یتیم دوست معاشرے کی تشکیل وقت کی ضرورت

(Muhammad Noor-Ul-Huda, )


عالمی یومِ یتامیٰ ہمیں ہماری اس ذمہ داری کا احساس دلانے کی کوشش کا دن ہے جو قدرت نے ہمیں سونپی ہے، کہ یتیم کے سر پر دستِ شفقت رکھیں۔ یتیم پروری بہت بڑی عبادت ہے۔ اس عبادت کا اجر ہمیں دنیا میں شاید محسوس نہیں ہوگا لیکن یومِ آخرت یہ ہماری بخشش کا سامان کرے گی۔ یتامیٰ کی زندگیوں میں رنگ بھرنے کیلئے قدرت نے صاحبِ حیثیت لوگوں کو ”سہولت کار“ بنایا ہے۔ لہذا یتامیٰ کا دن صرف اک ٹوکن سرگرمی کے طور پر منانے کی حد تک نہیں ہونا چاہئے، بلکہ اس میں یتیموں کی کفالت کے انتظام کیلئے بھی دست تعاون دراز ہونے چاہئیں۔

یتیم دوست معاشرہ کی تشکیل وقت کی اولین ضرورت ہے۔ اس لئے یتیموں کی کفالت کی ہر سطح پر موثر منصوبہ بندی ترجیح بن چکی ہے۔ اپنے ارد گرد مشاہدہ کریں تو آشکار ہوتا ہے کہ یتیموں کی تعداد خوفناک حد تک بڑھتی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے اسٹریٹ چلڈرنز میں اضافہ ہو رہا ہے اور جہالت و ناخواندگی کی شرح بھی بڑھ رہی ہے۔ اس کا واضح مطلب ہے کہ ہماری یعنی معاشرے کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ہمیں اپنی زبان، عمل اور رویوں سے معاشرے کو یتیم دوست بنانا ہے اور سرکاری، سماجی اور انفرادی طور پر ان کی کفالت کا فرض پورا کرنا ہے۔

یتامیٰ کی کفالت کے حوالے سے ہمارا مذہب بھی بہت حساسیت رکھتا ہے۔ اسی لئے بارہا یتیموں کے ساتھ شفقت کی ترغیب دی گئی ہے۔ یتامیٰ کی کفالت اجرِ عظیم کی ضمانت ہے۔ اللہ پاک بھی یتیموں سے بہت محبت رکھتے ہیں۔ ایک یتیم، یعنی محمد مصطفی ﷺ کو کُل عالم کا وارث بنانے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ پاک کو یتیموں سے کتنا اُنس تھا۔

یتامیٰ کی کفالت اللہ کی شکرگزاری کا بہترین طریقہ بھی ہے۔ دیگر عبادات کی اہمیت اپنی جگہ، لیکن یتیم کی کفالت سے اللہ کا قرب اور رحمت زیادہ جلدی نصیب ہوتی ہے۔ جو معاشرہ یتیموں سے محبت کرتا ہے، اس پر رحمت کے دروازے بھی کھل جاتے ہیں۔ جب معاشرہ اور افراد اپنا اپنا کردار ادا نہیں کرتے تو این جی اوز وجود میں آتی ہیں۔ تاہم کوشش کرنی چاہئے کہ ہم میں سے ہر فرد اپنی ذات میں خود ایک این جی او بن جائے اور اپنے اطراف موجود یتیم بچوں کی کفالت کیلئے انفرادی و اجتماعی اقدامات کرے تو معاشرے کا ایک بہت بڑا مسئلہ حل ہو جائے گا۔

یتیم بچوں کا عالمی دن کے معاشرے کے متضاد رویوں کو بھی آشکار کرتا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ ان بچوں کی فلاح و بہبود کیلئے مختلف افراد اور ادارے اپنی اپنی سطح پر کام کر رہے ہیں۔ تاہم بدقسمتی یہ ہے کہ مجموعی طور پر آج یتیم کو ”بوجوہ“ ایک پراڈکٹ بنا دیا گیا ہے۔ ان کی کفالت کے نام پر بڑی بڑی ”ٹوکن“ سرگرمیاں کی جاتی ہیں اور اکثر پروگرامات میں ان بچوں کو بھی لا کر بٹھایا اور انہیں اپنے ادارے کی ”تشہیر“ کا ذریعہ بنایا جاتا ہے۔ یوں بھری مجلس میں یتیم کو سامنے لانا اور مخیر حضرات سے اس کو ”کیش“ کروانا ان کی تضحیک ہے۔ جبکہ ان کی کفالت کے ادارے اسے اپنی ضرورت گردانتے ہیں۔ کہ انہی کو دکھا کر انہوں نے عطیات لینے ہوتے ہیں۔ اس عمل کی ہر صورت حوصلہ شکنی ہونی چاہئے۔ کیونکہ یہ بہت معیوب عمل ہے کہ کسی کو احساس دلایا جائے کہ اس پر ترس کھایاجا رہا ہے۔ مجبوری کو ”سیل آؤٹ“ کرنا گناہ ہے مگر کسی کی عزت نفس کو مجروح کرنا اس سے بھی بڑا گناہ ہے۔ ہونا یہ چاہئے کہ ان کی مجبوری کو بیچنے کی بجائے ان کا بھرم رکھا جائے اور انہیں پردے میں رکھ کر ان کی کفالت اور فلاح و بہبود کیلئے کردار ادا کیا جائے۔ یعنی یتیم پر احسان چڑھائے بغیر اس کیلئے کاوشیں کی جائیں۔ ادارے بچوں کی کفالت کی اپیل کیلئے ان کی موجودگی کے بغیر آگاہی پروگرامات کا انعقاد یقینی بنائیں۔ لوگ اداروں کا ویسے ہی ساتھ دیں گے جیسا اب تک دیتے آ رہے ہیں۔ اپنے ادارے بارے فیکٹ اینڈ فیگرز کا سہارا لیں اور انہی کی بنیاد پر عطیات اکٹھے کریں۔ مجھے یقین ہے انہیں تب بھی مایوسی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ ڈونر کی ڈیمانڈ کے بغیر یتامیٰ، مساکین کی تشہیر کرنا اخلاقی کرپشن کے زمرے میں آتا ہے۔ پس، کچھ ایسا کیجئے کہ ان بچوں کی یتیمی کا پردہ قائم رہے اور ان کی کفالت کا بھی انتظام ہوتا رہے۔

وقت کا تقاضہ ہے کہ پسماندہ طبقے کی فلاح و بہبود کیلئے معاشرے کے تمام طبقات اپنی اپنی ذمہ داریاں محسوس کریں۔ان بچوں کو محفوظ مستقبل دینے اور معاشرے کا مفید شہری بنانے کیلئے موثر عملی جدوجہد کی ضرورت ہے۔ نجی سطح پر غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ جیسے ادارے اس ضمن میں نہایت حوصلہ افزاء ہیں، جو یہ ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے یتامیٰ کی تعلیم و تربیت اور کفالت کے حوالے سے عملی اقدامات اٹھائے ہوئے ہیں۔

نظرانداز بچوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کیلئے ان پر شفقت کا ہاتھ رکھنا قومی فریضہ ہے۔ لیکن بدقسمتی کے ساتھ ہم بحیثیت معاشرہ اپنے فرائض سے غافل ہیں، جس کی وجہ سے یتیم بچے یا تو سڑکوں کی دھول بنے نظر آتے ہیں، یا کچھ گروہ انہیں اپنے مفادات کیلئے استعمال کرکے معاشرے کا ناکارہ فرد بنادیتے ہیں، یا پھر بچپن کی محرومیاں ان کے مستقبل پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں اور ان کی آوارگی معاشرے کیلئے خطرہ بن جاتی ہے۔ یوں ان کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔
آئیے، آج عالمی یوم یتامیٰ کے روز اک عہد کریں۔ ہم سب ملکر یتامیٰ کی زندگی میں امید کا دیا روشن کریں گے اور ان کی سرپرستی کرتے ہوئے انہیں ملکی ترقی کی دوڑ میں شامل کریں گے، تاکہ وہ ٹھکرائے ہوئے بچوں کی حیثیت اختیار نہ کریں بلکہ پھلیں، پھولیں اور پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔

یہ Law of Giving ہی ہے جو ہمارے سماج کی ترقی کا ضامن ہے …… اگر ہم Law of Giving کا نظریہ اپنا لیں تو ہمارا سماج بہت خوبصورت ہو جائے گا۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Noor-Ul-Huda

Read More Articles by Muhammad Noor-Ul-Huda: 67 Articles with 43087 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Apr, 2022 Views: 637

Comments

آپ کی رائے