قائد کے اُردو دستخط

(Muhammad Ahmed Tarazi, karachi)
رازِ درون ِ پردہ
قائد کے اُردو دستخط
رازِ درون ِ پردہ
قائد کے اُردو دستخط
قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے اسٹینو گرافر مجاہد حسین لکھتے ہیں کہ ''ایک دن کا ذکر ہے ،باہر ایک کار آکر رُکی ،قائد اعظم نے نظر اُٹھائی اور فرمایا:
''دیکھو،وہ تشریف لے آئے!''
میں نے مڑکر دیکھا ،خواجہ حسن نظامی صاحب کار سے اُتر رہے تھے۔
''جانتے ہو یہ کیوں آئے ہیں۔؟''
''جی نہیں۔'' میں نے کہا۔
''ایک اشتہار پر اُردو میں میرے دستخط چھاپیں گے،تاکہ اپنے مریدوں کو بتاسکیں کہ میں اُردو زبان سے ناواقف نہیں ہوں اور مسلمانوں کاصحیح لیڈر ہوں۔بغیر اُردو کے تم مسلمانوں کے لیڈر نہیں بن سکتے۔''قائد اعظم نے فرمایا۔
''مگر آپ اُردو میں دستخط کیسے کریں گے،میں کردوں گا آپ کی جگہ''میں نےقائد کی جگہ خود دستخط کرنے کی پیشکش کی۔
''دیکھتے رہو تماشا،دستخط تو مجھی کو کرنے پڑیں گے۔'' قائد اعظم نے فرمایا۔
خواجہ صاحب کی تشریف آوری کی اطلاع بیرا دے چکا تھا،قائد اعظم نے اُن کو بلا بھیجا۔جب کمرے میں داخل ہوئےتو قائد اعظم نے بڑے تپاک سے مصافحہ کیا اور کہا کہ'' لائیے ،کہاں دستخط کروں۔''خواجہ صاحب کے پاس ایک کتابت شدہ اشتہار تھا۔چند کاغذوں میں لپٹا ہوا۔اُنہیں کھولا گیا۔پہلے دو تین کاغذوں پر دستخط کرائے گئے،پنسل سے،اُس کے بعد اشتہار کی باری آئی۔ہر دستخط اِس طرح ہوتی کہ پنسل قائد اعظم کے ہاتھ میں رہتی اور قائد اعظم کا ہاتھ خواجہ صاحب کے ہاتھ میں رہتا۔عجیب جناتی دستخط ہوئے۔
لیکن قائد اعظم اور خواجہ صاحب دونوں اِس کارکردگی پر بہت مطمئن نظر آتے تھے،جیسے کوئی ماؤنٹ ایورسٹ ہی تو سر کرلی ہو!
''کیا خیال ہے تمہارا۔؟''قائد اعظم نے خواجہ صاحب کو کار میں بیٹھتے دیکھ کر مجھ سے دریافت کیا۔
''جو آپ کا خیال ہے ،وہی میرا خیال ہے۔'' میں نے عرض کیا۔
''کیا مطلب تمہارا۔؟''
''یعنی یہ کہ تماشا اچھا رہا۔'' میں نے ادباً جواب دیا۔
قائد اعظم مسکرائے ،مگر پھر ایک دم کچھ متاسف سے ہوئے،یا تو میری جسارت پر ، یا اپنی قوم کے تماشوں پر!
(اقتباس کتاب :۔''روحوں کے رشتے''کے باب ''رازِ درون ِ پردہ ''صفحہ نمبر 127-126۔از :۔صبح مجاہد۔مجاہد حسین۔طبع دوم 1978ء،مشہور آفسٹ پریس کراچی)
مجاہد حسین نے دسمبر 1937ء سے جون 1940ء تک قائد اعظم کے بلا معاوضہ اسٹینو گرافر کے فرائض انجام دئیے۔خیال رہے کہ مجاہد حسین پاکستان کے مشہور کرکٹ کمنٹیٹر چشتی مجاہد کے والد تھے۔مجاہد حسین کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اُنہیں قائد اعظم نے اپنے ہاتھ سے لکھا ہوا ایک تعریفی سرٹیفکیٹ تحفہ دیا تھا۔جسے اُنہوں نے ہمیشہ اپنی متاع ِ حیات بنائے رکھا۔مجاہد حسین نے اپنی سرکاری نوکری کا آغاز انگریز سرکار میں کلرکی سے کیا اور ترقی کرتے ہوئے 1963ء میں وزات ِ قانون پاکستان میں جائنٹ سیکرٹری کی حیثیت سے رئٹائرڈ ہوئے۔
مجاہد حسین نے اپنی زندگی کے کچھ اہم مشاہدات اپنے اور اپنی بیگم صبح مجاہد کے نام سے موسوم کتاب '' روحوں کے رشتے'' میں درج کیے ہیں۔اُن کے بیان کردہ واقعات میں بہت سی باتیں بالکل نئی ،انہونی اور بعید ِحقیقت محسوس ہوتی ہیں۔
اس کتاب پر بیگم شائستہ اکرام اللہ ، السید ہاشم رضا،خواجہ شہاب الدین ڈاکٹر فاضل ممتاز حسن ،اہڈوکیٹ خالد اسحاق وغیرہ کے تاثرات موجود ہیں۔اِس کتاب کا پہلا ایڈیشن 1974ء میں شائع ہوا۔جبکہ دوسر ا ایڈیشن 1978ء میں مشہور آفسٹ پریس کراچی نے شائع کیا۔اِس کتاب کے باب ''رازِ درون پردہ'' میں قائد اعظم محمد علی جناح ؒ سے منسوب ایک ایساواقعہ پیش ِ خدمت ہے جو قائد اعظم کی حق گوئی و بیباکی،ایمانداری و سچائی ،عظمت و کردار اور اُصول پرستی کا مظہر ہے۔
مجاہد حسین کے بقول انہوں نے ٹائپنگ میں اِس قدر مہارت حاصل کرلی تھی کہ اُن کی رفتار دو سو بیس لفظ فی منٹ تھی۔اُنہی دنوں ای،ایچ اینڈ ایل ڈپارٹمنٹ میں اسٹینو گرافر کی ایک جگہ کے لیے ٹیسٹ ہوا۔جس میں آپ اول آئےاور یہ یقین کر بیٹھے کہ تقرری پکی ہے۔لیکن کچھ دنوں کے بعد معلوم ہوا کہ کوئی اور صاحب اُس جگہ پر تعینات کیے جاچکے ہیں۔جن کی شفارس کسی وزیر نے کی تھی۔آپ لکھتے ہیں میں نے بھی یہ نسخہ استعمال کرنا چاہا اور قائد اعظم سے درخواست کی کہ وہ سر شاہ سلیمان سے میری سفارش کردیں تو کام بن جائے۔
مجاہد حسین کہتے ہیں کہ خلاف ِ توقع وہ بہت افروختہ ہوئے اور کہنے لگے:
''تم نے کیا سمجھا، میں کوئی ملازمت دلانے کی ایجنسی ہوں!''
پیشتر اس کے کہ میں کچھ کہتا۔اُنہوں نے کچھ سوچا اور ایک واقعہ کا ذکر کیا جو حکومت ہند کے فنانس ممبر اور اُن کے درمیان نوکریوں کے لیے مسلمان امیدوار نامزد کرنے کے سلسلے میں کبھی پیش آیا تھا۔فرمانے لگے:
''اسمبلی میں ایک بل زیر غور تھا،جس کے لیے حکومت کو میری پارٹی کی حمایت درکار تھی۔سر بیسل بلکیٹ اُس وقت فنانس ممبر تھے اور انڈین آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سروس میں چند آسامیاں خالی تھیں۔نمعلوم خالی تھیں بھی یا نہیں۔بہر حال فنانس ممبر نے مجھ سے کہا کہ مسٹر جناح اِن آسامیوں کے لیےقابل مسلمان نہیں مل رہے ہیں۔کچھ آپ ہی مدد کریں اور چند نام تجویز کردیں۔اگر مسٹر جناح کی جگہ کوئی اور ہوتا تو تین آسامیوں کے لیے دس نام دیتا،لیکن تمہیں معلوم ہے میں نے کیا کہا۔میں نے کہا دیکھو ،سر بیسل بلکیٹ آسامیاں حکومت کی ہیں،تم بھی حکومت کے فنانس ممبرہو۔یہ تمہارا اور تمہاری حکومت کا کام ہے کہ اُن کے لیے اُمدوار ڈھونڈے،مجھ سے اس کا کیا واسطہ۔قابل مسلمانوں کی کمی نہیں ہے بشرطیکہ تم اُن کو ملازمت دینا چاہو۔حکومت ِ ہند کا فنانس ممبر سمجھ گیاکہ ہوا کا رخ کدھر ہے!۔''
اتنا کہہ کر اُنہوں نے اپنا داہنا ہاتھ اُٹھایا اور شہادت کی انگلی کو نمایاں کرکے فرمایا:
''دیکھو،اگر میرا بیٹا ہوتا تو اُس کے لیے بھی میں کوئی سفارش کبھی کسی سے نہ کرتا۔''
اِس سانحہ کے بعد قائد اعظم کی خدمت میں کئی بار حاضری کا شرف حاصل ہوا ،یہاں تک کہ پاکستان میں بھی دو تین مرتبہ ملنا ہوا۔اور خستہ حالی میں ملنا ہوا۔لیکن وہ دن ہے اور آج کا دن،میں نے اُنہی سے کیا اوروں سے بھی سفارش کے لیے ہاتھ نہیں پھیلایا۔البتہ جب ضرورت ہوتی اپنی سفارش اپنے آپ سے ہی کراتا ۔
(اقتباس کتاب :۔''روحوں کے رشتے''کے باب ''رازِ درون ِ پردہ ''صفحہ نمبر 129-128۔از :۔صبح مجاہد۔مجاہد حسین۔طبع دوم 1978ء،مشہور آفسٹ پریس کراچی)
(انتخاب :۔محمداحمد ترازی )
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: M.Ahmed Tarazi

Read More Articles by M.Ahmed Tarazi: 263 Articles with 205743 views »
I m a artical Writer.its is my hoby.. View More
11 May, 2022 Views: 329

Comments

آپ کی رائے