خلا کو چھو کر اپنے ہدف کو نشانہ بنانے والا میزائل - چین کے ہائپرسانک میزائل سے امریکہ کیوں پریشان؟

 
دنیا میں طویل فاصلے تک مار کرنے والی جدید دور کے ہتھیاروں کی دوڑ میں تیزی کے ماحول میں چین نے اطلاعات کے مطابق اگست میں جوہری ہتھیار لے جانے والا ہائپر سانک 'گلائڈ وہیکل' کا جو مدار میں چکر لگا کر زمین کی طرف آتا ہے تجربہ کیا ہے۔
 
امریکہ اور روس نے حالیہ مہینوں میں ہائپر سانک یا آواز کی رفتار سے کئی گنا زیادہ تیز میزائلوں کے تجربات کیے ہیں اور شمالی کوریا نے گذشتہ ماہ اسی نوعیت کے میزائلوں کا ایک کامیاب تجربہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
 
ہائپر سانک میزائل آواز کی رفتار سے پانچ گنا زیادہ تیزی سے اپنے ہدف کی طرف جاتے ہیں اور یہ فضا کی آخری حدود کو چھو کر واپس آتے ہیں۔ ان کی رفتار چھ ہزار دو سو کلو میٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے جو کہ تین ہزار آٹھ سو پچاس میل فی گھنٹہ بنتی ہے۔
 
میزائل کسی طرح کام کرتے ہیں
یہ رفتار بین البراعظم بلاسٹک میزائلوں سے ذرا کم ہوتی ہے لیکن ہائپرسانک گلائڈ وہیکلوں کی ساخت کی وجہ سے یہ ہدف کی طرف بڑھتے ہوئے دفاعی ہتھیاروں سے بچنے کے لیے اپنا راستہ بدل سکتے ہیں۔
 
'گلائڈ وہیکل' کو میزائل سے جوڑنے سے یہ خلا تک جاتا ہے اور 'فریکشنل آربٹل بمبارڈمنٹ سسٹم' (ایف او بی ایس) کی وجہ سے عدو مخالف اور اُس کے روایتی دفاعی نظاموں سے بچ کر نکل سکتا ہے۔
 
خبر رساں ادارہ روئٹرز کے مطابق سرد جنگ کے دنوں میں امریکہ اور سویت یونین دونوں نے 'ایف او ایس بی' نظام پر کام کیا تھا اور سویت یونین نے سنہ 1970 کی دہائی میں ایک ایسا نظام نصب بھی کیا تھا۔ لیکن اس کو سنہ 1980 کی دہائی کے وسط میں ہٹا بھی لیا گیا تھا۔ آبدوزوں کے ذریعے بلاسٹ میزائل لانچ کرنے سے بھی کافی دفاعی برتری حاصل ہو سکتی ہے جو 'ایف او بی ایس' سے حاصل ہوتی ہے جس سے میزائل کا پتا لگانے کا وقت بہت کم ملتا ہے اور یہ دشمن کے لیے یہ تعین کرنا ناممکن ہو جاتا ہے کہ یہ کہاں سے داغا گیا ہے۔
 
 
اس دوڑ میں کس کو سبقت حاصل ہے
فائنینشل ٹائمز نے ہفتے کو اطلاع دی تھی کہ چین نے ایک راکٹ داغا ہے جو ہائپرسانک گلائڈ وہیکل کو خلا تک لے کر گیا جہاں مدار میں اس نے دنیا کے گرد چکر لگایا اور پھر زمین پر اپنے ہدف کی طرف آیا اور جہاں یہ ہدف سے صرف دو درجن میل سے کم فاصلے سے جا کر ٹکرایا۔
 
اس سال جولائی میں روس نے کامیابی سے ٹسرکون ہائپرسانک کروز میزائل کا تجربہ کیا تھا جس کے بارے میں صدر ولادمیر پوتن نے کہا تھا کہ یہ جدید دور کے میزائل نظام کا حصہ ہے۔ ماسکو نے پہلی مرتبہ آبدوز سے بھی میزائل چلانے کا تجربہ بھی کیا تھا۔
 
امریکہ نے ستمبر کے آخر میں نے 'ائیر بریدنگ' ہائپر سانک ہتھیار کا تجربہ کیا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ یہ میزائل فضا میں کروز میزائل کی طرح اپنی پرواز کے دوران خود راستے کا تعین کرتا ہے۔ یہ سنہ 2013 کے بعد سے اس نوعیت کے میزائلوں کا پہلا تجربہ تھا۔
 
اس اعلان کے چند دنوں بعد شمالی کوریا نے ایک نئے ہائپر سانک میزائل کا تجربہ کیا اور اس کو 'سٹریٹجک ویپن' کا نام دیا جس سے اس کی دفاعی صلاحیتوں میں کئی گنا اضافہ ہوا گو کہ جنوبی کوریا کے کچھ ماہرین نے اس ناکام قرار دیا۔
 
اس کی اہمیت کیا ہے؟
یہ حالیہ تجربات ہتھیاروں کی ایک خطرناک دوڑ کا حصہ ہیں جس میں ایشیا کے چھوٹے ملک بڑے ملکوں کی طرح طویل فاصلوں تک مار کرنے والے ہتھیار بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
 
ہائپرسانک ہتھیار اور ایف او بی ایس اس لیے تشویش کا باعث ہیں کیوں کہ اس کے خلاف میزائلوں کے دفاعی نظام یا شیلڈ اور قبل از وقت خطرے سے آگاہ کر دینے والے نظام غیر موثر ہو جاتے ہیں۔
 
کچھ ماہرین نے کہا ہے کہ جس طرح کے میزائلوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ چین نے مئی میں تجربہ کیا تھا اس طرح کے میزائلوں کے بارے میں بڑھا چڑہا کر بات ہو رہی ہے۔
 
امریکہ میں میزائلوں کے ایک ماہر جیفری لیوس نے فائنینشل ٹائمز کی خبر پر ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ چین کے پاس سو سے زیادہ آئی سی بی ایم یا بین البراعظم بلاسٹک میزائل ہیں جو امریکہ کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ گلائیڈر ایک اچھا اضافہ ہے لیکن یہ پرانے نظریہ ہے لیکن میزائل دفاعی نظاموں کو غیر موثر کر دینے کی صلاحیت رکھنے کی وجہ ایک مرتبہ پھر نظروں میں آ گیا ہے۔
 
 
Partner Content: BBC Urdu
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
18 Oct, 2021 Views: 2122

Comments

آپ کی رائے