ننھی سی بیٹی کی دہائیاں۔۔ پاکستان کیسے یاسین ملک کو پھانسی سے بچا سکتا ہے؟

 
بھارت نے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو نقصان پہنچانے کیلئے حریت رہنماء یاسین ملک کو پابند سلاسل کر رکھا ہے اور 25 مئی کو ان کو سزاء سنائے جانے کا امکان ہے جس میں پھانسی کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے- تاہم پاکستان کی جانب سے صرف مذمتی بیانات کے علاوہ یاسین ملک کی رہائی کیلئے عملی اقدامات کا فقدان دیکھنے میں آرہا ہے۔
 
یاسین ملک کون ہیں ؟
یاسین ملک بھارت کے زیرانتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے علیحدگی پسند رہنما اور جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین ہیں۔ یاسین ملک اوائل عمری سے ہی کشمیر کو الگ اور آزاد حیثیت دلوانے کیلئے سرگرم ہیں۔ انہوں نے مسلح جدوجہد بھی کی اور بعدازاں سیاسی جدوجہد شروع کی جس کی وجہ سے وہ شروع سے ہی گرفتاریوں کا سامنا کرتے آ رہے ہیں۔
 
مشال ملک سے شادی
2009 میں یاسین ملک نے پاکستانی آرٹسٹ مشال ملک سے شادی کی جن سے ان کی ملاقات چند سال قبل مشرف دور میں اس وقت ہوئی تھی جب دونوں ملکوں کے تعلقات کافی خوشگوار تھے اور دونوں اطراف سے وفود ایک دوسرے کے ملک کے دورے کر رہے تھے، ان ہی دنوں یاسین ملک پاکستان آئے تھے اور ایک تقریب میں مشال ملک سے ملاقات ہوئی۔ ان کی ایک بیٹی رضیہ سلطانہ بھی ہے۔
 
یاسین ملک کی گرفتاری
یاسین ملک کو 22 فروری 2019 کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا اور سات مارچ کو انہیں جموں کوٹ بلوال جیل منتقل کیا گیا جہاں سے کچھ عرصہ بعد دہلی کی تہاڑ جیل منتقل کیا گیا۔ جہاں سے ان کی صحت بگڑنے کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔ پانچ اگست کو جب بھارتی حکومت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی تو اس وقت بھی یاسین ملک جیل میں تھے۔
 
 
مقدمہ اور سزاء
بھارت کی قومی تفتیشی ایجنسی کی ایک خصوصی عدالت نے 19 مئی کو یاسین ملک کو شدت پسندی کی معاونت سے متعلق ایک کیس میں قصوروار قرار دیا تھا اور ان کو سزا سنانے کیلئے 25مئی کو سماعت کی تاریخ دی تھی۔
 
اہل خانہ کی اپیل
حریت رہنما کی اہلیہ مشال ملک کا کہنا ہے کہ یاسین ملک کو جیل میں زہر دیا گیا، وقت کم ہے، 25 تاریخ کو یاسین ملک کو سزا سنائی جانی ہے، سیکریٹری جنرل یو این کو فوری خط لکھا جائے۔ یاسین ملک کی صاحبزادی رضیہ سلطانہ کا کہنا ہے کہ میں اپنے پاپا کو بچانا چاہتی ہوں۔ سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ میرے پاپا یاسین ملک کا مسئلہ دیکھیں۔ مشال ملک نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے 25 مئی کو لانگ مارچ کی کال ملتوی کرنے کی بھی اپیل کی ہے تاکہ پوری قوم یکسو ہوکر یاسین ملک کیلئے آواز اٹھا سکے۔
 
بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
حکومت پاکستان کی طرف سے یاسین ملک کی رہائی کے حوالے سے تاحال کوئی عملی اقدامات نظر نہیں آئے۔ یاسین ملک 3 سال سے جیل میں ہیں جبکہ اسی دوران مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت بھی ختم کی جاچکی ہے لیکن پاکستان مذمت اور اقوام متحدہ سے اپیلوں پر اکتفا کئے ہوئے ہے ۔
 
پاکستان نے ہمیشہ بھارت کے ساتھ جذبہ خیر سگالی کا مظاہرہ کیا اور اسی جذبے کے تحت بھارتی دہشت گرد سربجیت سنگھ، ابھی نندن اور کئی دوسرے بھارتیوں کو رہا کیا جبکہ بھارت غلطی سے سرحد عبور کرنیوالے پاکستانیوں کو بھی بہیمانہ تشدد کرکے واپس بھیجتا ہے۔ پاکستان کے پاس یاسین ملک کو بچانے کیلئے یہی راستہ ہے کہ بھارتی دہشت گرد کلبھوشن کی فوری پھانسی کا اعلان کردیا جائے۔
 
 
پاکستان کو برتری
یاسین ملک ایک حریت رہنماء ہیں اور آزادی کا جذبہ لے کر پیدا ہونیوالوں کی کشمیر میں کوئی کمی نہیں جبکہ کلبھوشن ایک فوجی افسر ہے جس کو سزاء ملنے سے بھارتی فوجیوں کے حوصلے پست ہونگے لیکن اگر بھارت یاسین ملک کو کوئی سخت سزاء دیتا ہے تو اس سے کشمیریوں کی آزادی کی تحریک میں نیاجوش اور ولولہ پیدا ہوگا۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان فوری کلبھوشن یادو کی پھانسی کااعلان کرے اور بھارت کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے۔پاکستان یاسین ملک کے جواب میں کلبھوشن کو سامنے لائے تو بھارت کو یاسین ملک کو سزاء دینے سے روکنا ممکن ہے۔
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
22 May, 2022 Views: 7069

Comments

آپ کی رائے