ظریفانہ: شادی کی عمر

(Dr Salim Khan, India)

للن یادو نے کلن شرما سے پوچھا یار تم لوگوں نے یہ کون سا نیا شوشہ چھوڑ دیا ؟
کلن نے ہنس کر کہا بھائی ایسا ہے کہ ہمارے ہر کام میں تمہیں عیب نظر آتا ہے۔ یہ ہمارا نہیں بلکہ تمہاری نظر کا قصور ہے۔
یار یہ تو الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے والی بات ہوگئی۔ تم لوگوں سے اصلاح کی غرض سے خیر خواہی کی جائے تو الٹا ہمیں کو قصوروار ٹھہرا دیتے ہو۔
مسئلہ یہی ہے کہ تم نے اپنے آپ کو خود ساختہ کوتوال بنالیا ہے اور ہمیں چور سمجھنے لگے ہو حالانکہ یہ دونوں باتیں غلط ہیں ۔
للن یادو کنفیوز ہوگیا ۔ اس نے پوچھا کون سی دو باتیں میں نہیں سمجھا ؟
کلن بولا یہی کہ نہ تم کوتوال ہو اور نہ میں چور ہوں ۔ خیر یہ تو بتاو کہ کس شوشے کی بات کررہے تھے؟
وہی شادی کی عمر ۔ سنا ہے سرکار لڑکی کے لیے شادی کی عمر بڑھا کر اکیس سال کرنے کا قانون بنارہی ہے ؟
ارے بھائی للن تم نہیں سمجھوگے ۔وہ تو ’لو جہاد ‘ کو روکنے کی ایک ترکیب ہے۔
للن نے حیرت سے پوچھا لیکن اس کا ’لوجہاد‘ سے کیا تعلق؟
وہ کیا ہے کہ ہماری ننھی منی ، بھولی بھالی لڑکیوں کو مسلمان لڑکے بہکا کر شادی کرلیتے ہیں ۔ اس مصیبت کو روکنے کے لیے یہ قانون ضروری ہے۔
بھائی کلن حقیقت میں ’لوجہاد‘ جیسی کوئی شئے تو ہے نہیں۔ بین المذاہب شادی کی روک تھام کے لیے اپنے صوبے میں ایک قانون پہلے سے موجود ہے ۔
ارے بھائی وہی تو بات ہے۔ یہ قانون سبھی ریاستوں میں نہیں ہے ۔ اب جو قانون بنے گا وہ پورے ملک پر نافذ ہوجائےگا ۔
اچھا سمجھ گیا ۔ لیکن تم سے کس نے کہہ دیا کہ اٹھارہ سال کی لڑکی ننھی منی ہوتی ہے؟
کلن نے الٹا سوال کردیا کہ اگر نہیں ہوتی تو کیا ہوتی ہے؟
یار ایسا ہے کہ ننھے منے بچے جب بڑے ہوتے ہیں تو انہیں اسکول میں داخل کیا جاتا ہے۔ ہمارے زمانے میں یہ عمر پانچ سال تھی اب تین سال ہوگئی ہے
بچے اگر پہلے سے پڑھنے لگیں تو اس میں غلط کیا ہے؟ نرسری اسکول والوں کا دھندا ہوتا ہے ۔ لوگوں کو روزی روزگار ملتا ہے۔ تمہیں کیاتکلیف ہے؟
غلط کچھ بھی نہیں ہے ۔ میں تو صرف یہ کہہ رہا تھا کہ ننھے منے ہونے کی عمر گھٹ رہی اور تم لوگ اسے بڑھا رہے ہو ۔ دماغ تو ٹھیک ہے۔
دیکھو للن یہ تو سیاست ہے کہ تم نے میرے جملے میں سے ننھا منا تو پکڑ لیا مگر بھولا بھالا چھوڑ دیا۔ ایسا نہیں چلے گا۔
وہی بات کہ بچہ اگر کم عمری میں اسکول چلاجائے اور اسے بلا خرچ واٹس ایپ یونیورسٹی میں داخلہ مل جائے تو وہ بھولا بھالا کیسے رہے گا ؟
یہ تو ہمارے دور اندیش وزیر اعظم کی وجہ سے ہے کہ انہوں نے انٹر نیٹ کو عام کردیا ۔ ہر کسی کو یہ سہولت مہیا کروادی ۔
دیکھو بھائی انٹر نیٹ سے تمہارے پردھان جی سے پہلے آیا بلکہ وہ خود اس کو استعمال کرکے اقتدار میں آئے۔
چلو مان لیا لیکن انہوں نے اسے عام یعنی سستا تو کردیا ۔
وہ تو جیو نے اپنے حریفوں کو بازار سے نکالنے کی خاطر انٹرنیٹ سستا کردیا اور اس لیے عام بھی ہوگیا ۔ تمہارے پردھان جی نے تو الٹاایندھن مہنگا کردیا ۔
بھائی للن احسانمندی تو تم لوگوں کو چھو کر بھی نہیں گئی۔ پردھان جی اگر اپنا کلیجہ نکال کر رکھ دیں تب بھی تم لوگ اس میں کیڑے نکالوگے ۔
کلن بات کلیجے کی نہیں ہے۔ تم لوگ جو نت نئے قوانین بناکر عوام کا جینا دوبھر کررہے ہو۔ کبھی سی اے اے تو کبھی شادی کی عمرآخر چاہتے کیا ہو؟
ہماری چھوڑو اور اپنی بتاو کہ تم کیا چاہتے ہو؟ یہی نا کہ اپنی بھولی بھالی لڑکیوں کو ’لو جہاد ‘ کی آگ میں جھونک دیا جائے ؟
ارے بھائی میں کہہ چکا ہوں کہ اگر دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ بچپن سے انگلی کے اشارے پر ناچنے لگیں تو بچیاں اٹھارہ سال تک بھولی بھالی نہیں رہتیں ۔
اچھا اگر نہیں رہتی تو کیا ہوجاتی ہیں۔
وہ سمجھدار اور پختہ ذہن ہوجاتی ہیں۔ اپنااچھا براسمجھ کر خوداعتمادی سے اپنے لیےدرست یا غلط جو بھی فیصلے ضروری ہوں خود کرنے لگتی ہیں۔
یہی تو بات ہے کہ انہیں غلط فیصلے کرنے سے روکنے کے لیے شادی کی عمر میں اضافہ کیا جارہا ہے۔
للن ہنس کر بولا بھائی غلط فیصلوں کا عمر سے کیا تعلق ؟ تم اگراکہتر سال کی عمر میں غلط فیصلے کرسکتے ہو تو کوئی لڑکی اکیس سال میں کیوں نہیں کرسکتی ؟
کلن نے کہا میں سمجھ گیا ۔ اچھا تو کیا تم اٹھارہ سال کی عمر میں ہی لڑکی پر شادی کا بوجھ ڈال دینا چاہتے ہو۔
پہلی بات تو شادی کوئی بوجھ نہیں ہے وہ تو الٹا ذمہ داریوں کا بوجھ ہلکا کرتی ہے۔ دو لوگ مل جل کر اپنی ازدواجی فرائض کو آپس میں تقسیم کرلیتے ہیں۔
یار للن تمہاری ہر منطق مجھے الٹی دکھائی دیتی ہے ۔ میں تو شادی سے متعلق جتنے بھی لطیفے پڑھتا ہوں ان میں وہ ایک بہت بڑا بوجھ ہی محسوس ہوتی ہے۔
وہ ایسا ہے کلن کہ لطیفہ تو آخر لطیفہ ہوتا ہے۔ شادی کا پتہ تو اسی وقت پتہ چلےگا کہ جب تم شادی کرو گےلیکن برہماچریہ نے تمہیں اس سے محروم کردیا۔
کلن نے کفِ افسوس ملتے ہوئے کہا جی ہاں اور اب اس کا موقع بھی نہیں۔
خیر جو ہواسوہوگیا لیکن اگر تم لوگ اپنے سماج کی بچیوں کو پریشان کرنے پر کیوں تُل گئے ہو؟
ارے بھائی میں کہہ چکا ہوں ہم عصرِ جدید میں ان کے اوپر سے بوجھ ہلکا کرنے کی خاطر ہم قانون بنارہے ہیں۔ اس میں تمہیں اعتراض کیوں ہے؟
پہلے عورت خاتون خانہ تھی۔ عصرِ جدید نے اس پر کیریر کے بہانے معاشی بوجھ ڈالا ۔ سماجی اور سیاسی کاموں میں الجھا کرزندگی اور بھی بوجھل کردی۔
تو کیا خواتین کو ان سب کاموں سے روک دیاجائے؟
بوجھ اگر ہلکا ہی کرنا ہے تو اس پر توجہ دی جائے ۔ شادی کو آسان کرکے ان میں سے کچھ ذمہ داریاں شوہر کے سر ڈال کر اسے ہلکا کیا جا سکتا ہے ۔
تو کیا ہم مشکل کررہے ہیں ۔
اور نہیں تو کیا ؟ عمر بڑھا کہ مشکل نہیں تو اور کیا کررہے ہو؟
اچھا للن اس شادی کی عمر کے بڑھانے کا ایک معقول نقصان بتا دو تو میں اپنے بڑوں کو سمجھانے کی کوشش کروں گا۔
دیکھو کلن جن کی شادی دیر سے ہوتی ہے تو ان کے بچوں کی جوانی سے پہلے وہ بوڑھے ہوجاتے ہیں ۔
کلن نے پوچھا تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟
اس سے یہ ہوتا ہے کہ نہ وہ اپنے بچوں کا معاشی بوجھ اٹھا پاتے ہیں اور نہ بچے اپنے والدین کی دیکھ ریکھ کرپاتے ہیں ۔ دونوں خسارے میں رہتے ہیں۔
ارے بھائی یہ قانون لڑکی کے لیے بن رہا ہے تو اس کو کیا مشکل ہوگی یہ تو بتاو۔
دیکھو سماج میں تین طرح کی لڑکیاں ہیں ۔ ایک جو شادی نہیں کرنا چاہتیں اور دوسرے کرنا تو چاہتی ہیں مگر مناسب رشتہ نہیں ملتا ۔
کلن بیچ میں بول پڑا جی ہاں سمجھ گیا اور تیسری وہ جو شادی کرنا چاہتی ہیں اور اس کے لیےرشتہ بھی مل گیا ہو لیکن اس قانون سے کسی کو دقت کیاہے؟
ایسا ہے کہ اس قانون سے پہلے دونوں زمروں کی لڑکیوں کا کوئی فائدہ نہیں ہے لیکن تیسری کا نقصان ہے۔
اس میں نقصان کیا ہے۔ تین سال کے لیے ایک تقریب ملتوی سمجھ لو۔
دیکھو للن شادی کوئی تقریب نہیں اس لڑکی حق ہے جس سے آپ لوگ اسے محروم کررہے ہیں اور یہ بھی ہوسکتا کہ تین سال میں وہ رشتہ چلا جائے؟
ارے بھائی ایک چلا جائے تو دوسرا آبھی تو سکتا ہے؟
کیوں نہیں ، ضرور آسکتا ہے لیکن شادی میں دلچسپی کم ہوجائے تو وہ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے ۔
دلچسپی کی کمی والی بات سمجھ میں نہیں آئی للن ۔
ارے بھائی مختلف ترقی یافتہ ممالک جیسے یوروپ اور جاپان وغیرہ میں لوگوں کی شادی میں دلچسپی کم ہورہی ہے جو ایک سنگین مسئلہ ہے ۔
اس میں کیا مسئلہ ہے۔ نہ شادی نہ بچے ۔ آبادی اپنے آپ کم ہوجائے گی ۔
آبادی کا کم ہونا مسئلہ ہے یہ تم سے کس نے کہہ دیا ہے؟
ارے بھائی ہم تو بچپن سے یہی سنتے آئے ہیں ؟
اچھا یہ بتاو آج دنیا میں سب سے آگے کون سا ملک ہے ؟
یار کوئی کہتا ہے امریکہ اور کوئی چین کا دعویٰ کرتا ہے؟
ٹھیک ہے چین کی آبادی سب سے زیادہ ہے اور امریکہ بھی تیسرے نمبر پر ہے۔ تو یہ بتاو کہ ترقی زیادہ آبادی والے کررہے ہیں یا کم آبادی والے؟
یار للن تمہارے سوالات مجھے کنفیوز کردیتے ہیں ۔
کوئی بات نہیں کلن ویسے دیر سے شادی کم بچوں کی گارنٹی نہیں ہے مگر آبادی کم ہونے لگے تو اور بھی کئی مسائل پیدا ہونے لگتے ہیں ۔
اچھا ! تم کن مسائل کا ذکر کررہے ہو میں نہیں سمجھا؟
اس سے کچھ مدت کے بعد سماج میں بوڑھوں کی تعداد زیادہ اور جوانوں کی کم ہوجاتی ہے۔ کام کرنے کے لیے لوگوں کو باہر سے لانا پڑتا ہے۔
یار للن تمہاری بات تو ٹھیک لگتی ہے لیکن کیا ہے نہ کہ ہمارے لوگوں کو اس تجربہ نہیں ہے ۔
ہاں یار اول توسنگھ پرچارک شادی نہیں کرسکتا ۔ جس کی پہلے سے ہوچکی ہووہ اپنی اہلیہ کو چھوڑ دیتاہے اور جو بعد میں کرے اسے تم لوگ ہٹادیتے ہو ۔
جی ہاں یہی مسئلہ ہے اور یہی لنڈورےموجودہ سرکار کے فکری رہنما اور مربی بنے ہوئے ہیں ۔
ہاں بھائی کلن تو اس کا علاج یہ ہے کہ سنگھ کے رہنماوں کو چاہیے کہ وہ سرکار کی اس میدان میں مشورہ دیں جس کا انہیں تجربہ ہے دیگر امور سے بازرہیں
اچھا تو کیا سنگھ پریوا راپنی ہی سرکار سے رشتہ منقطع کرکے گھر میں بیٹھ جائے ؟
یہ میں نے کب کہا؟ سنگھ کو نفرت پھیلانے اور لوگوں کو آپس میں لڑانے بھڑانے کا طویل تجربہ ہے ۔ وہی سب سکھاتا رہے یہ کافی ہے۔
یار للن آج تم الٹا مشورہ دے رہے ہو یا طنز کررہے ہو؟
بھائی جو چاہو سمجھو ۔ تمہاری مرضی ۔ دونوں میں بھلائی ہے۔


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1626 Articles with 788309 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Dec, 2021 Views: 448

Comments

آپ کی رائے