے ذبح سے گوشت بنانے کی ساری ذمہ داری قصائی کو سونپ دی جاتی ہے
 
گوشت کی تقسیم
قربانی کے گوشت کے تین حصے کرنے چاہئیں جس میں ایک حصہ غریبوں کا، دوسرا حصہ رشتے داروں اور تیسرا حصہ گھر والوں کا ہونا چاہیے۔ پہلے قربانی کا گوشت زیادہ سے زیادہ تقسیم کرکے گھر میں صرف ایک دو دن کا گوشت رکھا جاتا تھا تاکہ غریبوں کی زیادہ سے زیادہ مدد کی جاسکے۔ اور گھر پہ رکھے جانے والے گوشت سے خواتین گھر میں تکہ، بریانی وغیرہ بناتی تھیں لیکن اب یہ رواج بھی معدوم پڑتا جارہا ہے۔ گھر کی خواتین اتنے جھنجھٹ والے کاموں میں پڑ کر اپنے عید کے کپڑے خراب نہیں کرنا چاہتیں دوسری طرف مرد حضرات بھی گوشت لے کر دوستوں یاروں کے ساتھ باربی کیو کرنے چل پڑتے ہیں
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
20 Jul, 2021 Views: 3865

Comments

آپ کی رائے