دنیا کے پھیپھڑوں کی تباہی، کیا واقعی یہ سارا کیا دھرا انسان کا ہے؟

 
 ہم جس کرہ ارض پر اپنی زندگی گزار رہے ہیں وہ شدید موسمی تبدیلیوں کی طرف جارہا ہے، کیسی ہیں یہ تبدیلیاں اور انسانی زندگی کے لیے کس طرح خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں؟ یہ ہر انسان کے لیے ایک بڑا اور ضروری سوال ہے، خداوند نے اس زمین پر کوئی جاندار بے وجہ نہیں بنایا، ہر جاندار، چرند پرند درخت اور دیگر حیات اس دنیا کے لئے ایک اہمیت رکھتے ہیں- درختوں کی کٹائی سے زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، سمندروں کی سطح بلند ہونے سے شدید طوفانوں میں اضافہ ہو رہا ہے، گرین لینڈ جہاں سے بڑے بڑے گلیشئیر ہیں ہر سال تیزی سے پگھل کر سمندروں کی سطح میں اضافہ کر رہے ہیں-
 
BBC کے مطابق گزشتہ تین دہائیوں میں 3.8 ارب ٹن برف پگھل کر سمندروں میں شامل ہو گئی، یہ بربادی انسانی کی لائی ہوئی ہے اور اس کا اکلوتا ذمہ دار انسان ہی ہے۔ بات صرف سمندر کے پانی کی سطح کی بلندی کی نہیں، بلکہ دنیا کے بڑے جنگلات میں بار بار لگنے والی آگ بھی بنی نوح انسان کے لیے ایک خطرہ ہے، قیمتی جنگلی حیات کا نقصان اس کے علاوہ ہے۔
 
ستمبر2019 میں برازیل کے جنگلات ایمازون میں لگی آگ سے اس تباہی میں مزید اضافہ ہوا، ایمازون کے وسیع جنگلات کو دنیا کے پھیپھڑے قرار دیا جاتا ہے، اور اس دنیا کی آبادی کو آکسیجن کی فراہمی میں اس کا اہم کردار ہے۔ صنعتی ترقی کے ثمرات جہاں بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے ایک تبدیلی لائے وہیں اس کی وجہ سے بد انتظامی بھی بڑھی- صنعتوں سے نکلنے والا دھواں جہاں ایک جانب فضاء کو آلودہ کر رہا ہے ، وہیں صنعتوں سے نکلنے والا صنعتی فضلہ ہمارے دریاؤں کو آلودہ کر رہے ہیں ، انسان کی لالچ کہاں بریک لگے گا-
 
 
انسانی شعور کا بھی کیا کہنا، صنعتوں نے تو جو کیا سو کیا، عام دکاندار بھی آپکو اپنے دکان کے باہر پلاسٹک کی فاضل شاپر اور پیکنگ میٹریل جلاتا ہوا نظر آئے گا۔ انسانی رویے کو تبدیل کرنے کی اشد ضرورت ہے ہمارے پاس ایک ہی دنیا ہے ، یعنی کوئی پلان بی نہیں، کوئی دوسرا پلانٹ نہیں- ہم مر بھی جائیں گے تو ہمارے بچے اور ان کے بچے اسی آلودہ دنیا میں سانس لیں گے بڑھتی ہوئی آلودگی نئی نئی بیماریوں کا تعارف کرا رہی ہے، اور ہم ظالم اپنے بچوں اور ان کے بچوں کا گلا نٹنے کے لئے تلے بیٹھے ہیں۔
 
 یہ تو بات دنیا کی ہے مگر پاکستان بھی دنیا سے الگ نہیں ہمیں بھی کئی طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے، ہر سال سردیوں کے خاتمے پر ملک کے میدانی علاقوں سموگ آجاتی ہے- ہم کیونکہ ایک معاشی طور پر برآمدات پر چلنے والے ملک ہیں ہمارے موسم بھی امپورٹڈ، یہاں مون سون خلیج بنگال سے آتا لیکن اس مون سون سے پہلے بھارتی کسان جب اپنی کھیتوں کے باقیات کو آگ لگاتے ہیں تو دھوئیں اور دھند کا امتزاج جس سے پاکستان کا واسطہ پڑتا ہے، یہ سارا کیا دھرا انسان کا جس سے دوسرے انسان، حیوان متاثر ہو رہے ہیں-
 
 
یونیسکو کی رپورٹ کے مطابق پاکستان دوبارہ گرین ہو گیا ہے۔پاکستان میں بلین ٹری سونامی ایک اچھے قدم کے طور پر عالمی اداروں میں دیکھا گیا،پاکستان میں 2017 میں موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے قانون منظور ہوا، 26 ستمبر 2020 کو پاکستان عالمی اقتصادی فورم گلوبل چیمئین آف نیچر کمیونیٹی میں شامل ہو گیا جو بلاشبہ ایک اعزاز ہے- تاہم اعزاز کی خوشی میں کہیں اس میدان میں آگے بڑھنے کا جذبہ نہ ہلکا پڑجائے، تو درخت لگائیں اور آلودگی پھیلانے والے عوامل کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں، ابھی اس جانب شمع جلانے کی گنجائش بہت ہے۔
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
06 Oct, 2021 Views: 1642

Comments

آپ کی رائے