صحافیوں کی انصاف تک رسائی کا خواب کب پورا ہو گا؟

(Salman Baig, Islamabad)

 اسلام آباد،انور بیگ
جرنلسٹ،جینڈر سائیکالوجسٹ
دو دہائیوں میں شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والے اور مرنے والے صحافیوں کی تعداد اب ۷۰ سے تجاوز کر گئی ہے اور تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق یہ گمنام و بے نام اور کہیں بھی نہ سنے اور شمار کئے جانے والے بے یارو مددگار شہدا آج بھی کسی ابن مریم کے متلاشی ہیں جو کم از کم ان کے اہل خانہ اور ان کے بچوں کے بارے میں،انکی رہائشی مصائب کے بارے میں،سکول جانے سے متعلق مسائل،روٹی،کپرا ٓور مکان جیسی انتہائی اہم ضروریات کے بارے میں چند الفاظ پر مشتمل ایک صفہ کی رپورٹ ہی مرتب کر لیتے تاکہ انکی داد رسی کے لئے ان سے متعلق ادارے اور حکومتی اداروں سے ان کے لئے ان کے بچوں کے لئے کوئی آئینی و قانونی چارہ جوئی کی جا سکتی اور ان کے اہل خانہ کو بھی عام پاکستانیوں کی طرح کم از کم ۳۰ لاکھ روپے کا پیکج اور سر چھپانے کے لئے کوئی شیلٹر میسر آ سکتا۔
پاکستانی میڈیا اندسٹری کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں صرف میڈیا مالکان کے علاوہ کسی اور کو نہ سنا جاتا ہے اور نہ ہی شمار کیا جاتا ہے اس طرح کار کنوں کے حقوق سے متعلق انجمنیں بھی بے یارو مددگار دکھائی دیتی ہیں اور اگر ان میں سے کوئی کار کنوں کے حقوق کی بات کرتا ہے تو اسے یا تو خر ید لیا جاتا ہے یا پھر اسے انڈ سٹری سے ہی باہر کر دیا جاتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ پاکٹ یونینز بھی انتہائی چالاکی اور خوبصورتی کے ساتھ بنائی جاتی ہیں اور ہم دیکھے ہیں کہ صحافیوں کے حقوق کے لئے کوئی بھی ایک مستحکم فورم موجود نہ ہے جو ہزاروں کی تعداد میں جبراٌ نوکری سے نکالے گئے صحافیوں کو واپس لائے،ان کے روزگار کو یقینی بنائے اور ان کے کام کاج کی حالت کو جدید تقا ضو ں سے ہم آہنگ کرنے میں کوئی کردار ادا کر سکے۔

اسکی سب سے بڑی اور شرمناک مثال یہ ہے کہ ۲۰۰ سے ذائد صحافی مارے گئے،اغوا ہوئے،ٹارچر ہوئے،ہزاروں کی تعداد میں نوکریوں سے نکالے گئے تاہم نہ کسی کو سرکار نے پوچھا اور نہ ہی کسی کو دوسرے شہریوں کی طرح معاوضہ ملا، ہاں انتا ضرور ہوا کہ انکی بڑی تعداد کے خلاف غداری،وطن دشمنی اور قومی اداروں کی تضحیک جیسے قابل رشک مقدمات ضرور بنا لئے گئے ہیں اور وہ بھی کسی ایک شہر میں نہیں کم از کم ملک کے ۲۲ شہروں میں یہ مقدمات بنئے گئے ہیں تا کہ سچ لکھنے ،بولنے والوں کو ملک کی عدالتوں میں سستے اور فوری انصاف تک رسائی کی یقین دہانی بخوبی کرائی جا سکے۔

پچھلی دو دہائیوں میں پاکستان کے مختلف اخبارات ، پرنٹ میڈیا اور نیوز ایجنسیوں میں فرائض کی انجام دہی کے دوران جان دینے والے صحافیوں کی تعداد ۷۰ سے تجاوز کر گئی ہے اور اب انکی تعداد ۲۱۲ سے ذائید ہو چکی ہے، لیکن سرکار کے کانوں میں ابھی تک ان مظلوموں اور ان کے خاندانوں کی صدائے احتجاج نہیں سنی جا سکی ۔

اس کے برعکس ملک میں جاری غیر اعلانیہ جنگ کے ہاتھوں مرنے،زخمی ہونے و شہید ہونے والوں کے لئے انصاف کے تمام دروازے کھلے ہیں اور انہیں مرکزی و صوبائی حکو متوں کی جانب سے ایک لاکھ روپے سے لیکر تیس لاکھ روپے اور بعض حالتوں میں ایک کروڑ روپے تک کے معاوضے دیئے جا رہے ہیں۔

ستم ظریفی کی بات ہے کہ پاکستان کے سب سے پر خطر اور جان لیوا شعبے میں فرائض کی انجام دہی کے لئے جو لوگ جانیں دے رہے ہیں ان کا کوئی پرسان حال نہیں ماسوائے سرکاری بیان بازی اور ناقابل عمل وعدوں کے، صحافتی تنطیموں کی یونین کے قائیدین کے مطابق پی ایف یو جے کے سابقہ صدر پر ویز شوکت اور جنرل سیکرٹری یوسف امین ،یوسف پتھان اور شہذادہ زالفقار بھی بے بس ہیں۔

ان کی معلومات کے مطابق تا حال حکومت کی جانب سے مرنے والے دو صحافیوں شہزاد سلیم اور عبدالحق کو بیس اور دس لاکھ روپے معاوضہ کی رقوم دی گئیں جو کہ ابھی تک کنفرم نہ ہیں، جب کہ pid کے ذرائع کے مطابق دس صحافیوں کی بیواوں کو ۶۵۰۰ روپے ماہانہ جولائی ،۲۰۱۱ سے سپٹمبر ۲۰۱۲ تک ادا کیے گئے ۔
اس کے علاوہ ۱۲ صحافیوں کو مالی امداد کے اکاؤنٹ میں اگست ۲۰۱۱ میں بیس ہزار ر روپے فی کس رقوم دی گئیں۔زرائع کے مطابق صحافیوں کی مالی امداد کا بڑا حصہ سپیشل فنڈ اور ایک اشتہاری کمپنی پر خرچ ہو جس کے بارے میں سپریم کورٹ میں معاملہ گیا پھر کیا ہوا شا ئید یہ جاننے میں ایک سو سال مذید لگ جائیں ۔
شہدا کے مختصر کوائف ،
Compensated/yes/no.
Time/Place
Media
Name

No information
%August 28, 2014, in Quetta, Pakistan
,Online International News Network, ARY News

Irshad Mastoi
do
%August 28, 2014, in Quetta, Pakistan
"Online International News Network
Ghulam Rasool
do
&January 1, 2014, in Larkana, Pakistan
Abb Takk Television
Shah dahar
do
.October 11, 2013, in Karak District, Pakistan
Karak Times

yub Khattak
do
&April 16, 2013, in Peshawar, Pakistan
Daily Pakistan
Aslam Durrani
do
+ January 10, 2013, in Quetta, Pakistan
News Network International
Mirza IOqbal Hussain
do
&January 10, 2013, in Quetta, Pakistan
Samaa TV
Saifurehman
do
%June 11, 2011, in Peshawar, Pakistan
Akhbar-e-Khyber
Asfandyar Khan
do
'August 27, 1998, in Peshawar, Pakistan
Freelancer
Carlos Mavroleon

صحافیوں کی علاقائی و بین لاقوامی تنظیموں کے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان کی میڈیا انڈسٹری سے وابسطہ جان دینے والے صحافیوں کی تعداد کا تعلق، فری لانس سے،۲۰ فیصد،سیاسیات سے،۴۴ فیصد،جرائیم سے،۱۳ فیصد،فوٹو گرافی سے،۱۴ فیصد،پرنٹ میڈیا سے،۳۹ فیصد بتایا گیا ہے جبکہ کل جان دینے والے ۹۴ فیصد صحافیوں کا تعلق پاکستان اور ۴، فیصد کا تعلق غیر ممالک سے ہے۔ـ

خیال رہے کہ دوران کار جان کی قربانی دینے والے ان مظلوم صحافیوں کی مالی معاونت اور کے خاندانوں کو سہارا دینے کے لیے نہ صرف حکومت کے پاس وافر رقوم موجود ہیں بلکہ صحافیوں کی علاقائی نتظیموں کے پاس بھی لاکھوں اور کروڑوں کے فنڈز موجود ہیں جو حکومت اور مخیر اداروں کی جانب سے مہیا کیے گئے ہیں تاکہ بوقت ضرورت کام آسکیں اور صحافیوں یا ان کے خاندانوں کو مشکل وقت میں امداد فراہم کی جا سکے۔

تاہم حقائق اس کے بل کل برعکس ہیں اور ملک کے مختلف شہروں کی صحافتی تنظیموں نے اپنے اپنے گروپس بنا رکھے ہیں جو دوسرے گروپس یا رائے رکھنے والوں کی امداد و تعاون سے قاصر دکھائی دیتے ہیں اسطرح صحافیوں کا دونوں جانب سے استحصال ہو رہا ہے جبکہ ویج بورڈ پر عملدرامد کا وعدہ بھی اب ایک خواب دکھائی دیتا ہے اور یہ فلم بھی نہ چلنے والی ہے۔

نیز ان کے مالی معاملات تک بھی دوسرے صحافتی گروہوں اور رائے د ہندگان کو رسائی حاصل نہیں، اور نہ ہی حکوت وقت ان سے اس بارے میں سوال کرنے کی جرعت کر سکتی ہے۔یہ ایک انتہائی افسوسناک امر ہے جس پر صحافیوں پر جان دینے والے وزرا اور ان کے مجاوروں کو ضرور سوچنا چاہیے؟

راولپنڈی اسلام آباد پریس کلب کے سابقہ نائب صدر نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پریس کلبوں کی تنظیموں کی مالی امداد کی بھی جانچ پڑتال ہونی چاہئے اور ان کے صحافیوں سے متعلق امور اور کاروایوں کو بھی fair,free and transparent اصولوں پر پورا اترنا چاہئے نیز ٹرانسپیرنسی کے اصولوں کو اپنانے کے بارے میں صحافتی تنظیموں کے قائیدین کو بھی بڑے فورمز پر بات کرنی چاہئے بصورت دیگر صحافتی برادری کا بڑا حصہ ان سہولتوں سے محروم رہے گا اور چند من پسند اور لاڈلے ہی پلاٹس اور دوسری مراعات حاصل کر سکیں گے جیسا کہ ۲۰۰۴ میں حکومت پنجاب کی جانب سے پلاٹون کی بندر بانٹ میں کیا گیا اور کروڑ پتی،امی،ابو،بھائی بھائی،بیٹی ابو،میاں بیوی اور دوسرے شہروں کی افراد کو بھی یتیم و مسکین ثابت کر کے کروڑوں روپے کے پلاٹس دلوائے گئے اور نواز شریف اینڈ کمپنی نے اس سکیم،RAWALPINDI ISLAMABAD PRESS CLUB HOUSING CHEME کو غیر قانونی طور ایک کواپریٹو میں بدل کر من پسند افراد کے حوالے کر دیا ہے جو ۲۰۰ فیصد غیر قانونی ہے جبکہ اس طرح وجود میں آنے والی سکیموں کی تعداد ۷ سے ذائد ہے اور یہ مالیاتی سکینڈل ۶۰ بلین سے ذائید خرد برد پر مشتمل ہے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salman Baig

Read More Articles by Salman Baig: 19 Articles with 10435 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 May, 2022 Views: 435

Comments

آپ کی رائے