بابا مجھے معاف کر دیں میں کمزور پڑ گئی، ڈاکٹر بننے والی لڑکی نے مرنے سے پہلے خط میں ایسا کیوں لکھ ڈالا جس نے سب کو جذباتی کر دیا

 
انسان کی گود میں جب اس کی اولاد پہلی بار آتی ہے تو اس کی آنکھیں خود بخود کچھ خواب دیکھنا شروع کر دیتی ہیں۔ ان خوابوں میں اولاد کی اعلیٰ تعلیم اور ترقی کا خواب بھی ہوتا ہے اور اس کے بعد ان کی شادی اور خوشگوار زندگی کا خواب بھی ہوتا ہے-
 
اس خواب کی تکمیل کے لیے ماں باپ اپنے آرام اپنی خواہشوں سب کو پس پشت ڈال دیتے ہیں رات دن محنت کر کے اپنی اولاد کو کسی مقام پر دیکھنے کی خواہش انہیں ہر روز نئی ہمت اور توانائی دیتی ہے-
 
ایسا ہی کچھ دادو کے رہائشی خالد جمیل راجپوت کے ساتھ بھی ہوا جنہوں نے اپنی بیٹی عصمت راجپوت کو ڈاکٹر بنانے کے لیے ہر طرح کی محنت اور سپورٹ کی ان کی بیٹی پیپلز میڈیکل کالج میں چوتھے سال کی طالبہ تھی- ایک باپ کے لیے یہ بہت قابل فخر لمحہ تھا کہ ایک سال کے بعد ان کی بیٹی ایم بی بی ایس مکمل کر کے ڈاکٹر بن جائے گی-
 
مگر ان کا یہ خواب 8 جنوری 2021 کو اس وقت ٹوٹ گیا جب ان کی رہائش گاہ سیتا روڈ پر ان کی بیٹی عصمت نے خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی- مرنے سے پہلے اپنے ماں باپ کے نام لکھے گئے ایک سادہ سے خط میں اگرچہ الفاظ کم تھے مگر جذبات بہت بھاری تھے-
 
 
عصمت نے اپنے ماں باپ کے نام خط میں ان سے معذرت کرتے ہوئے معافی مانگی اور اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ کمزور پڑ گئی اس وجہ سے خود کشی کر رہی ہے- اس کے ساتھ اس نےاس بات کو بھی تسلیم کیا کہ اس کو ڈاکٹر بنانے میں اس کے ماں باپ نے بڑھاپے کے باوجود سخت محنت کی-
 
تفصیلات کے مطابق عصمت کی خودکشی کا سبب شامان سولنگی نامی ایک شخص تھا جن سے عصمت کے ساتھ ان کے والد کے مطابق جعلی نکاح نامہ بنا رکھا تھا اور اس کی بنیاد پر اس کو بلیک میل کر رہا تھا اور ہر دوسرے دن آکر رخصتی کا مطالبہ کرتا تھا-
 
جس نے عصمت اور اس کے گھر والوں کو سخت ذہنی دباؤ میں مبتلا کر رکھا تھا گزشتہ مہینے ہی انہوں نے اس کے اکاؤنٹ میں 90 ہزار روپے جمع کروائے تھے مگر اس کے مطالبے بڑھتے جا رہے تھے جس کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہو کر عصمت نے یہ انتہائی قدم اٹھایا-
 
 
اس واقعہ کا سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی محمد شیخ نے نوٹس لے لیا ہے اور انہوں نے ڈی آئی جی اور ایس ایس پی سے اس سارے واقعہ کی فوری رپورٹ بھی طلب کر لی ہے-
 
یاد رہے کہ اندرون سندھ میں ڈاکٹر بننے والی لڑکیوں کی خودکشی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اس طرح کے واقعات ایک تسلسل کے ساتھ گزشتہ دو سالوں سے سامنے آرہے ہیں اور ان تمام لڑکیوں کی خودکشی کی وجہ یہی بلیک میلنگ ہے امید ہے کہ چیف جسٹس اس حوالے سے مکمل تحقیقات کریں گے-
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
10 Jan, 2022 Views: 61707

Comments

آپ کی رائے