لاہور قلندر نے نڑول سٹیڈیم کی قسمت جگا دی... مظفرآباد کا نڑول کرکٹ سٹیڈیم جسے زلزلے نے ہسپتال بنا دیا تھا

 
کچھ دیر کے لیے اپنی آنکھیں بند کریں اور تصور کریں کہ آپ کے کمرے کی کھڑکی سے ایک حسین و جمیل مقام دکھائی دیتا ہے جس کی سیر کرنے اکثر بادل بھی امڈ آتے ہیں، نیچے ٹھاٹھیں مارتا دریا اور کچھ ہی دور ایک دلکش کرکٹ گراؤنڈ کا منظر۔
 
آج شام سے مظفرآباد کے نڑول کرکٹ سٹیڈیم میں شروع ہونے والی کشمیر پریمیئر لیگ میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کے ہوٹل کے کمروں کی کھڑکیاں ایسا ہی منظر دکھا رہی ہیں۔
 
کھلاڑی ہوٹل کی کھڑکیوں سے نہ صرف سٹیڈیم دیکھ سکتے ہیں بلکہ سامنے موجود پہاڑی پر پیرچناسی کا خوبصورت سیاحتی مقام اور نیچے دریائے جہلم کا نظارہ بھی۔
 
اس سٹیڈیم کے بارے میں آپ جس سے بھی بات کریں وہ یہ ضرور کہے گا کہ اس کا نام دنیا کے خوبصورت سٹیڈیمز کی فہرست میں لکھا جائے گا۔
 
مگر لیہ سے تعلق رکھنے والے ملک عارف نے جب کشمیر پریمئیر لیگ کا خواب دیکھا تھا تو شاید کوئی یہ تصور بھی نہیں کر رہا تھا کہ لیگ کے تمام میچز اسی سٹیڈیم میں ہوں گے۔
 
گوجرانوالہ سے نندی پور کی مٹی سے بنی پچز، عمدہ سربسز گھاس اور بالکل نئے انداز میں دکھائی دینے والے سٹیڈیم میں لگی ایل ای ڈی فلڈ لائٹس اسے کسی بھی قومی کرکٹ گراؤنڈ کے ہم پلہ لا کھڑا کرتا ہے۔
 
تاہم دارالحکومت مظفر آباد میں پریزیڈنٹ ہاؤس کے قریب واقع اس سٹیڈیم کی کہانی شاید دیگر سٹیڈیمز سمیت کھیل کے کسی بھی میدان سے ذرا مختلف ہے۔
 
 
جب زلزلے نے سٹیڈیم کو تباہ کر دیا
سنہ 1985 میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے سپورٹس بورڈ نے مظفر آباد سٹیڈیم کے لیے جگہ ایوارڈ کی تھی۔
 
مقامی لوگوں سے اس وقت کے سپورٹس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل اعزاز نسیم نے یونیورسٹی گراؤنڈ کے بجائے اس جگہ کو سٹیڈیم کے لیے خرید تو لیا، لیکن اگلے کئی برس تک یہاں تعمیراتی کام شروع نہ ہو سکا۔
 
اسی شہر میں اپنی ساری زندگی گزارنے والے تنویر احمد مغل نے سنہ 1996 میں سکول کی جانب سے اسی گراؤنڈ میں اپنا پہلا کرکٹ میچ کھیلا تھا۔ آج تنویر یہاں مینیجر کرکٹ آپریشنز تعینات ہیں۔
 
اس گراؤنڈ کی کہانی سناتے ہوئے وہ کہنے لگے کہ یہ لمحات ہمارے کشمیری بچوں اور نوجوانوں کے لیے ایک یادگار کی مانند ہے کیونکہ یہ سٹیڈیم، اس کا ڈریسنگ روم قومی اور بین الاقوامی کھلاڑیوں کے ساتھ شیئر ہونے جا رہا ہے۔
 
اس سٹیڈیم کی تاریخ بتاتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’سنہ 2003 میں یہاں میدان کو سٹیڈیم کی شکل دینا شروع کی گئی اور اس کی عمارتیں بننا شروع ہوئیں پھر جب 2005 میں یہ کام آخری مراحل میں تھا تو کشمیر میں زلزلہ آ گیا۔‘
 
زلزلے نے دیگر عمارتوں کی طرح اس سٹیڈیم کو بھی بری طرح تباہ کر دیا۔
 
 
سنہ 2005 کا زلزلہ تو شاید کبھی نہ بھلایا جا سکے اور جس قسم کی تباہی پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہوئی تھی اس سے شہر کے ہسپتال بھی زمین بوس ہو گئے۔
 
ایسے میں ایک بین الاقوامی این جی او آئی سی آر سی نے یہاں ایک ہسپتال قائم کیا تاکہ زلزلے زدگان کے علاج میں معاونت ہو سکے۔
 
وقت گزرنے کے ساتھ کچھ کرکٹرز اور سپورٹس بورڈ نے اس سٹیڈیم کے جانب توجہ دی اور اسے حتمی شکل دینے کی کوشش کی۔ سنہ 2011 میں پیپلز پارٹی کے ایک سابق وزیر سلیم بٹ نے اس گراؤنڈ کو فرسٹ کلاس لیول کا گراؤنڈ بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
 
اس محنت کے نتیجے میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس گراؤنڈ میں اپنے میچز بھی کروانا شروع کر دیے۔ تنویر کہتے ہیں کہ ’اس وقت گراؤنڈ میں ایک پویلین تھا جسے سپورٹس بورڈ نے کچھ سال پہلے ہی مکمل کروایا ہے۔‘
 
اس گراؤنڈ میں مسلسل بنیادوں پر اب بھی معمول کا کام ہو رہا ہے۔ وہاں اپنے کام میں مصروف کیوریٹر یاسر ملک بھی دیگر افراد کی طرح خوش ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے پہلے ایسا ماحول نہیں دیکھا تھا، یہ کھنڈر تھا، ہم پتھروں میں کھیلتے تھے۔
 
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’گراؤنڈ کو بنانے کے لیے میں نے بہت تگ و دو کی پہلے ہمارے پاس مشینری نہیں تھی آج ہمارے پاس سب کچھ ہے۔‘
 
وہ بتاتے ہیں کہ ’یہ گراؤنڈ اس قابل نہیں تھا کہ یہاں انٹرنیشنل کھلاڑی کھیلیں، پچھلے چار پانچ ماہ گراؤنڈ کی لیولنگ کی گئی۔‘
 
’لاہور قلندر نے نڑول سٹیڈیم کی قسمت جگا دی‘
عارف ملک کی کشمیر لیگ کو کشیمر کے اندر ہی کروانے کی اس خواہش سے پہلے ہی اس خطے کے نوجوانوں کے لیے پاکستان سپر لیگ کی فرنچائز لاہور قلندر نے یہاں آ کر ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام منعقد کروایا تھا۔
 
اس وقت یہاں لگ بھگ 35 ہزار کے قریب کشمیری نوجوانوں نے آ کر قسمت آزمائی کی تھی۔ مظفر آباد سے چار گھنٹوں کی مسافت پر راولا کوٹ کے سلمان ارشاد نے بھی اپنی والدہ سے کرائے کے پیسے لیے اور مظفر آباد پہنچ گئے۔
 
انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس وقت میر پور میں بھی ٹرائلز ہو رہے تھے لیکن راولاکوٹ سے مظفرآباد نسبتاً نزدیک تھا۔ میں بس میں بیٹھا اور صبح سویرے سٹیڈیم پہنچ گیا۔ میں نے صبح نو بجے سے شام تین بجے تک اپنی باری کا انتظار کیا۔‘
 
’جب میں نے بولنگ کروائی تو لاہور قلندرز کے کوچ عاقب جاوید نے مجھے بتایا کہ میں نے 145 کلومیٹر فی گھنٹہ یعنی نائنٹی مائلز پر گیند کروائی تھی۔ یوں میری سلیکشن ہوئی اور میں لاہور قلندر کا حصہ بنا۔‘
 
 
آج چار برس گزر گئے ہیں اور پاکستان سپر لیگ میں کھیلنے والے پہلے کشمیری سلمان ارشاد اب فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سلیکشن سے ایک روز پہلے تک انھوں نے یہ نہیں سوچا تھا کہ ان کا یہ مستقبل ہو گا۔
 
وہ کہتے ہیں کہ ’پہلے کرکٹ میں میرا کوئی مستقبل نہیں تھا، میں ایک طالبعلم تھا۔ مری، راولا کوٹ اور دیگر پہاڑی علاقوں میں گراؤنڈ کے بغیر کرکٹ کھیلنا خاصا مشکل ہوتا ہے۔‘
 
’میں سکول سے آتا تھا تو ہم بھی محلے میں کرکٹ کھیلتے تھے کبھی کسی کھیت میں، اونچے نیچے راستوں اور پگ ڈنڈیوں پر جب شارٹ لگتی تھی تو کتنی کتنی دیر تو ہم گیند ڈھونڈنے میں لگا دیتے تھے۔‘
 
وہ بتاتے ہیں کہ ’ہم یہ سوچ کر کرکٹ نہیں کھیلتے تھے کہ ہمار اس میں کوئی مستقبل ہے۔ سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے والدین کہتے تھے کہ تم کیوں اپنا وقت ضائع کرتے ہو۔‘
 
مگر اس بار جب جنوری میں کے پی ایل کے ٹرائلز ہوئے تو سلیکٹ کرنے والوں میں ارشاد بھی شامل تھے۔ ہزاروں لڑکوں میں سے ابتدا میں 300 لڑکے سلیکٹ ہوئے۔
 
سلمان ارشاد کہتے ہیں کہ ’چار سالوں میں یہ سٹیڈیم بالکل بدل گیا ہے اور اسے دیکھ کر بہت اچھا لگ رہا ہے۔ مظفرآباد کا نڑول سٹیڈیم آسٹریلیا کے بلیک ٹاؤن کے سٹیڈیم جیسا لگتا ہے، امید ہے کہ یہاں کے پی ایل کا کامیاب ٹورنامنٹ ہو گا۔‘
 
سلمان ارشاد اس ٹورنامنٹ میں میرپور رائلز کی نمائندگی کریں گے۔ ٹورنامنٹ میں چھ ٹیمیں ہیں جن میں سے ہر ٹیم میں پانچ کشمیری موجود ہیں اور پلیئنگ الیون میں ہر ٹیم میں دو کشمیری حصہ لیں گے۔ اوورسیز کشمیری بھی ان میں شامل ہیں۔
 
 
کے پی ایل کو ٹرائلز کی اجازت نہ ملی
تنویر مغل کے مطابق پہلی بار کے پی ایل کی بات تو چند برس پہلے چلی لیکن پھر جب معاملات طے پائے تو سمجھیں کہ جنگی بنیادوں پر سٹیڈیم کی بحالی اور تزئین کا کام شروع ہوا اور اب یہ ’کشمیر پریئمیر لیگ' کے لیے سج چکا ہے۔
 
تاہم یہ راستہ اتنا آسان بھی نہیں تھا۔ تنویر مغل کہتے ہیں کہ ’سابق وزیر کھیل نے کے پی ایل کی مخالفت کی تھی اور یہ جنوری 2021 کی بات ہے جب انھوں نے ٹرائلز کے لیے گراؤنڈ دینے سے انکار کر دیا تھا۔
 
’پھر وفاقی حکومت سے رابطہ کیا گیا تو گراؤنڈ ملا وہ بھی جس حالت میں ملا وہ مخدوش تھی۔ کے پی ایل کے لیے میر پور اور یونیورسٹی گراؤنڈ میں ٹرائل ہوئے۔‘
 
انھوں نے بتایا کہ ’زلزلے سے متاثرہ سٹیڈیم کی عمارت جو عرصے سے سرکاری مسائل کی وجہ سے دوبارہ بحال نہیں ہو پائی تھی کو ایک ماہ میں تیار کروایا گیا۔ اس کے بعد گراؤنڈ میں بین الاقوامی معیار کی ایل ای ڈی لائٹس لگوائی گئیں۔
 
’گراؤنڈ کی آؤٹ فیلڈ کو بہت زبردست کیا اور جو پانچ پچز کا سکوائر تھا اس کو پوری طرح نیا بنایا۔ اس میں گراسنگ کروائی اس کے علاوہ ڈریسنگ روم سمیت جو بھی ایک معیاری سٹیڈیم کی ضروریات ہیں انھیں پورا کیا گیا۔‘
 
’سٹیڈیم میں 15 ہزار شائقین کی گنجائش‘
ملک عارف بتاتے ہیں کہ ’نڑول سٹیڈیم کا رقبہ لاہور کے قذافی سٹیڈیم کے براب ہے، ہاں فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں شائقین کے بیٹھنے کی گنجائش 25 ہزار نہیں بلکہ 15 ہزار ہے اور اس وقت کورونا کی وبا کے پیش نظر ہم 25 فیصد جو کہ لگ بھگ تین ساڑھے تین ہزار ہے اتنی ہی تعداد میں لوگوں کو سٹیڈیم میں بیٹھ کر کرکٹ دیکھنے کی اجازت دے پا رہے ہیں۔‘
 
’یہاں نو انکلوژرز ہیں جن میں سے چھ کو کھولا گیا ہے اور گرین بیلٹ بھی ہے تاہم کورونا کے پیش نظر ابھی وہاں شائقین کو بیٹھنے کی اجازت نہیں ہو گی۔‘
 
کھلاڑی اس بار تو سٹیڈیم میں بذریعہ روڈ جائیں گے لیکن یہاں قریب موجود فائیو سٹار ہوٹل کی انتظامیہ نے تجویز دے رکھی ہے کہ وہ گراؤنڈ تک جانے کے لیے ایک چئیر لفٹ کی سہولت بھی فراہم کر سکتی ہے اس سے تقریباً ایک کلومیٹر کا سفر سات سو میٹر تک محدود ہو جائے گا۔
 
 
’انڈیا نے اسے انٹرنیشنل لیگ بنا دیا ہے‘
کے پی ایل کے ڈائریکٹر تنویر خان کہتے ہیں کہ ’انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو اس میں شرکت نہ کرنے پر زور دے کر انڈیا نے اس لیگ کو انٹرنیشنل لیگ بنا دیا ہے۔‘
 
چار انگلش پلئیرز نے انکار کیا ہے لیکن بیک آپ میں ہمارے انٹرنیشل پلئیرز ہی ہیں-
 
تنویر جو کہ اس سے قبل پاکستانی ٹیم کے لیے سپورٹس سائیکالوجسٹ بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں بتاتے ہیں کہ جب رواں برس فروری میں پہلی بار اس سٹیڈیم کو دیکھا تو مجھے معلوم تھا کہ اس پر ابھی بہت کام کرنا باقی ہے۔
 
میں نے ان سے پوچھا کہ یہ تجربہ کیسا رہا تو انھوں نے کہا کہ 'یہ بات چیت دو سال سے جاری تھی شہریار خان آفریدی نے کشمیر کمیٹی کے چئیرمین نے بہت سپورٹ کیا۔ بہت زبردست تجربہ رہا ابھی میں تو کچھ نہیں کہہ سکتا پرفارمنس کو جج نہیں کر سکتا لیکن جب یہ میلہ سجے گا ٹی وی سکرینز پر جائے گا تو آپ دیکھیں گے۔‘
 
وہ کہتے ہیں کہ 13 سال کے لیے گراؤنڈ ہمیں ملا ہے، اعلیٰ اور جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔ فلڈ لائٹس وہ ہیں جو سڈنی اور میلبرن میں لگی ہیں، نندی پور کی مٹی لائی گئی۔ پاکستان کے نمبر ون کیوریٹر ریاض کو دو ماہ کے لیے ہائر کیا گی۔ گراؤنڈ کو لیول کیا گیا گھاس لگائی گئی موسم نے بھی مدد کی اور اس وقت یہ سر سبز سٹیڈیم کھیل کے لیے بالکل تیار ہے ۔'
 
بتایا گیا ہے کہ ایک سال میں تین ماہ کشمیر پرئیمئیر لیگ اسے استعمال کرے گی اور باقی نو ماہ اسے عام کلبز اسے استعمال کریں گے۔
 
 
بچز کس لیے معاون ہو سکتی ہے؟
پچز اور باؤنڈری کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے تنویر مغل نے کہا کہ ’پانچ پچز کا ایریا 80/50 ہے۔ ایک پچ دس فٹ چوڑی ہوتی ہے۔
 
بیسک باؤنڈری سینٹر پچ سے فینس تک 85 میٹر ہے لیکن ٹی 20 میں یہ 55 سے شروع ہوتی ہیں اور ایورج باؤنڈری 95 سے 75 ہوتی ہے۔
 
بچ کیوریٹر یاسر ملک کے مطابق پچز نئی تیار کی ہیں اور اب یہ باؤنسی ہیں اور یہاں اچھا سکور بننے کی امید ہے۔‘
 
 
سٹیڈیم کو یہ شکل دینے میں کتنے اخراجات لگے؟
اس سوال کے جواب میں تنویر مغل نے بتایا کہ ’ابھی اس سٹیدیم پر آنے والے اخراجات کے بارے میں انتظامیہ کی رپورٹ تو جاری نہیں ہوئی تاہم یہ لاگت کروڑوں میں ہے۔‘
 
وہ کہتے ہیں کہ ’صرف فلڈ لائٹس ہی پندرہ سولہ کروڑ کی ہیں عمارت کی مرمت اور تزئین پر پانچ کروڑ سے زیادہ خرچ ہوا۔‘
 
’سٹیڈیم پر میرے اندازے کے مطابق اب تک بیس سے 25 کروڑ تو لگے ہی ہیں۔‘
 
پاکستان میں اور اس کے زیرِانتظام کشمیر میں اس ایونٹ پر بہت بات ہو رہی ہیں اور بہت ولولہ بھی دکھائی دیتا ہے۔
 
سلمان ارشاد کہتے ہیں کہ مجھے کشمیر کے دونوں جانب سے لوگوں کے پیغامات ملتے ہیں تب سے جب سے میں پہلی بار لاہور قلندر سے پی ایس ایل کے لیے سلیکٹ ہوا۔
 
وہ کہتے ہیں کہ 'اس سارے عرصے میں فیس بک کی فرینڈ ریکویسٹ میں اُس پار کشمیر سے بھی رابطہ کیا جاتا رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آسٹریلیا میں کرکٹ کھیلنے کے دوران جب بھی اس پورے خطے کے لوگ انھیں ملتے ہیں تو وہ کہتے ہیں یہ ہمارے کشمیر سے ہے۔'
 
Partner Content: BBC Urdu
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
05 Aug, 2021 Views: 1505

Comments

آپ کی رائے