جمعہ نامہ: کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب

(Dr Salim Khan, India)

ابھی رمضان کی آمدآمد تھی اور اب وہ جا بھی چکا لیکن یہ ماہ مبارک جاتے جاتے گردشِ زمانہ کی رفتار کا احساس دلا گیا ۔ یہ پیغام دے گیا کہ کس تیزی کے ساتھ ہم سب قیامت سے یا اپنی موت سے ایک ماہ قریب ہوگئے اور ہمیں پتہ بھی نہیں چلا ۔ ارشادِ ربانی ہے :’’ قریب آ گیا ہے لوگوں کے حساب کا وقت، اور وہ ہیں کہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں‘‘۔ یہی خوابِ غفلت بنی نوع انسانی کا بہت بڑا دشمن ہے۔ اسی کے سبب انسان ہر خیر کے کام کو کل پر ٹالتا ہے اور اپنا آج لایعنی مشاغل کی نذر کردیتا ہے یہاں تک کہ وہ بے کل ہوجاتا ہے۔ قیامت کا دن ایک ایسا آج ہے کہ جس کا کوئی کل نہیں ۔ آگے فرمانِ قرآنی ہے:’’ان کے پاس جو تازہ نصیحت بھی ان کے رب کی طرف سے آتی ہے اُس کو بہ تکلف سنتے ہیں اور کھیل میں پڑے رہتے ہیں‘‘۔ رمضان کی تراویح میں ہم نے بڑے ذوق و شوق کے ساتھ اللہ کی کتاب کوتو سنا لیکن کیا اب ہم لوگ دھیرے دھیرے نصیحت ربانی سے منہ موڑ کر دنیاوی لہو و لعب میں مبتلا نہیں ہورہے ہیں؟

غفلت کی تباہ کن کیفیت سے بچنے کی ایک صورت یہ ہے کہ انسان یوم احتساب سے قبل خود احتسابی کرے۔ رسول اکرم ﷺنے فرمایا :’’جس نے ایمان و احتساب کے ساتھ ماہِ رمضان کے روزے رکھے اس کے اگلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جس نے ایمان و احتساب کے ساتھ شب قدر میں قیام اللیل کیا اس کے اگلے گناہ بخش دیئے جائیں گے‘‘۔یہاں صوم و قیام دونوں کےساتھ ایمان کےعلاوہ احتساب کو لازم قرار دیا گیا ہے۔ احتساب نفس کی اہمیت کا اندازہ اس فرمانِ رسول ﷺ سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ :" عقل مند وہ ہے جو اپنا محاسبہ خود کرے اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے عمل کرے۔ "حضرت عمر ؓ نے فرمایا" اپنا محاسبہ کرتے رہا کرو قبل اس کے کہ تم سے حساب لیا جائے، اپنا وزن کرتے رہا کرو قبل اس کے کہ تمہارا وزن کیا جائے، اور اس ذات گرامی کے سامنے اس بڑی پیشی کی تیاری کرتے رہو۔ دنیا میں جس نے اپنا محاسبہ کرلیا روز قیامت اس پر حساب آسان ہو جائے گا"

اول الذکر آیت میں یومِ احتساب کاتذکیر ہے ۔ قرآن ِ حکیم میں اس کی جو منظر کشی کی گئی اس کو پڑھنے سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ارشادِ حق ہے:’’پھر جب سب وہاں پہنچ جائیں گے تو اُن کے کان اور اُن کی آنکھیں اور ان کے جسم کی کھالیں ان پر گواہی دیں گی کہ وہ دنیا میں کیا کچھ کرتے رہے ہیں۔ وہ اپنے جسم کی کھالوں سے کہیں گے ’’ تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی‘‘ ؟ وہ جواب دیں گی ’’ ہمیں اُسی خدا نے گویائی دی ہے جس نے ہر چیز کو گویا کر دیا ہے ‘‘ اُسی نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اور اب اُسی کی طرف تم واپس لائے جارہے ہو۔ تم دنیا میں جرائم چھپ کر کرتے تھے اس وقت تو تمہیں یہ خیال نہ تھا کہ کبھی تمہارے اپنے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہارے جسم کی کھالیں تم پر گواہی دیں گی ۔ بلکہ تم نے تو یہ سمجھ رکھاتھا کہ تمہارے بہت سے اعمال کی اللہ کو بھی خبر نہیں ہے‘‘۔

بدبخت لوگوں کے لیے یہ یقیناً ایک ہیبت ناک منظر ہے لیکن ذرا ان خوش قسمت لوگوں کا تصور کریں جن کی بابت نبیٔ مکرم ﷺ نے حدیث قدسی میں بشارت دی ہے کہ :’’ نوافل بکثرت پڑھتے پڑھتے بندہ میرے نزدیک اور میرا محبوب ہو جاتا ہے۔ جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں ، جن سے وہ سنتا ہے اور اس کی نگاہ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن سے وہ تھامتا ہے اور اس کے قدم بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے ۔ وہ اگر مجھ سے مانگے میں دیتا ہوں ، اگر دعا کرے میں قبول کرتا ہوں ، اگر پناہ چاہے ، میں پناہ دیتا ہوں‘‘۔ ایک بندۂ مومن اس سے زیادہ کیا چاہتا ہے اور اسے کیا مل سکتا ہے؟نبیٔ پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’سمجھ دار وہ شخص ہے جو اپنا محاسبہ کرے اور آخرت کی بہتری کے لئے نیکیاں کرے اور عاجزوہ ہے جو اپنے نفس کی خواہشات کی پیروی کرے اور اللہ تَعَالٰی سے آخرت کے اِنعام کی امید رکھے۔‘‘ ہمیں اپنے نفس کا جائزہ لے کر دیکھنا چاہیے ہمارا اپنا شمار دانشمند لوگوں میں ہوتا ہے عاجز لوگوں میں ؟
صُورت شمشیر ہے دستِ قضا میں وہ قوم
کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب




 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1671 Articles with 824224 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 May, 2022 Views: 351

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ