ٹیسٹ میچ پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز: 'وقت سے جیتنے کا مزہ ہی کچھ اور ہے'

(Sami Chahdury, Karachi)
 
لڑائی اگر صرف سامنے کے گیارہ کھلاڑیوں سے ہو تو کوئی بات نہیں لیکن جب اپنی محنت کا پھل پانے کے لیے موسم اور گراؤنڈ کی حالتِ زار سے بھی لڑنا پڑ جائے تو دلیرانہ فیصلے ناگزیر ہو جاتے ہیں۔

اور یہاں پاکستان کی ذمہ داری تھی کہ وہ درست وقت پہ ایسے فیصلے کرے۔ کیونکہ بظاہر، ویسٹ انڈیز کے پاس کھونے کو کچھ نہیں تھا اگر بارش اس میچ کو بہا لے جاتی۔

مگر اس کے باوجود کریگ براتھویٹ یہی دہراتے رہے کہ وہ مثبت کرکٹ کھیلیں گے۔ لیکن کس وقت کون سے والی مثبت کرکٹ کھیلیں گے، اس بارے ان کا قیاس دھوکہ کھا گیا۔

دوسری اننگز کی بیٹنگ میں پاکستان کی یلغار کچھ ایسی تھی کہ ویسٹ انڈیز کے سبھی ہتھیار ماند پڑنے لگے۔ تب یکبارگی براتھویٹ بولنگ کے لیے آئے اور اپنی لائن سے ہی اپنے ارادے عیاں کر دیے۔ لیگ سائیڈ پہ وائیڈ کے نشان سے بھی پرے، انھوں نے پورے پورے اوورز پھینکے تاآنکہ امپائرز کو مداخلت کرنا پڑی۔

براتھویٹ اس لگ بھگ ہاری بازی میں صرف وقت کو ٹالنا چاہ رہے تھے گویا ان کی ایسی منفی بولنگ سے، جو ناگزیر تھا، وہ ملتوی ہو جائے گا۔

لیکن بیٹنگ میں براتھویٹ کی اپروچ خاصی حد تک مثبت دکھائی دی۔ وہ واقعی وقت گزارنے کے لیے کھیلے۔ ان کے کچھ دیگر ساتھیوں نے بھی وقت گزاری کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا مگر کبھی شاہین شاہ آفریدی تو کبھی حسن علی اور کبھی نعمان علی تو کہیں محمد عباس آڑے آتے گئے۔

لیکن جیسن ہولڈر اس ساری بساط کا وہ واحد مہرہ تھے کہ جس کے بل پہ ویسٹ انڈیز میچ بچانے کا خواب زندہ رکھ سکتا تھا۔ پرانے گیند کو جس مہارت سے وہ کھیل رہے تھے، وہ ویسٹ انڈیز کو میچ میں ذرا آگے تک لے جا سکتے تھے۔ قسمت بھی رفیقِ کار ہوتی تو شاید اتنا آگے لے جاتے جہاں ماند پڑتی روشنیاں شاید اوورز کی تخفیف کا باعث بن جاتیں اور شاید، شاید، شاید۔۔۔

لیکن ہولڈر نے اپنے تئیں جو مثبت کرکٹ بارش کے بعد شروع کی تھی، اس کے شروع میں تو کچھ ہلا گلا دیکھنے کو ملا مگر نعمان علی نے جونہی لینتھ کھینچی تو ہولڈر کی یہی مثبت کرکٹ ان کے گلے پڑ گئی اور ویسٹ انڈیز کے سارے 'شاید' ایک دم ڈوب گئے۔

کیونکہ صرف ہولڈر ہی نہیں، اس پورے لائن اپ کو بخوبی اندازہ تھا کہ نیا گیند اور شاہین شاہ آفریدی مل کر کیا جادو جگا سکتے ہیں۔

لیکن یہاں خاص بات یہ تھی کہ پرانے گیند کے ساتھ بھی وہ ویسے ہی مہلک نظر آئے جیسے ابتدائی اوورز میں ہوتے ہیں۔ ان کا ڈسپلن دیدنی تھا۔ رفتار کا تغیر، پے در پے ورائٹی اور کریز کا استعمال کمال تھا۔ اس میچ میں ان کے وہ سبھی گُن دیکھنے کو ملے جو کسی مسابقتی ٹیسٹ بولر کا خاصہ ہوتے ہیں۔

ٹیسٹ کرکٹ میں جب کوئی فاسٹ بولر کریز کا استعمال کرنا سیکھ جائے تو یہ اس کی پختگی پہ دلالت کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کمنٹری باکس میں بیٹھے ایان بشپ ان کا تقابل وسیم اکرم سے کر رہے تھے کیونکہ ٹیسٹ کرکٹ میں کریز کا استعمال ہی بعض اوقات بولر کا سب سے بڑا ہتھیار ثابت ہوتا ہے۔

بابر اعظم کی کپتانی کے لیے یہ جیت یقیناً ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھے گی کیونکہ انھوں نے روایتی ٹیسٹ کرکٹ سے ہٹ کر کئی فیصلے وقت اور ضرورت کے تحت کئے۔ انہیں صرف ویسٹ انڈیز کا ہی نہیں، وقت کا بھی مقابلہ کرنا تھا۔ اور وہ اس میں خوب رہے۔

پاکستان ہر شعبے میں ویسٹ انڈیز پہ حاوی رہا۔ یہاں تک کہ ٹیم سلیکشن میں بھی پاکستان کی دانش درست ثابت ہوئی کہ پانچویں سیمر کی بجائے نعمان علی کو ترجیح دی اور کھیل کے اس مرحلے میں، جہاں پیسرز کو وکٹ سے کوئی مدد نہیں مل رہی تھی، وہاں نعمان علی کا جادو کام آ گیا۔

چیمپئن شپ پوائنٹس کے تناظر میں، پاکستان کے لیے یہ جیت نہایت اہم تھی اور جس طرح کی جرات مندانہ کرکٹ کھیل کر یہ حاصل کی گئی، وہ لطف دوبالا کرنے کو کافی ہے۔۔۔ کیونکہ وقت سے جیتنے کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔

 
 
Partner Content: BBC Urdu
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: سمیع چوہدری

Read More Articles by سمیع چوہدری: 11 Articles with 7528 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Aug, 2021 Views: 155

Comments

آپ کی رائے