بیوی رہیں ماں نہ بنیں۔۔۔ کچھ ایسی وجوہات جن سے شوہر حضرات اپنی بیویوں سے بد دل ہوجاتے ہیں

 
میاں بیوی کا رشتہ کامیاب تب ہوتا ہے جب دونوں ایک دوسرے کے جذبات کی قدر کرتے ہوں اور ایک دوسرے کو اہمیت دیتے ہوں۔ اس رشتے میں توازن برقرار رکھنا ہی رشتے کی پائیداری قائم رکھتا ہے۔ لیکن اکثر ایسا نہیں ہوپاتا اور دونوں میں سے ایک فریق اپنے شریکِ حیات کا ساتھی نہیں بلکہ باس زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ اگر بات کی جائے خواتین کی تو چونکہ ان کا تعلق گھریلو امور سے زیادہ پڑتا ہے اس لئے اکثر وہ کچھ ایسی عادات اپنانے لگتی ہیں جن کی وجہ سے وہ بیوی سے زیادہ اپنے شوہر کی ماں لگنا شروع ہوجاتی ہیں۔ کچھ دن تو یہ سلسلہ چلتا ہے لیکن اس کے بعد ان کے شوہر حضرات ہر وقت کی نقطہ چینی سے عاجز آنے لگتے ہیں۔ اس آرٹیکل کو غور سے پڑھیں اور اپنی وہ عادتیں بدلنے کی کوشش کریں جو آپ کے شوہر میں آپ کے لئے اکتاہٹ کا سبب بن رہی ہیں
 
نقطہ چینی
ہر بات میں تنقید اور شوہر کے کیے گئے کاموں میں کیڑے نکالنا کوئی اچھی عادت نہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹانے کا ارادہ کرکے آپ کے شوہر کچن کا کوئی کام کرنے لگتے ہیں تو معمول سے زیادہ چیزیں پھیل جاتی ہیں ایسے میں آپ ان کو کاموں سے روک دیتی ہیں۔ یہ عمل صحیح نہیں کیونکہ اس سے دل آزاری ہوتی ہے۔ اس کے بجائے آپ دونوں ساتھ مل کر صفائی کرسکتے ہیں اور کچن کو سمیٹ سکتے ہیں۔
 
 
تعلقات میں دخل اندازی
ضروری نہیں کہ آپ کے شوہر کے رشتے دار یا دوست آپ کو بھی اتنے ہی پسند ہوں جتنے کہ آپ کے شوہر کو۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ انھیں ان کے دوستوں اور رشتے داروں سے بات چیت کرنے سے روکیں یا تحفے تحائف دینے پر ناک بھوں چڑھائیں۔ ہوسکتا ہے آپ کی اپنے سسرال والوں سے کوئی ان بن ہو لیکن اس کے باوجود شوہر کے رشتے سے ان کا احترام آپ پر لازم ہے اور اپنے ہی دوستوں یا رشتے داروں سے ملنے پر روک ٹوک سے آپ کے شوہر بری طرح چڑ سکتے ہیں
 
خریداری کے دوران
یہ سوچنا کہ گھر کے کام میں کرتی ہوں تو میں ہی خریداری کروں گی یہ اچھی بات نہیں۔ گروسری اور گھر کے سامان خریدنے کے لئے کوشش کریں کہ ساتھ جائیں اور اگر آپ کے شوہر کچھ خریدنا چاہتے ہیں تو انھیں یہ مشورہ نہیں دیں کہ آپ کو کچھ نہیں پتہ آپ یہ نہیں خریدیں۔ ظاہر ہے مارکیٹ ایسی جگہ ہے جہاں سب کا دل خریداری کرنا چاہتا ہے۔ آپ کے شوہر کوئی چھوٹے بچے نہیں ہیں اگر وہ کچھ لینا چاہتے ہیں تو یقیناً ان کے ذہن میں اس چیز کے لئے کوئی خیال تو ہوگا ہی۔
 
محبت اپنی جگہ اور ذمہ داری اپنی جگہ
جیسا کہ آرٹیکل کے شروع میں لکھا گیا ہے کہ ہر رشتے میں توازن برقرار رکھنا ضروری ہے اس لئے ضروری ہے کہ محبت کے ساتھ ذمہ داریاں بھی بانٹی جائیں۔ اپنے شوہر کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس ضرور دلائیں۔ شوہر سے ایسا رویہ رکھیں جن سے آپ ان کی زندگی کی ساتھی اور دوست ہیں اس کے لئے ساتھ کچھ اچھا وقت گزارنا بھی ضروری ہے
 
ہر وقت قربانی دینا بھی اچھا نہیں
اگر آپ کے شوہر آپ کی سالگراہ اور اہم دن بھول جاتے ہیں تو انھیں یاد دلائیں اور ان سے کوئی تحفہ مانگیں۔ اپنے جائز جذبات کو قربان کر کے ہمیشہ “سب اچھا ہے“ کا ٹیگ لگانا انسان کو اندر ہی اندر گھٹن کا شکار کردیتا ہے۔ اتنی زیادہ قربانیاں شاید ماں اپنے بچے کے لئے دے سکتی ہو لیکن میاں بیوی کے رشتے کی خوبصورتی کا حسن توازن قائم رکھنے میں ہی ہے
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
18 Jul, 2021 Views: 10158

Comments

آپ کی رائے