کسی نے پالی مرغی تو کسی نے بیچے لولی پوپ، ہمارے سیاستدان سیاست کے علاوہ اور کیا کرتے ہیں؟

 
قیام پاکستان کے وقت سیاست سے مراد ایک ایسا فریضہ تھا کہ جس میں حصہ لینے والے ایک مقصد کے تحت اس میں حصہ لیتے تھے- عام طور پر سیاست میں حصہ لینے والے افراد معاشی طور پر اس وجہ سے پیچھے رہ جاتے تھے کیوں کہ وہ اپنا وہ وقت بھی سیاست کو دے دیتے تھے جو وقت ان کے معاش کی سرگرمیوں کا ہوتا تھا-
 
اور پھر پاکستان بن گیا ۔۔۔۔۔۔۔
قیام پاکستان کے بعد سیاست تو جاری رہی مگر اس کا مقصد تبدیل ہو گیا- ابتدا کے دنوں میں وہ سیاست دان تھے جنہوں نے تحریک پاکستان میں شانہ بشانہ کردار ادا کر کے پاکستان کے حصول کی سیاست کی تھی تو اب ان کی سیاست کا رخ تعمیر پاکستان کی جانب مڑ گیا- یہی وجہ ہے کہ ابتدائی برسوں میں تمام تر مشکلات کے باوجود پاکستان ترقی کے سفر پر تیزی سے بڑھ رہا تھا-
 
پھر سیاست کاروبار بن گئی
جب تک سیاست میں پاکستان کی خدمت شامل رہی تب تک زیادہ تر سیاست دان کی سیاست کا محور صرف ملک کی بہتری رہی- مگر اس کے بعد سیاست کے موڈ میں تبدیلی واقع ہوئی اور سیاست میں فیوڈل لارڈ اور بڑے بڑے کاروباری حضرات اور صنعت کار شامل ہونے لگے-
 
یہ وہ افراد تھے جو کہ سیاست میں ملک کی خدمت کے بجائے اپنی طاقت اور دولت میں اضافے کے لیے آئے تو اسی سبب ان کا مقصد بھی سیاست کے ذریعے اپنے مفادات کا تحفظ تھا-
 
لہٰذا اب سیاست دان اپنے سیاسی کارناموں اور خدمات کے بجائے اپنے پیشوں اور اپنے کاروباروں کی وجہ سے پہچانے جانے لگے جو کہ ان کے سیاست میں آنے کے بعد دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کرنے لگا-
 
1: حمزہ شہباز پولٹری کنگ آف پنجاب
حمزہ شہباز جو کہ وزیراعلیٰ پنجاب ہونے کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کے بیٹے بھی ہیں ان کو پولٹری کنگ آف پنجاب بھی کہا جاتا ہے- ان کے ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ پورے پاکستان میں پولٹری کی صنعت میں چکن اور انڈوں کی قیمت کا تعین حمزہ شہباز ہی کے ہاتھ میں ہوتا ہے-
 
 
ان کے حوالے سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کے اثاثوں کی مالیت ان کے والد شہباز شریف سے زيادہ ہے یا دوسرے لفظوں میں وہ اپنے والد سے زيادہ دولت مند ہیں۔ گزشتہ دنوں نیب نے بھی ان کو آمدنی سے زيادہ اثاثوں کے کیس میں گرفتار کیا تھا- تاہم اس کے باوجود ان کے اثاثے دن دونی اور رات چوگنی ترقی کر رہے ہیں-
 
2: مفتاح اسماعیل کوکو مو مجھے بھی دو
موجودہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا شمار بھی کراچی کے بڑے صنعت کاروں میں ہوتا ہے اور وہ کینڈی لینڈ نامی کمپنی کے مالک ہیں جو کنفشنری آئٹم بنانے میں خصوصی شہرت رکھتی ہے۔ ان کی کمپنی کے حوالے سے سما ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے معاشی حالات کے کمزور ہونے کے باوجود گزشتہ سالوں میں ریکارڈ ترقی کی-
 
جس پر صحافیوں نے ان سے جب یہ سوال کیا کہ ملک کی معاشی حالات خراب اور آپ کی کمپنی کی اچھی کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے تو ان کا اس حوالے سے یہ کہنا تھا کہ ملک اور ان کی کمپنی دو مختلف باتیں ہیں اور ان کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے-
 
 
3: جہانگیر ترین اور شوگر مافیا
یہ ایک حیرت انگیز بات ہے کہ ہمارے ملک میں موجود شوگر ملز کے مالکان کا براہ راست تعلق کسی نہ کسی طرح سے سیاست سے ضرور ہے کچھ شوگر ملز جہانگیر ترین کی ہیں تو کچھ آصف علی زرداری کی ہیں اور یہ تمام فیکٹری مالکان ملک بھر میں چینی کی قیمت کا نہ صرف تعین کرتے ہیں بلکہ اس کے ذریعے بے تحاشا منافع بھی کماتے ہیں-
 
یہ تو ایک چھوٹی سے مثال ہے اس کے علاوہ معاملہ گندم کی قیمتوں کا ہو یا بڑے بڑے ہاؤسنگ پروجیکٹ کا ہر ہر شعبے میں ہمارے سیاست دان اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے خود کو دولت مند ترین اور عوام کو غریب ترین کر رہے ہیں-
 
 
سیاست کو کاروبار سے الگ کرنے کا آسان طریقہ
عوام کے اندر یہ سوال پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے کہ جب ملک کے معاشی حالت کمزور ہیں تو ایسی صورتحال میں ان سیاست دانوں کے کاروبار دن دونی رات چوگنی ترقی کیسے کر سکتے ہیں- اس کے ساتھ ساتھ ایسا قانون بھی پاس ہونا چاہیے کہ کسی بھی سرکاری عہدے یا سیٹ پر موجود شخص اپنا ذاتی کاروبار نہین چلا سکتا ہے-
 
اس کے علاوہ اس بات کا خصوصی طور پر حساب ہونا چاہیے کہ سرکاری عہدے پر کام کرنے کے دوران ان کے اثاثوں پر کیا فرق پڑا اور جس طرح اسمبلی میں حلف اٹھانے سے پہلے اپنے اثاثے ڈکلئیر کرنے ضروری ہیں اسی طرح سیٹ چھوڑنے کے بعد بھی اثاثوں کا حساب دینا ضروری ہونا چاہیے-
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
22 May, 2022 Views: 2282

Comments

آپ کی رائے