بھٹو سے عمران خان تک۔۔۔ کونسا حکمران پاکستان کو قرضے میں پھنسانے کا کتنا ذمہ دار؟

 
پاکستان اس وقت تاریخ کے بدترین معاشی بحران سے دوچار ہے، اس سنگین صورتحال تک پہنچانے میں تمام سیاسی جماعتوں نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ آج پاکستان پر بیرونی قرضوں کی وجہ سے دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ جس حکمران نے پاکستان کو قرضوں کی دلدل میں پھنسانے کیلئے کتنا کردار ادا کیا۔
 
1۔ ذوالفقار علی بھٹو
1970 میں پاکستان پر مجموعی قرض صرف 30 ارب روپے تھا، اس کے بعد بھٹو دور حکومت کے خاتمے پر 1977 میں مجموعی قرض 97 ارب ہو گیا یعنی بھٹو کے پہلے دور حکومت میں پاکستان پر قرضوں کے بوجھ میں 60 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔
 
2۔ ضیا الحق
بھٹو کی حکومت ختم کر کے اقتدار پر قبضہ کرنے والے جنرل ضیا الحق کے 1988 میں اقتدار کے خاتمے کے وقت 426 ارب روپے کے اضافے کے ساتھ ملک کا مجموعی قرض 523 ارب روپے تک پہنچ گیا۔
 
3۔ بینظیر بھٹو
پاکستان میں جمہوریت کی بحالی بھی قرضوں کے اس گرداب سے ملک کو نہ نکال سکی اور اگست 1990 میں محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت میں 188 ارب روپے کے اضافے کے ساتھ ملک کا مجموعی قرض 711 ارب روپے تک پہنچ گیا۔
 
4۔ نواز شریف
بینظیر بھٹو کی حکومت ختم ہونے کے بعد اقتدار سنبھالنے والے نواز شریف کی 1993ء میں حکومت ختم ہونے پر مجموعی قرض 1135 ارب ہو گیا، گویا ان کے دور میں قرض میں 422 ارب روپے کا اضافہ ہوا ۔
 
5۔ بینظیر بھٹو کا دوسرا دور
بینظیر بھٹو کے دوسرے دور میں قرض میں 569 ارب روپے کا اضافہ ہوا اور 1996 میں حکومت ختم ہونے پر مجموعی قرض 1704 ارب روپے تک پہنچ گیا تھا۔
 
6۔ نواز شریف کا دوسرا دور
نوازشریف کے دوسرے دور اقتدار میں قرضوں میں 1242 ارب روپے کا اضافہ ہوا ملک کا مجموعی قرض 2946 ارب روپے تک پہنچ گیا تھا۔
 
7۔ پرویز مشرف
1999 میں نواز شریف کی حکومت حکومت کرکے اقتدار سنبھالنے والے پرویز مشرف کے دور میں پاکستان پر 3181 ارب روپے کے قرضوں کا اضافہ ہوا اور ان کی حکومت ختم ہونے پر قرض 6127 ارب روپے تک پہنچ چکا تھا۔
 
8۔ آصف علی زرداری
محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد آصف علی زرداری کی صدارت میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں قرضوں پر انحصار کی وجہ سے 2013 میں 800 ارب کا قرضہ لیا گیا۔
 
9۔ نواز شریف/شاہد خاقان عباسی
مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کے تیسری بار وزیراعظم بننے کے بعد بھی حکومت کا دار و مدار قرضوں پر رہا اور 2013 سے 2018 تک ن لیگ کی حکومت میں 1 ہزار ارب روپے کا قرض لیا گیا۔
 
10۔ عمران خان
ہمیشہ خود انحصار اور قرضوں کے شدید مخالف عمران خان کا دور پاکستان کیلئے سب سے خوفناک رہا- موجودہ وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل کے ایک بیان کے مطابق عمران خان کی حکومت نے تقریباً 20 ہزار ارب روپے کا قرضہ لے کر پاکستان کو قرضوں کی دلدل میں پھنسانے میں نمایاں کردار ادا کیا ۔
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
15 May, 2022 Views: 2122

Comments

آپ کی رائے