لوگ پوسٹ مارٹم کروانے سے کیوں ہچکچاتے ہیں، کچھ کیسز میں پوسٹ مارٹم کروانا کیوں ضروری ہوتا ہے جانیں

 
پوسٹ مارٹم سے مراد مرنے کے بعد مردے کی میڈیکل بنیادوں پر ایسی جانچ ہے جس کی بنیاد پر موت کی وجوہات اور مرنے والے کے جسم کی اندرونی حالت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ یہ عام طور پر ان کیسز میں کروایا جاتا ہے جن افراد کی موت حادثاتی طور پر یا مشکوک حالات میں ہو یا پھر اس بات کا اندیشہ ہو کہ مرنے والے کی موت غیر فطری انداز میں ہوئی ہے-
 
پوسٹ مارٹم کیسے کیا جاتا ہے
پوسٹ مارٹم کرنے کے لیے عام طور پر جس کمرے کا انتخاب کیا جاتا ہے وہ آپریشن تھیٹر کی طرح ہوتا ہے مگر اس میں صرف مردوں کا ہی معائنہ کیا جاتا ہے- پوسٹ مارٹم کرنے کے لیے سب سے پہلے جسم کی ظاہری حالت کا جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ بیرونی چوٹوں کا اندازہ لگایا جا سکے-
 
اس کے بعد سامنے کی طرف سے جسم میں ایک بڑا کٹ لگایا جاتا ہے تاکہ جسم کے تمام اندرونی اعضا کی حالت کا پتہ لگایا جا سکے اور ان کے نمونے حاصل کیے جا سکیں- اس کے علاوہ ایک کٹ سر کے پچھلی جانب بھی لگایا جاتا ہے تاکہ کھوپڑی اور دماغ کی اندرونی حالت کے بارے میں بھی جانا جا سکے اور نمونے حاصل کیے جا سکیں-
 
مکمل معائنے اور نمونے حاصل کرنے کے بعد ان تمام کٹ کو احتیاط کے ساتھ دوبارہ سے سی دیا جاتا ہے اور اس کے بعد مردے کو کفن پہنانے کے بعد میڈيکولیگل کیسز کی صورت میں اس کفن کو سیل کردیا جاتا ہے اور ورثا کے حوالے کر دیا جاتا ہے تاکہ وہ مردے کی لاش کو دفن کر سکیں-
 
 
لوگ پوسٹ مارٹم کروانے سے منع کیوں کرتے ہیں
عام طور پر اکثر ورثا اپنے مرنے والے کا پوسٹ مارٹم کروانے سے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتے ہیں- اس کا سب سے بڑا سبب یہ ہوتا ہے کہ اسلام کے مطابق مرنے کے بعد مردے کا جسم اللہ تعالیٰ کی امانت ہوتا ہے اور اس کو بصد احترام دفن کرنا لازم ہوتا ہے-
 
عام عوام کے نزدیک اس کے جسم پر مرنے کے بعد کٹ لگا کر جانچ کی تکلیف مردے کو ہوتی ہے اس وجہ سے اکثر ورثا پوسٹ مارٹم کرنے کی اجازت نہیں دیتے ہیں-
 
پوسٹ مارٹم کن صورتوں میں ضروری ہوتا ہے
حادثاتی موت کی صورت میں یا کسی مرنے والے کی مشکوک موت کی صورت میں پوسٹ مارٹم کی رپورٹ قانونی کاروائی کے لیے بہت اہم تصور کی جاتی ہے۔ اسی طرح اگر کسی جھگڑے کی صورت میں یا گولی لگنے سے موت کی صورت میں بھی قاتل کے خلاف قانونی کاروائی کے لیے پوسٹ مارٹم ضروری ہے اس کے بغیر کیس کمزور ہو سکتا ہے اور قانونی تقاضے پورے کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے-
 
پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر کن تجربات سے گزرتے ہیں
حال ہی میں اس حوالے سے بی بی سی کی ایک ویڈيو بھی منظر عام پر آئی ہے جس میں میڈيکولیگل خاتون افسر ڈاکٹر سمعیہ نے معاشرے کے ان پہلوؤں سے پردہ ہٹایا ہے جن کے بارے میں اکثر عام افراد بات کرنے سے بھی کتراتے ہیں-
 
 
اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ عام طور پر بچوں کی اور حاملہ خواتین کی ڈیڈ باڈیز کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے خوف کا شکار ہو جاتی ہیں- ان کا یہ کہنا تھا کہ انہوں نے سب سے پہلے جس عورت کا پوسٹ مارٹم کیا تھا وہ حاملہ تھی اور پورے دنوں سے تھی اس حالت میں اس کے گھر والوں نے اس پر چھریوں کے وار کر کے اس کو قتل کیا تھا اور اس کے پیٹ سے اس کے بچے کے پیر نظر آرہے تھے جو کہ انتہائی تکلیف دہ منظر تھا-
 
اس کے علاوہ اکثر معصوم بچوں کو جن کو جنسی زيادتی کے بعد مار کر پھینک دیا جاتا ہے ایسے بچوں کا پوسٹ مارٹم کرنا بھی ایک بہت تکلیف دہ عمل ہوتا ہے کیوں کہ ان پھول جیسے بچوں کے جسم پر اس طرح کے نشانات ہوتے ہیں جس کو دیکھ کر ان کی تکلیف دہ موت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے-
 
پوسٹ مارٹم کے حوالے سے لوگوں کے دلوں میں شکوک جتنے بھی ہوں مگر بہرحال یہ ایک اہم قانونی کاروائی ہے جو قانونی تقاضوں کی تکمیل کے لیے ضروری قرار دی جاتی ہے-
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
18 Jan, 2022 Views: 1358

Comments

آپ کی رائے