عکس بینظیر۔۔۔ بھٹو کی تصویر۔۔۔ بلاول کا پی پی چیئرمین سے وزیر خارجہ بننے تک کا سفر

 
دھیما مزاج، شاندار سیاسی پس منظر، اعلیٰ تعلیم ، ماں باپ اور نانا کی طلسماتی شخصیت کا عکاس،۔اقوام عالم میں پاکستان کو تنہائیوں سے نکالنے کیلئے کوشاں پاکستان کی تاریخ کے سب سے کم عمر وزیر خارجہ، روٹی، کپڑا اور مکان، جمہوریت کی بقا اور استحکام، مزدور کے حقوق اور عام آدمی کے ترجمان۔
 
یہاں بات ہورہی ہے پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ۔19 سال کی عمر میں پاکستان کی سب سے پہلی سیاسی جماعت کی قیادت سنبھالنے اور ماں کی شہادت سیاست کے پرخار میدان میں وارد ہوئے اور آن کی آن میں پوری دنیا کو اپنی سیاسی بصیرت، معاملہ فہمی سے اپنا گرویدہ بناتے گئے۔
 
ابتدائی زندگی
کراچی کے لیڈی ڈفرن اسپتال میں 21 ستمبر 1988کو دنیا میں آنیوالے والے بلاول کا نام سندھ کے عظیم صوفی بزرگ شاعر اور فلسفی مخدوم بلاول بن جام حسن سمو کے نام پر رکھا گیا ہے جنہیں دسویں صدی ہجری میں اس وقت کے سندھ کے ارغون حکمران نے کوہلو میں پسوا کر قتل کرادیا تھا۔ بلاول کے معنی ہیں ’’ جس کا کوئی ثانی نہ ہو‘‘۔
 
بلاول کو سیاسی تربیت اپنے گھر سے ملی، عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم کے بطن سے پیدا ہونیوالے بلاول اپنے نانا کی طرح اقوام عالم پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے ملک کا پرچم بلند کررہے ہیں۔
 
 
ماں باپ کی تکلیفیں
ایک اسٹار کڈ ہونے کے باوجود بلاول کا بچپن بہت زیادہ خوشگوار نہیں رہا۔ ماں باپ کو ملنے والی قید و بند کی صعوبتیں دیکھیں اور جلاوطنی کا طوق بھی پہنا لیکن جیسے سونا آگ پہ پک کر ہی کندن بنتا ہےویسے ہی ماں باپ کی تکلیفوں نے سیاست سے دور بھاگنے کے بجائے بلاول کے عزم و ہمت اور حوصلہ کو جلابخشی۔
 
تعلیم اور تربیت
اپنی والدہ بے نظیر بھٹو شہید کے دوسرے دور حکومت میں ابتدائی تعلیم کراچی گرامراسکول اور اس کے بعد فروبلس انٹرنیشنل اسکول ،اسلام آباد سے تعلیم حاصل کی۔
 
1999میں اپنی والدہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی خود ساختہ جلا وطنی کے وقت اُن کے ساتھ ہی بیرون ملک چلے گئے۔ دبئی منتقل ہونے کے بعد راشد پبلک اسکول میں تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا جہاں وہ اسٹوڈنٹ کونسل کے نائب چیئرمین بھی رہے۔ راشد پبلک اسکول کا شمار دبئی کے بہترین اسکولز میں ہوتا ہے۔
 
2007میں بلاول بھٹو نے برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کے سب سے اہم کالج کرائسٹ چرچ میں داخلہ لیا، برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی سے ’بی اے آنرز‘ کی سند جدید تاریخ اور سیاست کے شعبے میں حاصل کی۔
 
پاکستان کے پہلے وزیراعظم نواب زادہ خان لیاقت علی خان، اسرائیل کے سابق وزیر اعظم بینجمن نتین یاہو، پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی شہید ذو الفقار علی بھٹو اور مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم اور بلاول بھٹو کی والدہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی آکسفورڈ یونی ورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ بلاول یہاں بھی طلبہ یونین میں سرگرم رہے۔
 
 
پیپلزپارٹی کی قیادت
27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی میں کے ایک انتخابی جلسے میں والدہ محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد بلاول نے ٹوٹی بکھری پارٹی اور قوم کی قیادت کوچیلنج سمجھ کر قبول کیا اور اپنی والدہ کے اس نامکمل سیاسی سفر کو مکمل کرنے کا عہد کر لیا۔بلاول تعلیم مکمل کرنے کے بعد 2011میں وطن واپس آئے اور سیاسی معاملات میں بڑ ھ چڑھ کر حصہ لیا۔
 
عملی آغاز سیاست
بلاول بھٹو نے 2013میں میدان عمل میں اترنے کا فیصلہ کیا اور 2015 میں شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے پارٹی کی کمان اور تمام اختیارات بلاول بھٹو کے حوالے کردیئے لیکن کم عمری کی وجہ سے پارلیمانی سیاست کا حصہ نہ بن سکے۔
 
2018 کے عام انتخابات میں لاڑکانہ سے کامیابی حاصل کرکے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے بعد اتحادی حکومت میں وزیر خارجہ کا منصب سنبھالا۔
 
کامیابیاں
اپنے نانا کی طرح بطور وزیر خارجہ پاکستان کا مقدمہ لے کر اقوام عالم میں جانے والے بلاول بھٹو زرداری پاکستان کے سب سے کم عمر وزیرخارجہ کا اعزاز حاصل کرچکے ہیں اور ان دنوں پاکستان کو تنہائیوں سے نکالنے کیلئے دنیا بھر میں پاکستان کا مقدمہ لڑ رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے دنیا بلاول بھٹو کی شکل میں مستقبل کا ایک کامیاب لیڈر دیکھ رہی ہے۔
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
23 May, 2022 Views: 697

Comments

آپ کی رائے