چند روزہ زندگی

(Rohail Akbar, Lahore)

 ہم کتنے ظالم ہیں یا مظلوم اسکا فیصلہ بھی ہم نے خود ہی کرنا ہوتا ہے دوسرے افراد ہمارے بارے میں کیا سوچتے ہیں یہ انکی سوچ ہے جو ہمارے ظاہری حلیے ،بات چیت اور ہمارے اخلاق سے اندازہ لگاتے ہیں یہ درست بھی ہوسکتا ہے اور حقیقت کے برعکس بھی کیونکہ جو اپنے بارے میں ہم خود جانتے ہیں وہی اصل میں حقیقت ہوتی ہے روٹی کا لقمہ ہم اپنے منہ میں ڈالنے سے پہلے اگر یہ چوس لیں کہ یہ حرام کا تو نہیں کسی کی جیب تو نہیں کاٹی کسی کا حق تو غضب نہیں کیا کسی کے ساتھ زیادتی تو نہیں کی کسی کو بے گناہ تو نہیں پکڑا لیا اور کیا ہم اپنے ذمہ لگائی جانے والی ذمہ داری احسن طریقے سے پوری کررہے ہیں کیاہماری پولیس کا ضمیر زندہ ہے اور کیا ہماری جیلوں میں بند سبھی گناہ گار ہیں اس حوالہ سے ایک قصہ لکھوں گا مگر پہلے زندگی کی کچھ حقیقتیں جن سے ہمیں واسطہ پڑتا رہتا ہے وہ پڑھ لیں ۔ پاؤں کی موچ اور چھوٹی سوچ ہمیں آگے بڑھنے نہیں دیتی،ٹوٹی قلم اور دوسروں سے جلن ہمیں اپنی قسمت لکھنے نہیں دیتی،کام کا آلس اور پیسے کی لالچ ہمیں ترقی کرنے نہیں دیتی،دنیا میں سب چیزیں مل جاتی ہیں صرف اپنی غلطی نہیں ملتی،جتنی بھیڑ بڑھ رہی ہے زمانے میں لوگ اتنے ہی اکیلے ہوتے جا رہے ہیں،اس دنیا کے لوگ بھی کتنے عجیب ہیں نا سارے کھلونے چھوڑ کر جذبات سے کھیلتے ہیں،کنارے پر تیرنے والی لاش کو دیکھ کر یہ سمجھ میں آیا بوجھ جسم کا نہیں سانسوں کا تھا،سفر کا مزہ لینا ہو تو ساتھ سامان کم رکھیں اور زندگی کا مزہ لینا ہو تو دل میں ارمان کم رکھئے،زندگی کو اتنا سیریس لینے کی ضرورت نہیں ہے یہاں سے زندہ بچ کر کوئی نہیں گیا،جنکے پاس صرف سکے تھے وہ مزے سے بھیگتے رہے بارش میں جنکے پاس نوٹ تھے وہ چھت کی تلاش میں رہ گئے،پیسہ انسان کو اوپر لے جا سکتا ہے لیکن انسان پیسہ اوپر نہیں لے جاسکتا،کمائی چھوٹی یا بڑی ہوسکتی ہے پر روٹی کا سائز لگ بھگ سبھی گھروں میں ایک جیسا ہی ہوتا ہے کام سے ہی پہچان ہوتی ہے انسان کی مہنگے کپڑے تو ''پُتلے'' بھی پہنتے ہیں دوکانوں میں ۔اب کچھ نگران سیٹ اپ کے حوالہ سے زیر گردش سوالات اور انکے جوابات نگران حکومت لوکل ہوگی یا امپورٹڈ؟ہائبریڈ ہوگی۔پاکستان کا مستقبل کیا ہے؟پاکستان اشرافیہ کا کھلونا ہی رہے گا کوئی فوری تبدیلی ممکن نہیں۔ امپورٹس پر پابندی سے کیا ہوگا؟شراب پر پابندی ہے لیکن وہ پھر بھی ملتی ہے پابندی صرف نرخ بڑھاتی ہے امپورٹڈ سگریٹ ہر کھوکھے پر مل رہے ہیں تو بس بلیک اکانومی بڑھے گی اور کچھ نہیں ہوگا۔ایکسپورٹس کا کیا ہوگا؟وہ کم ہوں گی کیونکہ پاکستان کے پاس ٹیکسٹائل کے جو بڑے آرڈرز آئے تھے وہ بنگلہ دیش اور بھارت میں کووڈ کے لاک ڈاؤن کی وجہ سے آئے تھے لیکن اب وہ سہولت نہیں ہے۔ کیا امپورٹ پر بین ہمیشہ رہے گا؟نہیں یہ عارضی ہے کیونکہ ڈبلیو ٹی او کے معاہدے کے مطابق ہم یہ پابندی زیادہ دیر نہیں لگا سکیں گے۔ آخر میں یہ سچا واقعہ پڑھ کر اپنے ملک ،شہر اور علاقے کی پولیس کا بھی جائزہ لیں اور حکمرانوں کا انداز حکمرانی بھی دیکھیں ۔عبداﷲ طاہر جب خراسان کے گورنر تھے اور نیشاپور اس کا دارالحکومت تھا تو ایک لوہار شہر ہرات سے نیشاپور گیا اور چند دنوں تک وہاں کاروبار کیا پھر اپنے اہل و عیال سے ملاقات کے لئے وطن لوٹنے کا ارادہ کیا اور رات کے پچھلے پہر سفر کرنا شروع کردیا ان ہی دنوں عبد اﷲ طاہر نے سپاہیوں کو حکم دے رکھا تھا کہ وہ شہر کے راستوں کو محفوظ بنائیں تاکہ کسی مسافر کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو اتفاق ایسا ہوا کہ سپاہیوں نے اسی رات چند چوروں کو گرفتار کیا اور امیر خراسان (عبد اﷲ طاہر) کو اسکی خبر بھی پہنچا دی لیکن اچانک ان میں سے ایک چور بھاگ گیا اب یہ گھبرائے اگر امیر کو معلوم ہوگیا کہ ایک چور بھاگ گیا ہے تو وہ ہمیں سزا دے گا اتنے میں انہیں سفر کرتا ہوا یہ (لوہار) نظر آیا انھوں نے اپنی جان بچانے کی خاطر اس بیگناہ شخص کوفوراً گرفتار کرلیا اور باقی چوروں کے ساتھ اسے بھی امیر کے سامنے پیش کردیا امیرخراسان نے سمجھا کہ یہ سب چوری کرتے ہوئے پکڑے گئے ہیں اس لئے مزید کسی تفتیش و تحقیق کے بغیر سب کو قید کرنے کا حکم دے دیا لوہار سمجھ گیا کہ اب میرا معاملہ صرف اﷲ جل شانہ کی بارگاہ سے ہی حل ہوسکتا ہے اور میرا مقصد اسی کے کرم سے حاصل ہوسکتا ہے لہٰذا اس نے وضو کیا اور قید خانہ کے ایک گوشہ میں نماز پڑھنا شروع کردی ہر دو رکعت کی بعد سر سجدہ میں رکھ کر اﷲ تعالٰی کی بارگاہ میں رقت انگیز دعائیں اور دل سوز مناجات شروع کردیتا اور کہتا ’’اے میرے مالک! تو اچھی طرح جانتا ہے میں بے قصور ہوں‘‘ جب رات ہوئی تو عبد اﷲ طاہر نے خواب دیکھا کہ چار بہادر اور طاقتور لوگ آئے اور سختی سے اس کے تخت کے چاروں پایوں کو پکڑکر اٹھایا اور الٹنے لگے اتنے میں اس کی نیند ٹوٹ گئی اس نے فوراً لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ پڑھا پھر وضو کیا اور اس احکم الحاکمین کی بارگاہ میں دو رکعت نماز ادا کی جس کی طرف ہر شاہ و گدا اپنی اپنی پریشانیوں کے وقت رجوع کرتے ہیں اس کے بعد دوبارہ سویا تو پھر وہی خواب دیکھا اس طرح چار مرتبہ ہوا ہر بار وہ یہی دیکھتا تھا کہ چاروں نوجوان اس کے تخت کے پایوں کو پکڑ کر اٹھاتے ہیں اور الٹنا چاہتے ہیں امیر خراسان عبد اﷲ طاہر اس واقعہ سے گھبرا گئے اور انہیں یقین ہوگیا کہ ضرور اس میں کسی مظلوم کی آہ کا اثر ہے جیسا کہ کسی صاحب علم و دانش نے کہا ہے امیر خراسان نے رات ہی میں جیلر کو بلوایا اور اس سے پوچھا کہ بتاو! تمہارے علم میں کوئی مظلوم شخص جیل میں بند تو نہیں کردیا گیا ہے؟ جیلر نے عرض کیا عالیجاہ! میں یہ تو نہیں جانتا کہ مظلوم کون ہے لیکن اتنی بات ضرور ہے کہ میں ایک شخص کو دیکھ رہا ہوں جو جیل میں نماز پڑھتا ہے اور رقت انگیز و دل سوز دعائیں کرتا ہے امیر نے حکم دیا اسے فوراً حاضر کیا جائے جب وہ شخص امیر کے سامنے حاضر ہوا تو امیر نے اس کے معاملہ کی تحقیق کی معلوم ہوا کہ وہ بے قصور ہے امیر نے اس شخص سے معذرت کی اور کہا آپ میرے ساتھ تین کام کیجئے پہلے آپ مجھے معاف کردیں دوسری بات میری طرف سے ایک ہزار درہم قبول فرمائیں اور تیسری بات یہ کہ جب بھی آپ کو کسی قسم کی پریشانی درپیش ہو تو میرے پاس تشریف لائیں تاکہ میں آپ کی مدد کر سکوں جس پر لوہار نے کہا آپکو معاف کیا اور ایک ہزار درہم بھی کیے لیکن مشکل درپیش ہو تو میں آپ کے پاس آو ں یہ مجھ سے نہیں ہوسکتا وہ خالق و مالک جل جلالہ جو مجھ جیسے فقیر کے لئے آپ جیسے بادشاہ کا تخت ایک رات میں چار مرتبہ اوندھا کر سکتا ہے تو اسکو چھوڑ دینا اور اپنی ضرورت کسی دوسرے کے پاس لے جانا اصولِ بندگی کے خلاف ہے میرا وہ کون سا کام ہے جو نماز پڑھنے سے پورا نہیں ہو جاتا کہ میں اسے غیر کے پاس لے جاوں۔ یعنی جب میرا سارا کام میرا اﷲ پورا کررہا ہے تو مجھے کسی اور کے پاس جانے کی کیا ضرورت ہے۔ اس لیے ہمیں صدق دل سے اپنے ذمہ لگایا گیا کام سر انجام دینے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کی جیبیں کاٹنے اور حق غضب کرنے اور چھینا چھپٹی کی بجائے اﷲ تعالی کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے اور بہتری کی دعائیں کرنے کے ساتھ ساتھ خلوص نیت سے محنت بھی کرنی چاہیے تاکہ ہم دنیا کی چند روز ہ زندگی میں بھی کامیاب ہوسکیں اور آخرت میں بھی ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: rohailakbar

Read More Articles by rohailakbar: 615 Articles with 312939 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 May, 2022 Views: 556

Comments

آپ کی رائے