عیدالاضحیٰ کا مقصد صرف گوشت کے پکوان کھانا نہیں بلکہ۔۔۔ قربانی کا اصل مقصد کیا ہے اور یہ کس عظیم واقعے کی یاد میں منائی جاتی ہے؟

 
ہر سال بڑی عید پر گھروں میں جانور لا کر قربانی کرکے سنتِ ابراہیمی کی یاد تازہ کی جاتی ہے۔ بڑی عید پر جانور قربان کرنا حضرت ابراہیم علیہ اسلام کی سنت ہے جس کی پیروی کئی صدیاں گزرنے کے بعد بھی کی جاتی ہے۔ کہنے کو تو مسلمانوں کے لئے یہ دن عید کا ہے لیکن اس دن کا مقصد ایک مومن کے لئے اتنا بڑا ہے کہ اگر کوئی اس کو صحیح طرح سمجھ لے تو اس کی زندگی ہمیشہ کے لئے تبدیل ہوجائے۔ سنتِ ابراہیمی کا مقص سمجھنے کے لئے پہلے اس واقعے کا جاننا ضروری ہے جس کی وجہ سے یہ دن وجود میں آیا
 
بیٹے کی قربانی
نبی کے خواب اللہ کی جانب سے اشارہ ہوتے ہیں جن کی پیروی کرنے پر اللہ تعالیٰ انھیں اور ان کی امتوں کی بخشش فرماتے ہیں۔ حضرت ابراہیم کو ایسا خواب آیا جس کو دیکھ کر بڑے سے بڑے دل والا انسان بھی ہمت ہار جائے۔ وہ خواب تھا اپنے اکلوتے لختِ جگر کے گلے پر چھری چلا کر اسے اللہ کی راہ میں قربان کرنے کا۔ باپ نے یہ بات اپنے بیٹے کو بیان کی تو وہ بھی بیٹا بھی اللہ کی راہ میں گلے پر چھری پھروانے کے لئے تیار ہوگیا۔ باپ نے لختِ جگر کے گلے پر چھری تو چلا دی لیکن اللہ جو اپنے بندوں کو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے اسے صرف اپنے بندے کی آزمائش کرنا منظور تھا۔ حضرت ابراہیم نے دیکھا کہ ان کا بیٹے حضرت اسمائیل علیہ اسلام پاس کھڑے مسکرا رہے ہیں جبکہ ان کی چھری تلے مینڈھا ذبح ہوا پڑا ہے۔ اسی واقعے کی یاد میں ہزاروں سالوں سے آج تک اسی تاریخ کو قربانی کی جاتی ہے۔
 
قربانی اصل میں کس چیز کی تھی؟
اگر اس واقعے پر غور کیا جائے تو خدا تعالیٰ کو بندے کی آزمائش منظور تھی۔ اللہ نے بیٹے پر چھری چلانے کا اشارہ اس لئے دیا تھا کہ دیکھ سکے کہ کیا اس کا بندہ جو اس پر سب کچھ قربان کر سکتا ہے تو کیا وہ خدا کی محبت میں اپنے بیٹے کے گلے پر بھی چھری چلا سکتا ہے؟ ابراہیم علیہ اسلام تو اپنی آزمائش پر پورے اترے لیکن ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہمیں جس قربانی کا حکم دیا گیا ہے کیا اس کے لئے صرف جانور ذبح کرنا کافی ہے؟ تو اس کا جواب ہے کہ نہیں۔ ہمارے لئے اس دن قربانی کا مقصد صرف جانور کو نہیں لکہ اپنے نفس کو قربان کرنا ہونا چاہیے جس میں جان، مال اور دنیا کی تمام اشیاء شامل ہیں۔ مگر افسوس اب مسلمانوں نے اس عظیم دن کو صرف چٹپٹے پکوانوں تک محدود کردیا ہے 
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
20 Jul, 2021 Views: 1135

Comments

آپ کی رائے