جمعہ نامہ: اتحادِ امت کی عملی مثال

(Dr Salim Khan, India)

اتحاد امت پر زور دینے کے لیے یہ آیت ضرور پڑھی جاتی ہے:’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو، اور اپنے اوپر اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جب تم (ایک دوسرے کے) دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کردی اور تم اس کی نعمت کے باعث آپس میں بھائی بھائی ہوگئے‘‘۔ آیت کے اس حصے کا اختتام چونکہ اخوت اسلامی پر ہوتا ہے اس لیے بجا طور پر یہ اتحادِ اسلامی سے متعلق اہم ہدایت ہے۔ بلا شبہ اسلامی اتحاد ایک عظیم ربانی نعمت ہے لیکن اس کے لیے قلبی الفت کی موجودگی کو شرطِ اول قرار دیا گیا ہے۔ افرادِمت اگر اپنے آپ کو اس نعمت کا مستحق نہ بنائیں تو جس بھائی چارے کا یہاں ذکر کیا گیا ہے اس کا حصول ممکن نہیں ہے۔ اتحاد امت کے برعکس تفرقہ بازی اور دشمنی ملت کے لیے کس قدر خطرناک ہے اس ذکر آیت کے اگلے حصے میں اس طرح بیان ہوا ہے کہ :’’اور تم (دوزخ کی) آگ کے گڑھے کے کنارے پر(پہنچ چکے) تھے پھر اس نے تمہیں اس گڑھے سے بچا لیا‘‘۔ یہاں پر نارِ جہنم کی تخصیص نہیں کیونکہ باہمی منافرت دنیا کو بھی جہنم زار بنادیتی ہے۔

اتحادِ امت کی ضرورت و اہمیت کے ساتھ یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر امت اپنے آپ کو نعمتِ عظمیٰ کا حقدار کیسے بنائے ؟ اس کی خاطر تفرقہ بازی سے رکنے کےعلاوہ یہ حکم دیا گیا کہ سارے اہل ایمان اللہ کی رسی یعنی قرآن حکیم کو مل جل کر تھام لیں۔ قرآن مجید کو تھامنے کے معنیٰ قرآنی تعلیمات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لینا اور کتاب و سنت کی پیروی کرنا ہے۔ اس موقع پر یہ سوال ذہن میں آسکتا ہے کہ رسی کو تھام لینے سے اتحاد کیونکر قائم ہوجائے گا ؟ فرمانِ رسول ﷺ ہے۔’’اللہ کی کتاب (کو تھامے رکھنا) جو آسمان سے زمین تک تنی ہوئی ایک رسّی ہے‘‘۔ اس حدیث کے مطابق قرا ٓن مجید اللہ کی رسی ہے ۔ ایک طویل حدیث کا آخری ٹکڑا یہ بھی ہے کہ :’’ پس تم خوشیاں مناؤ ‘ اس لیے کہ اس قرآن کا ایک سرا اللہ کے ہاتھ میں ہے اور ایک سرا تمہارے ہاتھ میں ہے‘‘۔ گویا یہ رسی نہ صرف اہل ایمان کو ایک دوسرے سے بلکہ اللہ رب العزت سے بھی جوڑ دیتی ہے۔ یعنی مخلوق خداوندی کا ایک دوسرے کے علاوہ اپنے خالق سے مربوط ہوجانا انہیں بنیان المرصوص میں تبدیل کردیتا ہے۔

یہ کیونکر ممکن ہے اس کو عصرِ حاضر میں گھڑی کی مثال سے بہ آسانی سمجھا جاسکتا ہے۔حسن اتفاق سے ہماری نسل گھڑی کے ارتقائی عمل کی شاہد ہے ۔ ایک زمانے میں گھڑی کو چابی دینا پڑتا تھا اور بھول جانے پر وہ بند ہوجایا کرتی تھی۔ اس کےبعد خودکار دستی گھڑیا ں بازار میں آئیں جن میں ہاتھ کے ہلنے سے اپنے آپ یہ کام ہوجاتا تھا لیکن دیوا ر پر لگی بے حس و حرکت گھڑی چابی کی محتاج تھی ۔اس کے بعد بیٹری کے استعمال نے اسے بھی چابی سے بے نیاز کردیا۔ایک زمانے تک گھڑیوں کے وقت میں اختلاف ہوا کرتا تھا اور لوگ ریڈیو پر سن کر گھڑی کا وقت درست کیا کرتے تھے۔ مسجد میں ایک زائد گھڑیوں پر الگ الگ وقت ہوتا تو لکھنا پڑتا کہ اس گھڑی کے مطابق نماز ہوگی لیکن پھر موبائل میں گھڑی آئی اور وہ انٹرنیٹ سے منسلک ہوگیا ۔ اس طرح گھڑیوں میں وقت کاازخود فرق ختم ہوگیا۔ اب ہر جیب کے موبائل میں یکساں وقت ہوتا ہے۔ اس چمتکار کی بنیادی وجہ ان سب ایک مرکزی نظام سے مربوط ہوجانا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جو ظاہر پرست خدا کے وجود کو تسلیم کرنے کے لیےمشاہدے کی شرط لگاتے تھے ان سب نے کمپیوٹر کے ماسٹر سرور کو تو نہیں دیکھا مگر کوئی اس کے عدم وجود کا اعلان نہیں کرتا۔ یہ بھی ایک حسن اتفاق ہے کہ موبائل کے ساتھ موبائل کےلاسلکی رابطے کو دیکھا تو نہیں جاسکتا مگر وہ باہمی اختلاف کو پوری طرح ختم کردیتا ہے۔ اس نشانی کو بسرو چشم دیکھنے کے باوجود اگر کوئی اللہ کی رسی کو تھا منے سے اتحاد کے قیام کا مطلب نہ سمجھے تو وہ اناڑی ہے۔ عصرِ حاضر میں خدائی وجود اور ذات باری تعالیٰ سے بصد اخلاص جڑ جانے پر باہمی اختلافات کے خاتمے کی یہ بہترین نشانی ہے۔ پوری امت کا قرآن حکیم کے کتاب اللہ ہونے پر اتفاق ہے۔ اب اگر سارے مومن اس حبل اللہ کو عملاً تھام لیں تو اتحاد امت کا منظر ازخود رونما ہوجائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ آیت کے اختتام میں فرمایا :’’ یوں ہی اللہ تمہارے لئے اپنی نشانیاں کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم ہدایت پا جاؤ‘‘۔ یعنی اس آیت میں بیان کردہ آگ کا گڑھا اور رسی دونوں ایسی تماثیل ہیں جو اتحاد کی راہ ہموار کردیتی ہیں ۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1626 Articles with 784783 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Jan, 2022 Views: 389

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ