’’حصار غزہ اور عالم اسلام

 رواں ماہ غزہ کی ناکہ بندی کے 15سال مکمل ہوگئے ہیں۔ واضح رہے کہ 2007ء میں غزہ پٹی کی ناکہ بندی کی گئی تھی۔ اس کی مناسبت سے ایک رپورٹ سیو دی چلڈرن نے جاری کی ہے جس کے مطابق 15سالہ محاصرے سے ہرپانچ میں سے چار بچے ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے ہیں۔جبکہ ہیومن رائٹس واچ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل غزہ کے علاقے میں فلسطینی عوام کی معاشی تباہی کا براہ راست ذمہ دار ہے۔ اسرائیلی محاصرے سے بچے افسردہ رہتے ہیں جس سے ان کی ذہنی نشو و نمارک گئی ہے۔ ان میں خوف بھی پایا جاتا ہے کہ رپورٹ تیار کرنے والی ٹیم نے متاثرہ بچوں اور والدین کا انٹر ویو لیا۔ اس دوران یہ بات سامنے آئی کہ 84فیصد بچے خوفزدہ رہتے ہیں جبکہ 70فیصد مایوس ر ہتے ہیں۔ 78 فیصد بچے غمزدہ رہتے ہیں،77 فیصد بچے اداس رہتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق غزہ کے 8لاکھ بچوں نے اب تک پابندیوں ہی میں زندگی گزاری ہے۔ انہیں آزادی نصیب نہیں ہوئی ہے۔ ان بچوں نے اسی ناکہ بندی میں آنکھیں کھو لی ہیں۔ سیو دی چلڈرن کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے ڈائریکٹر جیسن لی نے کہا کہ ہم نے جن بچوں سے اس رپورٹ کے لیے بات کی تو وہ خوف، پریشانی، اداسی اور غم کی مستقل حالت میں رہنے، تشدد کے آئندہ وقت کا انتظار کرتے نظر آئے اور سونے یا توجہ مرکوز کرنے سے محروم محسوس ہو رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ ان بچوں کی تکلیف کے جسمانی ثبوت جیسا کے بستر بھیگنا، بولنے کی صلاحیت یا بنیادی کاموں کو مکمل نہ کرنا حیران کن ہے جس پر بین الاقوامی برادری کو ایک تشویشناک صورتحال کے طور پر کام کرنا چاہیے۔ غزہ کی 2 کروڑ 10 لاکھ آبادی کا تقریباً نصف بچے ہیں۔سیو دی چلڈرن نے کہا کہ اس علاقے میں تقریباً 8 لاکھ نوجوان ایسے ہیں جنہوں نے ’ناکہ بندی کے بغیر زندگی کو کبھی نہیں دیکھا‘۔غزہ کے اسرائیلی محاصرے کا مطلب ہے کہ غزہ کے افراد کو زندگی کی بنیادی ضرورتوں اور سہولتوں سے محروم کر دیا گیا ہے اور غزہ کے رہنے والے اپنی بہتر زندگی کیلئے ممکنہ مواقع سے دور ہو گئے ہیں۔ ایچ آر ڈبلیو نے اپنی رپورٹ میں مزیدکہا کہ اسرائیل کے مسلسل محاصرے کی وجہ سے غزہ کی معیشت تباہ ہو گئی ہے۔ محاصرے نے فلسطینی عوام کو تقسیم کرنے اور ایک دوسرے سے دور کر دینے میں بھی کردار ادا کیا ہے۔ یہ انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتا ہے اور یہ لاکھوں فلسطینیوں پر ظلم ہے۔ ` اسرائیل کے اس غیر انسانی محاصرے کی وجہ سے ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ `غزہ کے باشندے مغربی کنارے تک نہیں جا سکتے ہیں۔ مزدروں، طلبہ، پروفیشنلز اور فنکاروں کے ساتھ ساتھ زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد کیلئے مقامی طور پر مواقع ختم ہو کر رہ گئے ہیں۔ نتیجتاً انہیں اسرائیل کے راستے بیرون ملک جانے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ انہیں علاج معالجہ اوردرس و تدریس کیلئے بھی پڑوسی ممالک جانے میں دشواری ہوتی ہے۔غزہ کی پٹی کو زمین ، ہوا اور سمندر کے ذریعہ ایک سخت محاصرے میں رکھا گیا ہے۔ مجموعی سطح کا رقبہ 362 مربع کلومیٹر ، ایک ناقص ٹرانسپورٹ سسٹم کا مالک ہے جس میں صرف 76 کلومیٹر مرکزی سڑکیں ، 122 کلومیٹر علاقائی سڑکیں اور 99 کلومیٹر مقامی سڑکیں ہیں۔ اس پٹی کے پاس رفح میں واقع ایک چھوٹا ہوائی اڈہ تھا ، جسے 2001 ء میں اسرائیلیوں نے تباہ کردیا تھا۔ یہ بندرگاہ فلسطینی نیشنل اتھارٹی (پی این اے) نے بنائی تھی۔غزہ کی بندرگاہ غزہ شہر کے رمل ضلع کے قریب ایک چھوٹی بندرگاہ ہے۔ یہ فلسطینی ماہی گیری کشتیوں کا آبائی بندرگاہ اور فلسطینی نیشنل سیکیورٹی فورسز کی ایک شاخ فلسطینی نیول پولیس کا اڈہ ہے۔ اوسلو II معاہدے کے تحت ، فلسطینی بحریہ کی پولیس کی سرگرمیاں ساحل سے 6 سمندری میل تک محدود ہیں۔ 2007 ء کے بعد سے ، غزہ کی بندرگاہ پر غزہ کی پٹی کی ناکہ بندی کے حصے کے طور پر اسرائیلی مسلط کردہ بحری ناکہ بندی کے تحت رہا ہے ، اور بندرگاہ پر سرگرمیاں چھوٹے پیمانے پر ماہی گیری تک ہی محدود ہیں۔

2007 ء میں ، اسرائیل نے بحری ناکہ بندی سمیت غزہ کی پٹی پر ناکہ بندی کردی تھی۔ اسرائیلی ناکہ بندی توڑنے کی متعدد کوششیں کی گئیں۔ اسرائیل نے زیادہ تر جہازوں کو غزہ کے بندرگاہ پر ڈاکنگ سے روک دیا تھا ، لیکن انہوں نے دو کشتیوں ، کارکنوں اور کچھ سامان لے جانے والی بندرگاہ کو 2008 میں بندرگاہ تک پہنچنے کی اجازت دی تھی۔ 2010 تک ، اس بندرگاہ کو چھوٹی فلسطینی ماہی گیری کشتیوں تک ہی محدود کردیا گیا تھا۔ اسرائیلی ناکہ بندی کے نتیجے میں غزہ کو ماہانہ 70 ملین ڈالر کا نقصان پہنچ رہا ہے۔ صنعتی اور تجارتی شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔محاصرہ بے روزگاری، غربت، اقتصادی ابتری اور دیگر مسائل کا موجب بن رہا ہے۔ اس کے علاوہ فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی بھی اقتصادی بحران کو گھمبیر کررہی ہے۔ کارخانے، ورکشاپیں، تجارتی مراکز کاروباری حضرات کو ایک بڑے خسارے کا سامنا ہے۔ 14 سال سے غزہ کی 3500 ورکشاپس، کارخانے اور تجارتی مراکزبند ہیں۔ جبکہ غربت کی شرح 85 فی صد تک پہنچ چکی اور بے روزگاری کا تناسب 60 فی صد ہے۔ غزہ پر اسرائیلی ریاست کی مسلط کردہ پابندیوں کے باعث فی کس آمدن اوسطا دو ڈالر سے کم ہوگئی ہے۔ حماس نے بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ سے ناکہ بندی ختم کروانے کی اپیل کی ہے۔ حماس کے ترجمان نے غاصب صیہونی ریاست کی طرف سے فلسطینی عوام کے خلاف استعمال کی جانے والی نسل پرستی کی پالیسی کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔برہوم نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے تمام بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ ان تمام بیانات اور رپورٹس کو سنجیدگی سے لیں اور ہمارے عوام کے مصائب کے خاتمے کے لیے کوششوں کو تیز کرنے کے لیے کام کریں اور صیہونی ریاست پر غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ محاصرہ ختم کرنے کیلئے دباؤ ڈالیں۔
 

Haji Latif Khokhar
About the Author: Haji Latif Khokhar Read More Articles by Haji Latif Khokhar: 132 Articles with 64339 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.