ملزم اپنی ماں سے ضرور رابطہ کرتا ہے... پاکستان کا وہ پولیس افسر جس نے کئی مجرموں کو صرف چند گھنٹوں میں پکڑا، سراغ کیسے لگائے؟

 
’ملزم چاہے اشتہاری ہو یا خواہ اس نے کتنا ہی بڑا جرم کیا وہ کسی اور سے رابطہ کرے یا نہ کرے لیکن اپنی ماں سے رابطہ ضرور کرتا ہے۔’
 
یہ کہنا ہے لاہور کے ایک پولیس افسر کا جنھوں نے اپنے کریئر میں سنگین جرائم میں ملوث بہت سے خطرناک ملزموں کو گرفتار کیا۔ ان میں ڈاکو، قاتل، اور ریپ کرنے والوں کے علاوہ اور کئی طرح کے جرائم میں ملوث افراد شامل ہیں۔
 
جاوید صدیق ایسے پولیس افسر ہیں جن کی کبھی ٹرانسفر ہوئی بھی تو علاقے کے عوام کے مطالبے پر اُن کے ٹرانسفر کے احکامات واپس لے لیے گئے۔
 
انھیں ٹیکنالوجی، جیوفینسنگ، لوکیشن ڈیٹا اور کال ریکارڈز سے پہلے کے وقتوں میں اپنی جانب سے مشکل کیسز کو حل کرنے پر خود پر فخر ہے، جب وہ جرم اور جائے واردات سے ملنے والے نشانات، علامتوں اور حالات کی کڑی سے کڑی ملا کر کئی کیسز کو حل کرنے میں کامیاب رہے۔
 
جاوید صدیق سنہ 1987 میں پولیس میں بطور اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) بھرتی ہوئے۔ سنہ 1990 میں بطور سب انسپکٹر ان کی ترقی ہوئی۔ سنہ 2003 میں جاوید صدیق کو انسپکٹر اور پھر سنہ 2018 میں انھیں ڈی ایس پی بنا دیا گیا۔
 
تین عشروں سے زائد عرصے پر پھیلے پولیس کریئر میں جاوید صدیق شاید وہ واحد پولیس افسر ہیں جو لاہور کے 80 سے زائد تھانوں میں سے آدھے سے زیادہ تھانوں میں بطور ایس ایچ او تعینات رہے ہیں۔
 
’ملزم نے بھیس بدلا ہوا ہے، داڑھی رکھی ہوئی ہے‘
اپنے کریئر کے ایک اہم کیس سے متعلق بات کرتے ہوئے جاوید صدیق نے بتایا کہ وہ ایس ایچ او شادباغ تعینات تھے جب 60 سے 70 مقدمات میں ایک اشتہاری ملزم راشد بٹ کو انھوں نے گرفتار کیا جس کے سر کی قیمت 10 لاکھ روپے مقرر تھی۔
 
راشد بٹ اور اس کا بھائی محمود بٹ بدنامِ زمانہ مجرم تھے۔ بھتہ، ڈکیتی، چوری، قتل اور دیگر وارداتوں میں ملوث تھے اور لاہور کے تقریباً ہر علاقے میں وارداتیں کرتے تھے۔
 
انھیں گرفتار کرنے کے لیے پولیس کی متعدد ٹیمیں تشکیل دی جا چکی تھیں حتیٰ کہ سی آئی اے پولیس کی ٹیمیں بھی ان ملزموں کی گرفتاری میں کوشاں تھیں لیکن اس سب کے باوجود وہ پولیس کی گرفت سے باہر تھے۔
 
جاوید صدیق کے مطابق انھیں ایک روز مخبر سے اطلاع ملی کہ راشد بٹ قصور میں چھپا بیٹھا ہے لیکن وہاں چھاپہ مارنے پر بھی وہ نہ ملا۔ اس کے بعد دوبارہ مخبر سے اطلاع ملی کہ ملزم راشد بٹ پاکپتن میں کہیں بھیس بدل کر رہ رہا ہے۔
 
’کیوںکہ میں نے راشد بٹ کا پہلے بھی ایک کیس میں چالان کیا ہوا تھا اس لیے میں اس کے تمام فیملی ممبرز سے واقف تھا کہ وہ کہاں رہتے ہیں۔ میں نے اس کی فیملی کی ریکی شروع کر دی۔’
 
 
جاوید صدیق کہتے ہیں کہ یہ ایک طے شدہ سی بات ہے کہ ’کریمنل نے کتنا بڑا بھی جرم کیا ہو اور خواہ وہ اشتہاری ہی کیوں نہ ہو، باقی کسی سے رابطہ نہ بھی کرے مگر وہ اپنی ماں سے ضرور رابطہ کرتا ہے۔’
 
’ملزم راشد بٹ کی والدہ شالیمار میں کرائے کے مکان پر رہتی تھیں۔ وہاں سے جا کر پتا چلا کہ یہ مہینے میں ایک آدھ دفعہ کہیں جاتی ہیں اور تین چار دن بعد واپس آتی ہیں۔ ان کی والدہ کی ریکی سے پتہ چل گیا کہ وہ پاکپتن جاتی ہیں۔ وہاں سے پتہ کیا تو معلوم ہوا کہ پاکپتن میں ان کا کوئی بھی نہیں۔ وہ جس محلے میں جاتی تھیں وہاں سے پتا چلا کہ ایک ریکارڈ یافتہ ملزم پاکپتن میں ہے جو لاہور میں بھی وارداتیں کرتا تھا اور جیل میں بھی بند رہا تھا۔’
 
’جب جیل ریکارڈ چیک کیا تو وہ راشد بٹ کے ساتھ جیل میں رہا تھا، ہمیں سمجھ آ گئی جو ملزم پاکپتن میں رہنے والا تھا وہ راشد بٹ کا دوست تھا۔ ہمیں پتہ چل گیا کہ راشد بٹ بھی وہیں اسی محلے میں کہیں رہ رہا ہے۔ وہاں ہم نے ریکی کی تو پتہ چلا کہ وہ یہاں پر ایک بابا جی بنے ہوئے ہیں۔ بھیس بدلا ہوا ہے داڑھی رکھی ہوئی ہے، جب بابا جی کے متعلق پتہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ راشد بٹ ہے، ہمارا ملزم۔’
 
جاوید صدیق کے مطابق ایک ریڈنگ پارٹی تشکیل دی گئی اور اسے تب گرفتار کیا جب وہ چھت پر سویا ہوتا تھا۔ راشد بٹ کو پاکپتن سے گرفتار کر کے لایا گیا، چالان جمع ہوا اور بلآخر انھیں عدالت نے سزائے موت سُنا دی۔
 
’وہ گذشتہ 14 برس سے جیل میں ہی قید ہیں۔ اسی سال اس کے بھائی محمود بٹ اور ان کے دوست کاکا گاڈی بھی گرفتار کیے گئے۔ یہ سب اشتہاری تھے جن کے سر کی قیمت لاکھوں روپے مقرر کی گئی تھی۔’
 
جاوید صدیق اور ان کی ٹیم کو ان تینوں ملزموں کی گرفتاری پر 13 لاکھ روپے انعام اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے خود دیا تھا۔
 
’فلیٹ کے فرش پر خون ہی خون تھا‘
یہ سنہ 1995 کی بات ہے اور فروری کی سردیوں کی ایک خنک رات تقریباً دس بج چکے ہیں۔ کئی پولیس اہلکار رمضان میں نمازِ تراویح اور اپنی گشت کی ڈیوٹی سے فارغ ہو کر تھانے پہنچے ہیں۔ ایڈیشنل ایس ایچ او وحدت کالونی سب انسپکٹر محمد جاوید صدیق اس وقت اپنے ایس ایچ او کے پاس بیٹھے ہیں کہ اچانک 10-12 لوگ بھاگتے ہوئے تھانے کے اندر داخل ہوتے ہیں۔
 
گھبرائے ہوئے ان لوگوں کو ایس ایچ او سے ملوایا جاتا ہے اور وہ بتاتے ہیں کہ تھانے کے قریب ہی بنے فلیٹوں میں رہنے والے ایک نابینا امام کو کچھ نامعلوم لوگ چھریوں کے وار کر کے زخمی کر گئے ہیں۔ انھیں ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔
 
 
جاوید صدیق کو کہا جاتا ہے کہ وہ سائلین کے ساتھ جائیں اور جائے وقوعہ دیکھ کر قانونی کارروائی کریں۔ جاوید صدیق پیدل ہی ان سائلین کے ساتھ جائے وقُوعہ کی طرف چل پڑے جو تھانے سے محض 200 سے 300 قدم کے فاصلے پر ہے۔
 
سب انسپکٹر جاوید صدیق نے جا کر دیکھا کہ دو کمروں کے ایک چھوٹے سے فلیٹ میں ہر طرف خون ہی خون ہے اور قاری صاحب کی ادھیڑ عمر نابینا بیوی غم سے نڈھال مسلسل تسبیح پڑھنے میں مصروف ہیں۔
 
ان کے ساتھ ان کی ایک چھوٹی بچی بھی ہے۔ زخمی نابینا حافظِ قرآن کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا، جہاں ڈاکٹرز ان کی جان بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔
 
جاوید صدیق کے بار بار پوچھنے پر کہ اُن کے شوہر کو کس نے زخمی کیا ہے اور رات کے اس وقت گھر پر کون آیا تھا ان خاتون نے بس اتنا ہی کہا کہ ان کے شوہر تھوڑی دیر تک ہسپتال سے گھر لوٹ آئیں گے تو وہی بتائیں گے کہ کیا ہوا تھا۔
 
قاری صاحب کی موت ہو گئی
ابھی تھوڑی دیر ہی گزری ہو گی کہ سب انسپکٹر جاوید صدیق کو ہسپتال سے اطلاع ملی کہ قاری صاحب کی موت ہو گئی ہے۔
 
یہ کسی پروفیشنل پولیس افسر کے لیے ایک مشکل مرحلہ تھا کہ کیوںکہ ابھی تک وہ متاثرہ خاتون سے اس واردات کے متعلق معلومات نہیں لے پائے تھے کہ ان کے شوہر کی موت کی اطلاع آ گئی۔
 
جاوید صدیق نے تھوڑی دیر تک سوچنے کے بعد فیصلہ کیا کہ ابتدائی معلومات لینے تک ان کی بیوہ کو قاری صاحب کی موت کے متعلق نہ بتایا جائے تاکہ ان کی تحقیقات میں مزید رکاوٹ نہ پڑے۔
 
جاوید صدیق کے ذہن میں کئی طرح کے سوال تھے جن میں چند ایک بڑے بنیادی نوعیت کے تھے: ’پتہ چلایا جائے کہ قاری صاحب نے اپنے گھر کا دروازہ رات کے اس وقت کن لوگوں کے لیے کھولا ہو گا؟ وہ کون لوگ ہو سکتے ہیں جو انھیں ملنے رات کے اس وقت آئے ہوں گے؟’
 
کافی کوششوں کے بعد قاری صاحب کی بیوہ نے جاوید صدیق کو بتایا کہ جب دروازے پر دستک ہوئی تو قاری صاحب نے کہا کہ ’مہمان آئے ہیں، میں ان کی بات سُن کے ابھی آتا ہوں۔‘
 
جب انھوں نے مہمانوں کو اندر بٹھایا تو قاری صاحب 10 منٹ بعد اندر آئے اور کہا کہ ’یہ لوگ جا نہیں رہے’ اور دوبارہ مہمانوں کے پاس چلے گئے۔
 
خاتون کہنے لگیں کہ تھوڑی دیر بعد قاری صاحب کے چیخنے کی آواز آئی اور اتنی دیر میں لوگ بھی اکٹھے ہو گئے۔ تب پتا چلا کہ قاری صاحب کو کوئی چھریاں مار کر زخمی کر گیا ہے۔
 
 
جاوید صدیق بتاتے ہیں کہ ان خاتون سے مجھے معلوم ہوا کہ گڑھی شاہو میں قاری صاحب رہائش پذیر رہے۔ وہاں کے لوگوں کا ان سے کافی ملنا جلنا تھا اور وہ ان کی طرف آتے ہیں۔
 
خاتون نے بتایا ’مجھے شک ہے وہاں کے لوگ آئے ہوں گے۔ قاری صاحب ان کو گھر بٹھاتے تھے۔’ جاوید صدیق نے خاتون سے اصرار کیا کہ وہ ان ملنے کے لیے آنے والوں میں سے چند ایک کے نام بتا دیں۔
 
وہ کہتے ہیں ’مجھے یاد ہے ان خاتون نے کہا کہ ایک رکشے والا ہے، ایک حافظ مٹِیرئیل سٹور والا ہے، ایک چائے والا ہے۔ ان سے لین دین ہے، خوشی غمی ہے۔ اُس وقت اتنی باتوں کے علاوہ ہمیں کسی بات کا پتا نہ چلا۔‘
 
جاوید صدیق نے وہیں سے اپنی ٹیم ساتھ لی اور گڑھی شاہو کی طرف نکل پڑے۔ ابھی تک انھیں بس اتنا ہی بتایا گیا تھا کہ مین روڈ پر وہ مسجد تھی جہاں قاری صاحب امامت کرواتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے پاس باقی کوئی تفصیل نہیں تھی کیوںکہ یہ خاتون انھیں کوئی محلہ یا گلی بھی نہ بتا پائیں۔
 
’سحری سے پہلے میں وہاں پہنچ گیا۔ جا کر رکشہ سٹینڈ والوں سے، چائے والے، حافظ مٹیرئیل والے اور رکشے والے کے متعلق پوچھا۔ ان لوگوں نے بتایا کہ حافظ مٹیرئیل والے کو وہ نہیں جانتے لیکن ان میں سے ایک نے ہاتھ کے اشارہ سے کہا کہ ’وہ سامنے جو دُکان ابھی کھلی ہے، وہ چائے والے کی دکان ہے اور وہ بچہ اسی دکان پر کام کر رہا ہے۔’
 
جاوید صدیق کہتے ہیں کہ ’انھوں نے جا کر بچے سے پوچھا کہ دکان کا مالک کہاں ہے؟ تو اس نے کہا کہ ’وہ تھوڑی دیر تک آئیں گے۔‘
 
جاوید صدیق نے کہا کہ ’بیٹا ہمیں جلدی ہے۔ ہمیں گھر دکھا دو۔ اس پر اس بچے نے جلدی سے چولھا بند کیا، بھاگ کر گیا اور گھر دکھا کر واپس آ گیا۔ گھر کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ ہم نے دستک دی اور دروازہ کھولنے والے سے پوچھا تو وہ چائے والا ہی تھا۔‘
 
’ہم نے اسے وہاں سے ساتھ لیا اور اس سے پوچھا کہ حافظ مٹیرئیل سٹور والے کہاں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’میں اس کے پاس لے جاتا ہوں۔‘ وہ اس کے گھر لے گئے۔ وہاں سے اُنھیں ساتھ لیا۔ پھر ان سے پوچھا کہ رکشے والا کہاں رہتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کافی دیر ہو گئی، وہ ادھر سے غازی آباد شفٹ ہو گئے ہیں۔’
 
جاوید صدیق نے پوچھا کہ آپ کو غازی آباد والے گھر کا پتا ہے؟ انھوں نے کہا کہ ’گھر کا نہیں پتا۔‘ تھوڑی دیر بعد انھوں نے کہا کہ ’مجھے یاد آیا، ان کا ایک برادرِ نسبتی اِدھر رہتے ہیں، گڑھی شاہو میں۔ ان کے گھر کا پتا ہے۔’
 
جاوید صدیق نے کہا کہ ’ان کے پاس لے چلیں۔ پہنچ کر رکشے والے کے برادرِ نسبتی سے پوچھا کہ غازی آباد میں ان کا گھر کہاں ہے، آپ کو پتا ہے؟ جواب ملا کہ ’پتا ہے‘ تو ہم انھیں ساتھ لے کر غازی آباد چلے گئے۔
 
ان کے گھر پہنچے تو ایک مرلے کا گھر تھا اور ان کی 5/6 ان کی بیٹیاں تھیں۔ ایک ان کا بیٹا تھا۔ ان کی بیٹی نے بتایا کہ ’ابو رکشا چلا کر ابھی واپس نہیں آئے ہیں۔ گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے تک واپس آئیں گے۔‘
 
’میں نے رکشے والے کے 14/15 سال کے بیٹے کو ساتھ لیا اور گھر والوں کو کہا کہ جب وہ آئیں، تو انھیں بتا دینا کہ سب انسپکٹر جاوید صدیق وحدت کالونی سے آئے تھے۔’
 
 
جاوید صدیق کے مطابق انھوں نے رکشے والے کے بیٹے سے پوچھا کہ ’تمھارے والد رکشہ کہاں کھڑا کرتے ہیں۔ وہ مجھے گڑھی شاہو دوبارہ لے آیا’۔
 
وہاں اب سحری کا ٹائم ختم ہو چکا تھا۔ ہوٹل والے اپنے برتن وغیرہ دھو رہے تھے، ہوٹل بند کر رہے تھے۔
 
بچے نے ہوٹل والے سے پوچھا کہ ’میرے ابو نہیں آئے؟ اس نے کہا کہ تیرا ابو ابھی رکشہ بند کر کے گھر چلا گیا ہے۔‘
 
جب ہم وہیں سے واپس غازی آباد پہنچنے کے لیے مڑے تو ہم رکشے کے پاس سے گزر رہے تھے تب اس بچے نے کہا کہ ’میرے ابو یہ رکشا چلاتے ہیں۔‘ میں نے رکشا دیکھنے کے لیے گاڑی کو روکنے کا کہا۔
 
’رکشے کے دروازے پر خون تھا‘
جاوید صدیق کہتے ہیں میرے ذہن میں یہ بات بھی تھی کہ رکشہ چیک کر لینا چاہیے۔
 
’میں نے جب رکشے کے دورازے کا پردہ کھولا تو اوپر کی اندر والی سائیڈ پر تازہ خون تھا جو محض چند گھنٹے قبل کا ہی تھا۔ خون دیکھ کر میں چونک گیا۔ میں نے گاڑی سے ٹارچ لی۔ اچھی طرح سرچ کیا۔ جہاں بیک سائیڈ پر سواریاں بیٹھتی ہیں، وہاں ایک شیشہ لگا ہوتا ہے، وہاں پر بھی خون لگا ہوا تھا، باقی سارا رکشا صاف تھا۔’
 
جاوید صدیق کے مطابق اس دن تفتیش میں انھیں یہ پتہ چلا کہ جب رکشا ڈرائیور اپنی شفٹ ختم کرتے ہیں تو رکشہ دھلوا کر دیتے ہیں۔
 
’رکشا دھل کر آیا ہوا تھا۔ ﷲ تعالیٰ نے ہمیں منزل تک پہنچانا تھا، وہ دو نشان رہ گئے تھے۔ سروس کے باوجود بھی، یہ نشان میری تفتیش کی ایک اہم کڑی ثابت ہونے والے تھے۔’
 
جاوید صدیق گڑھی شاہُو سے دوبارہ سیدھے غازی آباد رکشے والے کے گھر پہنچنے سے پہلے آ گئے۔ تھوڑی دیر بعد رکشے والے نے آ کر دروازے پر دستک دی اور انھوں نے خود دروازہ کھولا۔
 
’وہ مجھے دیکھ کر حیران ہو گیا۔ مجھے پتا چل گیا کہ یہ گھبرا گیا ہے۔ میں نے کہا میں وحدت کالونی تھانے سے آیا ہوں، میرے ساتھ چلو۔ اس نے پوچھا کہ معاملہ کیا ہے؟ میں نے کہا تمھیں پتا تو ہے معاملہ کیا ہے۔’
 
رکشے والے کے بیٹے اور برادرِ نسبتی کو وہیں چھوڑ دیا گیا کیوںکہ پولیس کو رکشے والا مل چکا تھا۔
 
’اب ہم واپس گڑھی شاہو آئے۔ اب اس کو نہیں پتا کہ میں رکشہ پہلے دیکھ آیا ہوں، خون بھی دیکھ آیا ہوں رکشے کا نمبر مجھے پتا ہے۔ میں نے وہاں آ کر پوچھا کہ تمھارا رکشہ کون سا ہے؟ اس نے کہا کہ یہ میرا رکشہ ہے، جو اس کا ہی تھا۔’
 
جاوید صدیق کے مطابق انھوں نے پوچھا کہ ’یہ رکشہ صاف کیوں ہے، تب اس نے مجھے بتایا کہ ’جب ہم اپنی شفٹ ختم کرتے ہیں تو رکشہ سروس کروا کے دیتے ہیں، یہ اصول ہے۔’
 
میں نے پوچھا تم نے سروس کروائی تھی تو اس نے کہا کہ ’جی کروائی تھی۔’
 
’اب دن کی روشنی ہو چکی تھی۔ میں نے دروازے کا پلّہ کھولا تو کہا یہ خون کس کا ہے تو اس نے کہا کہ ’مجھے نہیں پتا۔‘ پھر میں نے اندر والا شیشہ دکھایا اور پوچھا یہ خون کس کا ہے؟ تو اس نے پھر انجان بنتے ہوئے جواب دیا کہ پتا نہیں۔’
 
 
ملزم کا اعتراف جرم
جاوید صدیق کے مطابق پھر وہ رکشے والے کو تھانہ وحدت کالونی لے آئے اور تھوڑا سخت طریقے سے پوچھا تو ’اس نے ایک من گھڑت کہانی سنائی کہ وہ لکشمی چوک سے گزر رہا تھا۔ وہاں لوگ آپس میں لڑ رہے تھے۔ ایک آدمی کو چھریاں لگیں۔ انھوں نے ایک زخمی میرے رکشے میں ڈالا تھا۔ میں اس کو سروسز ہسپتال چھوڑ کر آ گیا تھا۔‘
 
جاوید صدیق کے مطابق انھیں صاف طور پر یہ ایک من گھڑت کہانی نظر آ رہی تھی۔ جب مزید سختی سے پوچھا گیا تو دو گھنٹے بعد وہ بریک ہو گیا اور اس نے بڑا عجیب سا انکشاف کیا۔
 
رکشے والے نے بتایا کہ ان کا قاری صاحب سے ملنا جلنا تھا اور اس روز ان کا بھائی اور ایک دوست قاری صاحب کو ملنے گئے تھے۔ انھیں پیسوں کی ضرورت تھی اور وہ پہلے بھی قاری صاحب سے پیسے ادھار لیتے رہتے تھے کیوںکہ وہ پہلے گڑھی شاہو میں ہی رہتے تھے۔
 
’آج ہم قاری صاحب کے پاس پیسے مانگنے آئے۔ میں باہر رکشے میں بیٹھا رہا۔ میرا بھائی اور دوست اندر چلے گئے کہ آگے عید آ رہی ہے، ہمیں پیسے ادھار چاہیے۔ قاری صاحب نے کہا آپ نے پہلے بھی پیسے واپس نہیں دیے۔ میں باہر رکشے میں بیٹھا تھا، باتیں سن رہا تھا۔’
 
رکشے والے کے مطابق ان کی آدھا گھنٹہ باتیں ہوتی رہیں آخر قاری صاحب تنگ آ کر جیسے مارنے کے لیے اٹھے تو رکشے والے کے بھائی کے پاس چھری تھی۔
 
رکشے والے نے جاوید صدیق کو بتایا کہ جب ان کے بھائی نے چھری نکالی اور قاری صاحب کو کہا میں تم کو چھری مارنے لگا ہوں۔ قاری صاحب بھی اٹھے اور اس کو پکڑنے کے لیے آگے ہوئے تو اس نے چھری ماری جو ان کے پیٹ میں لگ گئی، جس سے وہ شدید زخمی ہوئے۔ ان کا سارا پیٹ کھل گیا۔’
 
’قاری صاحب نے ہوا میں ہاتھ اٹھایا۔ ان کو نظر تو آتا نہیں تھا۔ اس کا چھری والا ہاتھ قاری صاحب کے ہاتھ میں آ گیا اور انھوں نے ایسے ہی چھری پکڑ کر ہوا میں لہرائی جو ملزم کے پیٹ میں لگ گئی اور قاری صاحب کو زیادہ شدت سے لگ گئی۔‘
 
 
رکشے والے کے مطابق ’وہ بھاگ کے اندر گیا تو دیکھا تو اس کے بھائی اور قاری صاحب دونوں کا سارا کچھ اندر سے باہر پڑا تھا۔ وہ اپنے بھائی کو رکشے میں ڈال کر ہسپتال لے گئے اور وہاں داخل کروا کے غائب ہو گئے۔’
 
جاوید صدیق کے مطابق انھوں نے اسی وقت گاڑی نکالی اور سیدھا ہسپتال پہنچ گئے۔ وہاں جا کر معلوم کرنے پر پتا چلا کہ ملزم کا پانچ گھنٹے آپریشن ہوا اور اب وہ نیم بے ہوش تھا۔
 
جاوید صدیق نے ملزم کے ہوش پر آنے پر اس کا بیان ریکارڈ کیا اور بعد میں اس کے دوست کو بھی گرفتار کیا۔ جس کے بعد آلۂِ قتل بھی پاس جھاڑیوں سے برآمد کیا اور ملزمان کے خلاف چالان عدالت میں جمع کروایا جہاں ملزمان کو سزا دی گئی۔
 
جاوید صدیق کے مطابق ’یہ ایک اندھا قتل تھا جسے محض چند گھنٹوں کے اندر ایک ایسے وقت میں حل کیا گیا جب کال ڈیٹا ریکارڈ، جیو فینسنگ، سی سی ٹی وی اور دیگر سہولیات کا وجود نہیں تھا۔ یہ ان کے کرئیر کا ایک بہترین کیس ہے۔بس موقع سے ملے شواہد کی پیروی کرتے ہوئے ہم نے چند گھنٹوں میں ملزموں کو پکڑ لیا تھا۔’
 
جاوید صدیق کے مطابق ’اسی لیے ہمارے سینیئر افسر ہمیں جائے وقوعہ پر زیادہ ٹائم دینے کا کہتے ہیں تاکہ بنیادی شواہد کی روشنی میں کیس کو آگے بڑھانے میں آسانی رہے۔’
 
’اس کیس میں بس ہماری محنت تھی، نیت تھی، باقی ﷲ کی طرف سے رحمت ہوئی، ماہِ رمضان تھا، حافظِ قرآن تھا، اس کا قتل تھا، ﷲ دیکھتا ہے کہ پولیس والا کتنی محنت کرتا ہے، کس نیت سے کرتا ہے۔ کی گئی محنت کو رائیگاں نہیں جانے دیتا۔ اس لیے ہم نے اس پر محنت کی تو ﷲ تعالیٰ نے ہمارا یہ کیس حل کروا دیا۔’
 
ماں بیٹی ریپ کیس
موجودہ کیسیز سے متعلق بات کرتے ہوئے جاوید صدیق نے بتایا کہ چوہنگ ریپ کیس کے وقت اُن کے پاس ڈی ایس پی چوہنگ کا چارج بھی تھا اور انھیں تقریباً ساڑھے دس بجے اطلاع ملی کہ ماں بیٹی کا ریپ ہو گیا ہے۔
 
’ماں بیٹی وہاڑی کی رہنے والی تھیں اور وہاں سے یہ دونوں ٹھوکر نیاز بیگ پہنچی تھیں۔ جہاں خاتون نے لاہور صدر بازار اپنی ہمشیرہ سے ملنے جانا تھا۔ دونوں نے ٹھوکر نیاز بیگ سے ایک رکشہ لیا اور اس میں بیٹھ گئیں۔ رات زیادہ ہو چکی تھی اس لیے رکشہ ڈرائیور نے اپنے ایک دوست کو بھی ساتھ بٹھا لیا۔‘
 
’راستے میں رکشہ ڈرائیور اور اس کے دوست نے اندازہ لگا لیا تھا کہ یہ دونوں خواتین لاہور سے باہر کسی علاقے سے ہیں اس لیے وہ انھیں صدر بازار لے جانے کی بجائے ایل ڈی اے ایونیو سوسائٹی لے گئے جہاں اب بھی کئی خالی پلاٹ موجود ہیں۔ دونوں ملزمان نے ان دونوں خواتین کے ساتھ وہاں ریپ کیا اور بھاگ گئے۔‘
 
جاوید صدیق بتاتے ہیں کہ ’جب ہمیں کال آئی تو ایس ایچ او چوکی انچارج موقع پر پہنچے تو وہاں پر ایک رکشہ ملا جس پر عورت نے بتایا کہ یہ رکشہ ان ملزموں کا ہے۔ رکشے سے ہمیں ایک موبائل بھی مل گیا۔ جب اسے چیک کیا تو اس پر ایک ہی نمبر پر آٹھ نو کالز ہوئی تھیں۔‘
 
’اس نمبر کو ٹریس کرتے کرتے ہم اکبر چوک ٹاؤن شپ گئے وہاں اس بندے سے بات کی۔ اس نے کہا میں ان ملزمان کے نام سے واقف نہیں ویسے جانتا ہوں۔ اکبر چوک جو ایک بڑا بارونق ایریا ہے ٹاون شپ کا وہاں ایک اور رکشہ کھڑا تھا اور اس شخص نے بتایا کہ یہ رکشہ بھی ان کا ہی ہے۔‘
 
 
جاوید صدیق کے مطابق وہ یونیفارم میں نہیں تھے اس لیے وہیں فٹ پاتھ پر بیٹھ گئے اور تقریباً سات آٹھ گھنٹے فٹ پاتھ پر بیٹھ کر ان کا انتظار کرتے رہے۔
 
’صبح تقریباً ساڑھے چھ بجے کے قریب ایک ملزم رکشہ لینے کے لیے آیا جسے ہم نے وہیں دبوچ لیا اور اس کی نشاندہی پر دوسرے ملزم کو بھی ہم نے چند گھنٹوں میں پکڑ کر کیس حل کر لیا۔‘
 
’علاقے کا ایس ایچ او اللہ کی طرف سے علاقے کا نائب ہوتا ہے‘
جاوید صدیق کے مطابق انھیں کبھی بھی ناقص کارکردگی پر تبدیل نہیں کیا گیا اور نہ ہی انھیں کبھی بھی کسی سفارش پر ایس ایچ او لگایا گیا کیوںکہ اسے وہ بُرا سمجھتے ہیں۔
 
’ہماری نوکری ایسی ہے کہ میں تو اپنے کولیگز سے بھی کہتا ہوں کہ علاقے کا ایس ایچ او ﷲ کا ایک نائب ہے۔ ﷲ کے بعد بندے کو 15 یاد آتا ہے۔ جس علاقے میں واردات ہوئی وہاں ﷲ کے بعد ایک ایس ایچ او اور اس کی ٹیم ہی لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کے ضامن ہوتے ہیں۔ یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے۔’
 
جاوید صدیق کے مطابق اگر سائلین جو تھانوں میں دادرسی کے لیے آتے ہیں، انھیں بٹھا کر اچھے طریقے سے سن ہی لیا جائے تو 70 سے 80 فیصد تک ریلیف تو انھیں وہیں مل جاتا ہے اور اگر ان کا جائز کام کر دیں تو وہ خوشی کے مارے دعائیں بھی دیں گے۔
 
Partner Content: BBC Urdu
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
18 Jan, 2022 Views: 14128

Comments

آپ کی رائے