بے لگام معاشرہ اور بےجا خواہشات

(Tabark ul Huda Shah, Bhakkar)

ہمارا معاشرہ کئی طرح کے ناسور کا شکار ہے جو ہماری معاشرتی اقدار و روایات ہماری مزہبی و ملی احکامات کو پارہ پارہ کرنے میں اپنا بھرپور اور موئثر کردار ادا کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑے ہوئے حسن پرستی ایک فطری عمل ہے حسن پرستی اچھی سوچ کی بھی ہو سکتی ہے اچھی فطرت کی بھی اچھی سیرت کی بھی اور بار دیگر اچھی صورت کی بھی لیکن ہمارے ہاں بد قسمتی سے حسن پرستی کا نام استعمال کر کے حواس پرستی کو فروغ دیا جا رہا ہے اور بے جا غیر اخلاقی خواہشات کو تقویت دی جا رہی ہے آج کل معاشرے میں اختلاط مرد وزن عام ہو گیا ہے گھر ہو یا پھر تعلیمی ادارے ، آفسز ہو کہ تجارتی مراکز یا پھر سیاحتی مقامات الغرض کوئی جگہ ایسی نہیں بچی ہے جہاں لڑکے لڑکیوں کے باہمی حواس پرستی کے جزبہ کو کم یا روکا جا سکتا ہو الّامیہ یہ کہ کسی کے دل میں خدا خوفی رہی ہی نہیں اب تو بلا جھجھک بغیر شادی کے ایک ساتھ رہنا بھی معیوب نہیں رہا جسے لیو ان ریلیشن شپ کا گھٹیا نام دیا گیا ہے جبکہ ہمارے معاشرے میں عصمت ریزی کے واقعات کی پہلے ہی بہتات ہے زنا بالرضا اس پر ایک اور اضافہ ہے الامان ولحفیظ اسلام میں مرد اور عورت کو اکیلے میں ملنے اور بلا ضرورت نامحرموں سے بات چیت کرنے سے روکا گیا ہے لڑکے لڑکیاں اگر اسلام کی اس تعلیم پر عمل کریں تو وہ گناہ سے بچ جائیں گے نامحرم مرد اور عورت کو اسلام نے تنہائی میں ملنے سے سخت منع کیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے کہ جہاں اکیلے میں ایک نامحرم مرد اور نامحرم عورت ہوتے ہیں وہاں تیسرا شیطان ہوتا ہے اور شیطان جس پر حاوی ہو جاتا ہے وہ ضرور شیطانی حرکات کر بیٹھتا ہے حضرت جنید بغدادی سے پوچھا گیا کیا کہ کوئی مرد کسی غیر محرم کو پڑھا سکتا ہے فرمایا اگر پڑھانے والا بایزید بسطامی ہو اور پڑھنے والی رابعہ بصری ہو جس جگہ پڑھایا جا رہا ہو وہ بیت اللہ شریف ہو اور جو کچھ پڑھایا جا رہا ہو وہ کلام اللہ شریف ہو پھر بھی اجازت نہیں ہے اب کوئی ہرگز یہ نا سمجھے کہ میں کو ایجوکیشن کے خلاف فتوا صادر کر رہا ہو فقط سمجھانا مقصود ہے کے اکیلے میں نا محرم نہیں مل سکتے کو ایجوکیشن پر پھر کسی دن قلم کو جنبش میں لائیں گے عزیزم ہمارے معاشرے میں نہ جانے ایسے کتنے واقعات ہوتے ہوں گے جن کا کبھی کسی کو پتہ بھی نہیں چلتا ہوگا اللہ خیر کرے یہ سب اسلام کی بنیادی تعلیمات سے محرومی اور جابجا فحاشی کے اسباب وآلات کی فراوانی اور بے ہودہ لبرلز کی سازشوں کا نتیجہ ہے قربان میں اپنے دین اسلام سے مجھے اسلام پر رشک آنے لگا کہ کیا ہی خوب دین ہے کہ اس نے عورت اور مرد کے درمیان رشتے کی بنیاد نہایت پاکیزہ اصولوں پر رکھی ہے نکاح کے لیے سرپرست کی موجودگی ضروری ہے نکاح سے پہلے لڑکی کو ایک نظر دیکھنے کا حکم موجود ہے اسلام نہایت معتدل اور بہترین نظام زندگی ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں زندگی گزارنے کے لیے عطا کیا ہے جس میں زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی ہے آقا دو جہاں حضور اقدس صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا آنکھوں کا زنا فحش دیکھنا ہے ،کانوں کا زنا فحش سننا ہے، زبان کا زنا فحش بات کرنا ہے دل بدکاری کی خواہش اور تمنا کرتا ہے اس کے بعد شرم گاہیں اس منصوبے کو عملی جامہ پہناتی ہیں (مسلم)

محترم قارئین! اس طرح کے واقعات میں والدین کے لیے بھی ایک بہت بڑا سبق ہے کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت میں غفلت نہ برتیں بلکہ ان پر نظر رکھیں اگر آپ ان کو تنہا باہر جانے کی اجازت دیں گے اور چیک اینڈ بیلینس نہیں رکھیں گے تو وہ ایسے کارنامے انجام دیں گے جس کے نتیجے میں آپ کو شرمسار ہونا پڑے گا ان کا ٹھیک وقت پر نکاح کریں قرآن اور حدیث کی بنیادی تعلیم دیں شادی وقت پر نہ کرنے سے اولاد ہلاکت میں پڑ سکتی ہے دین بیزاری، قرآن و حدیث سے دوری، فیشن پرستی، آزادانہ میل جول اور نکاح میں تاخیر زنا کے اسباب میں سے ہیں اور ان سے بچنے کے لیے فہم دین قرآن و حدیث سے وابستگی مقصدِ زندگی کا شعور اور نکاح میں تعجیل ضروری ہے خاص طور پر میں لڑکیوں اپنی بہنوں کو مشورہ دوں گا وہ سورہ نور کا مطالعہ غور وفکر کے ساتھ کریں

ان حالات میں امت مسلمہ پر بحیثیت داعی، امت وسط اور خیر امت، یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اسلام کی تعلیمات کو ملک و ملت کے ہر خاص و عام تک اور خصوصاً نوجوان نسل تک پہچانیں اور معاشرے میں اسلام کی تعلیمات کو جاری و ساری کرنے کے لیے جدوجہد کریں اللہ مجھ سمیت سب کو اسلامی تعلمیات پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں اللہ تمام مسلمانوں کی عصمتوں کی حفاظت فرمائیں آمین یا رب العالمین
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tabark ul Huda Shah

Read More Articles by Tabark ul Huda Shah: 6 Articles with 2492 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 May, 2022 Views: 426

Comments

آپ کی رائے