آزاد زنجیر

(Ureeda Kanwal, Rawalpindi)

جاڑے کا موسم قریب آتے ہی چائے کی طلب خودبخود بڑھ جاتی ہے۔اور میری والدہ کی تو پکی عادت ہےموسم کیسا بھی ہو شام کی چائے کے بغیر شام نا مکمل سی لگتی ہے۔پچھلے کچھ عرصے سے دیگر فرائض کے ساتھ ساتھ امی جی نے چائے بھی مجھے بنانے کو کہہ دی۔کہ ایک دن جب چائے چولہے پر تھی اور میں ساتھ ساتھ کچھ اور کام بھی نبٹا رہی تھی، میں نے چولہے کی آنچھ زرا ہلکی کردی تو وہ بہت آہستہ آہستہ پکی۔ اس دن جب ہم دونوں ماں بیٹی چائے پی چکے تو امی کہنے لگیں، آج تم نے چائے بہت اچھی بنائی ہے۔ مگر میں نے جوابا کہا میں تو روز ایسے ہی بناتی ہوں آج کچھ نیا نہیں کیا، کہ پھر خود ہی میرے ذہن میں چائے کا ہلکی آنچھ میں پکنا آگیا اور یہیں سے سوچ کا ایک اور دروازہ کھلا جس نے بلا آخرمجھے قلم اٹھانے پر مجبور کیا۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ چائے کہ ہلکی آنچھ میں پکنے سے میں نے کونسی روکٹ سائنس دریافت کرلی۔ روکٹ سائنس تو دریافت نہیں کی ہا ں مگر اس کو بنانے والے انسان کے متعلق ضرور کچھ انکشافات ذہن میں آئے۔
میں نے اس سے پوچھا بتا اور کیسا ہے
تیری خاموشی میں یہ شور کیسا ہے
مصنوعی روشنی میں چھپا گھپ اندھیرا
انسانی ترقی کا یہ دور کیسا ہے

آج کی دنیا افراتفری اور تیزی کی دنیا ہے۔ جہاں سب کو اپنے اپنے کاموں کی جلدی پڑی ہوئی ہے۔ مگر اس چائے کے ہلکی آنچھ میں پکنے سے پیدا ہونے والے ذائقے کے بعد میرا دھیان ہر اس کھانے کی طرف گیا جو ہمارے دیسی کھانے ہیں اور ہلکی آنچھ میں پکتے ہیں جیسا کہ کڑی،ساگ،پائے، حلیم وغیرہ اور ان کے ذائقوں میں بھی اپنی خاص لذت ہوتی ہے لیکن جناب ہم تو آج کے لوگ ہیں ہمارے تو کھانے بھی فاسٹ فورڈذ ہیں پھر ہمارے مزاجوں میں ٹھراؤ کیسے ہو سکتا ہے۔ پچھلے لوگ زیادہ تر خواتین مختلف ہنر سے واقف ہوتی تھیں۔ دستکاری یا کڑھائی،سلائی،چارپائی بنانا، ٹوپیاں بنانا، کروشیا کا کام، دھاگے سے اور کئی چیزیں بنانا۔ ان چیزوں کو بنانے میں ظاہر ہے وقت درکا ہوتا تھا، یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں میں صبر اور تحمل کا مادہ آج کی نسل سے کئی زیادہ تھا۔ جب کہ ہم،ہم کہتے ہیں یہاں بات ابھی ہوئی بھی نہ ہو ،سننے والا پہلے سن لے، ہم گوگل کے لوگ ہیں، ہمارے مزاجوں میں تیزی نہ ہو یہ کیسے ہو سکتا ہے۔

بظاہرانسان نے ترقی کر لی ہے، گھنٹوں کا کام لمحوں میں ہونے لگا مگر درحقیقت انسان اپنی اصل سے بہت دور ہوتا جا رہا ہے۔ خالق پسند تہذیب سے مخلوق پسند تہذیب تک کا سفر تو انسان نے طے کر لیا اور اب انسان مشین پسند تہذیب کی طرف منتقل ہو رہا ہے بلکہ آدھے سے زیادہ ہو چکا ہے۔ اس سائنسی تہذیب کی بنیاد مصنوعی ذہانت(آرٹیفیشل انٹیلیجنس) پر ہے۔جب ذہانت تک مصنوعی ہو جائے پھر یہی مصنوعی ذہانت اپنے بنانے والے پر راج کرے گی پھر بھلا اصلیت کا تو کام ہی ختمہو جاتا ہے۔

بے تحاشا مشینوں کے علاوہ کئی ایسے روبوٹس آچکے ہیں جن میں آٹومیٹک نظام نسب کیا گیا ہے۔ ایک بٹن سے وہ انسان کے کئی کام سر انجام دے دیتے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کراب کچھ روبوٹس میں احساسات و جذبات بھی منتقل کیے گیے ہیں اور ان میں کسی آٹومیٹک نظام کی بجائے ان کے احساسات کے مطابق وہ کام کرتے ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ انسان کسی نئی مخلوق کی تخلیق کر رہا ہے مگر پھر شائید اس کی اپنی موجودگی پرسوال اٹھنے لگیں گے۔

پہلے لوگ یہ دیکھتے تھے کہ بات 'کون 'کہ رہا ہے۔ عقیدیت، محبت اور روحانیت کا تقاضا تھا کہ بس سر جھکا لیا جائے اور حکم مان لیا جائے۔ خواہوہ خدا کا ہو، باپ کا ہو، یا پھر کسی بڑے بزرگ کا ہو۔ پھر ہماری نسل ہے جو دیکھتی ہے کہ بات 'کیا 'کر رہا ہے، اگر وہ ٹھیک ہے تو مانی جائے گی ورنہ نہیں۔خواہ وہ کوئی بھی کہ رہا ہو ہم اس کی حیثیت یا مقام کو کم ہی ملحوظ خاطر لاتے ہیں اور مجھے ایسے لگتا ہے کہ ایک وقت آنے والا ہے جب یہ مشین اور روبوٹس انسان سے کہیں گے کہ یہ 'کیوں 'کہ رہا ہے۔ اس کے کہنے کی ضرورت یا مقصد باقی تو نہیں رہا۔

جب تک فون تاروں سے جڑے تھے انسان بھی ان سے جڑتے جا رہے تھے لیکن جب سے فون تاروں سے ہٹیں ہیں، بظاہر انسان کو آزاد مگر درحقیقت اب زنجیر سے باندھ گئے ہیں۔کمپیوٹر کو آئے کم و بیش پچیس سال ہی ہوئے ہیں مگر اس سے رونما ہونے والی تبدیلیوں نے انسان کو کئی اور جہانوں سے تو متعارف کروادیا لیکن یہ انسان خود جس جہاں میں تھا اس کا پتا اس سے کھو گیا ہے۔ مادے کی اس بے جا محبت میں روحانیت آہستہ آہستہ ختم ہورہی ہے۔ اور جب روح باقی نہیں رہتی تو جسم آخر کھوکھلا اور خالی ہوجاتا ہے، جسے یا تو دفنایا جاتا ہے یا جلایا جاتا ہے۔

درحقیقت یہ فون آزاد زنجیر ہے،آج ہمارا روحانی مادہ اسی آزاد زنجیر اور اسی مختلف کڑیوں مثلا پیسہ، آسائش، سے جڑا ہوا ہے۔ یاد رہے ترقی بری نہیں ہے، ترقی کبھی بری نہیں ہوتی باشرط یہ کہ ترقی ہو تو۔۔۔۔۔۔۔ مگر ہم نے جو رَوِش ترقی کے نام پہ اختیار کر لی ہے، احساس، مروت، محبت، ادب ان سب کو اپنی ذات اور معاشرے سے نکال باہر پھینکا ہے، یہ غلط ہے اور یہ غور طلب ہے۔ ذرا سوچیے!

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ureeda Kanwal

Read More Articles by Ureeda Kanwal: 2 Articles with 929 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 May, 2022 Views: 528

Comments

آپ کی رائے