پیٹرول کے بعد مہنگائی کا طوفان۔۔۔ ہر پرانے حکمران کی غلطیوں کا ازالہ عوام کب تک کریں گے؟

 
تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے بعدوجود میں آنے والی مخلوط حکومت کا اجلاس جاری تھا، "بڑوں "کی اس بیٹھک میں ہر "بڑا" چھوٹا سے منہ بناکر پریشان بیٹھا تھا کہ ایک آواز ابھری "ہم سے مس کیلکولیشن ہوگئی"۔ اس ایک جملے نے حکومت کے سیاسی مستقبل پر ایک واضح لیکر کھینچ دی ۔اپریل میں عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد کے بعد جب سے متحدہ اپوزیشن نے اقتدار سنبھالا تب سے معاشی مسائل کے گرداب سے نکلنے کی کوشش میں مصروف ہے۔
 
قرضوں پر انحصار
 پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ملکی تاریخ کے سب سے زیادہ قرضے لئے جس کا خمیازہ ٹیکسوں اور مہنگائی کی صورت میں عوام کو بھگتنا پڑا اور آج پاکستان میں مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ پی ٹی آئی حکومت نے ملکی نظم و نسق چلانے کیلئے قرضوں پر انحصار رکھا جس کی وجہ سے بجلی، پیٹرول ودیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کی شرائط رکھی گئیں لیکن عمران خان نے حد درجہ مہنگائی کرنے کے بعد پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں کو بجٹ تک منجمد کردیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے نیچے آئے اور عمران خان کے 21ارب ڈالر قرض کے قرض پر سود کی ادائیگی کیلئے پاکستان کے پاس وسائل نہیں ہیں۔
 
پیٹرول مہنگا کرنے کا معاہدہ
عمران خان نے اپنے اقتدار کے آخری ایام میں ایک سیاسی حربے کے طور پر پیٹرول اور بجلی کی قیمت پر سبسڈی کا اعلان کیا جبکہ عمران خان حکومت آئی ایم ایف سے معاہدے کے مطابق پیٹرول کی قیمت 245 روپے فی لیٹر ہونی چاہیے تھی۔ پی ٹی آئی حکومت نے اپنی سیاسی ساکھ بچانے کیلئے پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عوام پر ڈالنے کے بجائے حکومتی خزانے پر ڈال دیا جس کی وجہ سے ملک کو شدید خسارے کا سامنا ہے اور تجارتی خسارہ پچاس فیصد تک پہنچ چکا ہے۔
 
 
پیٹرولیم قیمتوں میں اضافہ
آئی ایم ایف کی جانب سے پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے بغیر مزید قرض دینے سے انکار کی وجہ سے حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30 روپے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے۔ قیمت میں اضافے کے بعد ایک لیٹر پیٹرول 179اعشاریہ86روپے ، ڈیزل 174اعشاریہ15 روپے اور لائٹ ڈیزل 148اعشاریہ31 روپےفی لیٹر ، مٹی کاتیل 155اعشاریہ56 روپے فی لیٹر ہوگیا ہے۔آئی ایم ایف فیول سبسڈی ختم کرنے پر پاکستان کو 90 کروڑ ڈالر جاری کرے گا۔
 
مفتاح اسماعیل
وفاقی وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ حکومت چلانے کا خرچہ 42 ارب اور سبسڈی 115ارب روپے ہے، 15دن میں 55 ارب روپے کا نقصان برداشت کرچکے ہیں، جب تک پیٹرول کی قیمت نہیں بڑھائیں گے آئی ایم ایف قرض نہیں دے گا- عمران خان فارمولے پر جاؤں تو ڈیزل 305 روپے کا ہوگا، پیٹرول کی قیمت نہیں بڑھا رہے تھے تو روپیہ گر رہا تھا۔جس قیمت پر ڈیزل مل رہا ہے، اس سے 56 روپے کم پر دے رہے ہیں۔
 
الزامات کی سیاست
 وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ سابقہ حکومت میں فروری تک پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ہوش ربا اضافہ ہوا، جب ان کی حکومت جانے لگی تو بارودی سرنگیں بچھا کر چلے گئے، سابقہ حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت کو فکس رکھا، پہلے دن سے کہہ رہا تھا کہ عوام پر کچھ نہ کچھ بوجھ ڈالنا ناگزیر ہے۔پی ٹی آئی کے رہنماء ماضی کے حکمرانوں پر ذمہ داری ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم سے پہلے لئے گئے قرضے مشکلات کا سبب ہیں اور ہم نے خزانہ بھرا ہوا چھوڑا ہے جبکہ موجودہ حکومت پی ٹی آئی حکومت کو قصور وار ٹھہرا رہی ہے۔
 
 
عوام کب تک برداشت کریں؟
حکمرانوں کی رسہ کشی میں نقصان صرف عوام کو ہورہا ہے، جہاں تک پیٹرول کی بات ہے تو صرف ایک چیز پر مہنگائی سے شائد اتنا زیادہ نقصان نہ ہوا کیونکہ ایک عام آدمی جس کے پاس اپنی موٹر سائیکل ہے وہ اوسط 100 روپے کا پیٹرول ڈلواتا ہے تو اس کیلئے 110 روپے کا پیٹرول ڈلوانا بھی شائد زیادہ مشکل نہیں ہوگا لیکن پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے خوردنی اشیاء ، سفری اخراجات، ادویات،بجلی اور دیگر چیزوں کی قیمتوں میں ہونیوالا اضافہ عوام کیلئے کسی صورت قابل برداشت نہیں ہوگا۔ یہاں سوال یہ ہے کہ پی پی ہو یا پی ٹی آئی، ق لیگ ہویا ن لیگ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں، قرضوں کے انبار اور معاشی مشکلات کا بوجھ عوام کب تک برداشت کریں گے؟۔
Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
26 May, 2022 Views: 2186

Comments

آپ کی رائے