موت اور اس کے احوال

كُلُّ نَفۡسٍ ذَآئِقَةُ الۡمَوۡتِ ۖ ثُمَّ اِلَيۡنَا تُرۡجَعُوۡنَ‏ ۞
ترجمہ: ہر جان دار موت کو چکھنے والا ہے ‘ پھر تم ہماری ہی طرف لوٹائے جائو گے۔ [ سورۃ العنكبوت ؛ آیت نمبر: 57[
حضرت براء بن عازِب ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کی ساتھ ایک انصاری شخص کے جنازے میں شریک ہوئے۔ ہم قبر تک پہنچ گئے ، ابھی قبر تیار نہیں ہوئی تھی۔ رسول اللہﷺ بیٹھ گئے تو ہم بھی آپ کے پاس بیٹھ گئے اور صحابہ, بارگاہِ مصطفیٰ میں ایسی ادب و تعظیم کے ساتھ بیٹھتے تھے کہ گویا اُن کے سروں پر پرندے ہوں۔ آپﷺ کے ہاتھ مبارک میں ایک لکڑی تھی۔ جس سے آپﷺ زمین کرید رہے تھے۔ آپﷺ نے سر اوپر اٹھایا تو فرمایا :’’قبر کے عذاب سے اللہﷻ کی پناہ مانگو۔‘‘ آپ نے دو یا تین بار ایسے ہی فرمایا کہ’’قبر کے عذاب سے اللہﷻ کی پناہ مانگو۔‘‘ ، پھر فرمایا :’’ ایمان والا بندہ جب دنیا سے رابطہ توڑ کر آخرت کی طرف متوجہ ہوتا ہے ؛ تو سورج کی طرح چمکتے دمکتے سفید چہروں والے فرشتے جنتی خوشبو اور جنتی کفن لے کر اس کے پاس آتے ہیں ، حتیٰ کہ جہاں تک اُس بندے کی نظر کی حد ہو وہاں تک فرشتے اس کے پاس بیٹھ جاتے ہیں ، پھر ملک الموت ؑ تشریف لاتے ہیں۔ حتیٰ کہ وہ اس کے سر کے پاس بیٹھ کر کہتے ہیں ، اے پاکیزہ روح ! اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور اس کی رضا مندی کی طرف چل ۔‘‘ فرمایا :’’ وہ ایسے نکلتی ہے جیسے مشکیزے سے پانی کا قطرہ نکلتا ہے (یعنی جس طرح بھرے مشکیزے سے پانی کے قطرے کے نکلنے کا پتہ نہیں چلتا اسی طرح اُس کی روح بھی اس کے جسم سے جدا ہوتی ہے۔) ، ملک الموت اس روح کر لے لیتا ہے ، جب وہ اسے لے لیتا ہے تو وہ (فرشتے) اسے آنکھ جھپکنے کے برابر بھی اس کے پاس نہیں چھوڑتے (یعنی پوری کی پوری روح بھی نکل جاتی ہے ؛ اور پتہ بھی …………) حتیٰ کہ وہ اسے لے کر اُس جنتی کفن اور جنتی خوشبو میں لپیٹ لیتے ہیں ، اور پھر روئے زمین پر پائی جانے والی بہترین کستوری کی خوشبو اُس سے نکلتی ہے۔ وہ فرشتے اسے لے کر اوپر کی طرف بلند ہوتے ہیں، اور وہ ؛ فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرتے ہیں؛ تو وہ پوچھتے ہیں یہ خوشبو کیسی ہے؟ تو وہ اس کے دنیا کے ناموں میں بہترین نام لے کے بتاتے ہیں کہ یہ فلاں بن فلاں کی روح ہے۔ حتیٰ کہ وہ اسے لے کر آسمانِ دنیا یعنی پہلے آسمان تک پہنچ جاتے ہیں ، اور اس کے لیے دروازہ کھولنے کی اجازت طلب کرتے ہیں ، تو ان کے لیے کھول دیا جاتا ہے ، پھر ہر آسمان کے مقرب فرشتے اگلے آسمان تک اس کے ساتھ جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ اسے ساتویں آسمان تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ تو اللہ عَزَّوَجَل فرماتا ہے : میرے بندے کا نامۂ اعمال عِلّیّین میں لکھ دو (عِلّیّین جنتیوں کا waiting room ہے۔ جہاں وہ قیامت کے دن کا انتظار کریں گے) اور اسے واپس دنیا کی طرف لے جاؤ کیونکہ میں نے انہیں اسی (مٹی)سے پیدا کیا ہے ، اسی میں انہیں لوٹاؤں گا اور دوبارہ پھر اسی سے انہیں نکالوں گا ۔‘‘ حضورﷺ نے فرمایا :’’ اس کی روح اسی کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے۔ تو دو فرشتے اس کے پاس آتے ہیں اور اسے بٹھا کر پوچھتے ہیں : تیرا رب کون ہے ؟ تو وہ کہتا ہے : میرا رب اللہ ہے ، پھر وہ اس سے پوچھتے ہیں : تیرا دین کیا ہے ؟ وہ کہتا ہے : میرا دین اسلام ہے ، پھر وہ پوچھتے ہیں : یہ ہستی جو تم میں بھیجے گئے تھے ، کون ہے؟ تو وہ کہتا ہے : اللہ کے رسولﷺ ہیں ، وہ پوچھتے ہیں : تمہیں کیسے پتہ چلا ؟ وہ کہتا ہے میں نے اللہ کی کتاب (سمجھ کر) پڑھی۔ تو میں اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی ، پس آسمان سے آواز آتی ہے : میرے بندے نے سچ کہا : اس کے لیے جنت کا بچھونا بچھا دو ، اسے جنتی لباس پہنا دو اور اس کے لیے جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دو۔ وہاں سے ہوا کے جھونکے اور خوشبو اس کے پاس آتی ہے ، اور تا حد نگاہ اس کی قبر کو کشادہ کر دیا جاتا ہے۔ خوبصورت چہرے ، خوبصورت لباس اور بہترین خوشبو والا ایک شخص اس کے پاس آتا ہے تو وہ کہتا ہے : اس چیز سے خوش ہو جا جو چیز تجھے خوش کر دے ، یہ وہ دن ہے جس کا تجھ سے وعدہ کیا جاتا تھا ، تو وہ قبر والا اُس سے پوچھتا ہے : تو کون ہے؟ تیرا چہرہ خیر و بھلائی لانے والا چہرہ ہے۔ وہ جواب دیتا ہے : میں تیرا نیک عمل ہوں ، وہ کہتا ہے : اے میرے رب ! قیامت قائم فرما ، میرے رب! قیامت قائم فرما۔ حتیٰ کہ میں اپنے اہل و عیال کی طرف چلا جاؤں ۔‘‘ (یہ تو مومن کا حال ہے) حضورِ اقدسﷺ نے فرمایا :’’جب کافر دنیا سے رابطہ منقطع کر کے آخرت کی طرف لوٹتا ہے ؛ تو سیاہ چہروں والے فرشتے بالوں سے بنا ہوا ایک کمبل لے کر آسمان سے نازل ہوتے ہیں ، حتیٰ کہ جہاں تک اُس کافر کی نظر کی حد ہو وہاں تک فرشتے اس کے پاس بیٹھ جاتے ہیں ، پھر ملک الموت ؑ تشریف لاتے ہیں حتیٰ کہ اُس کے سَر کے پاس بیٹھ جاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں: اے خبیث روح ! اللہ کی ناراضی کی طرف چل۔ وہ (روح) اس کے جسم میں پھیل جاتی ہے ، تو وہ اسے ایسے کھنچتا ہے جیسے لوہے کی سلاخ کو گیلے اون سے کھینچا جاتا ہے ، وہ (ملک الموت) اسے لے لیتا ہے ، جب وہ اسے لے لیتا ہے تو وہ (فرشتے) پلک جھپکنے کے برابر بھی اسے اس کے ہاتھ میں نہیں رہنے دیتے حتیٰ کہ وہ اسے اُس بالوں سے بنے ہوئے کمبل میں لپیٹ لیتے ہیں ، اور اس سے مردار سے نکلنے والی انتہائی بُری بدبو نکلتی ہے ، وہ اسے لے کر اوپر چڑھتے ہیں تو وہ فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرتے ہیں تو وہ پوچھتے ہیں ، کیسی خبیث روح ہے؟ وہ کہتے ہیں : فلاں بن فلاں کی ، اور وہ اس کا دنیا کا انتہائی برا ترین نام لے کر بتاتے ہیں۔ حتیّٰ کہ اسے پہلے آسمان تک لے جایا جاتا ہے ، اس کے لیے دروازے کھولنے کے لیے درخواست کی جاتی ہے تو اس کے لیے دروازہ نہیں کھولا جاتا ۔‘‘ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : لَا تُفَتَّحُ لَهُمۡ اَبۡوَابُ السَّمَآءِ وَلَا يَدۡخُلُوۡنَ الۡجَـنَّةَ حَتّٰى يَلِجَ الۡجَمَلُ فِىۡ سَمِّ الۡخِيَاطِ‌ ؕ۔
ترجمہ: ان کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے ، اور وہ جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہوں گے جب تک کوئی اونٹ ایک سوئی کے ناکے میں داخل نہیں ہوجاتا۔ (یعنی جس طرح کسی اونٹ کا سوئی کے ناکے میں داخل ہونا ناممکن ہے۔ اسی طرح اُن کا جنت میں داخل ہونا بھی ناممکن ہے) اللہ عزوجل فرماتا ہے :’’ اس کی تقدیر کو سب سے نچلی زمین میں سجین میں لکھ دو ، (جس طرح علیین جنتیوں کا waiting room ہے۔ اسی طرح سِجِّیْن جہنمیوں کا waiting room ہے۔ جہاں وہ قیامت کے دن کا انتظار کریں گے) پھر اس کی روح کو شدت کے ساتھ پھینک دیا جاتا ہے ۔‘‘ پھر آپﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :مَنۡ یُّشۡرِکۡ بِاللّٰہِ فَکَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخۡطَفُہُ الطَّیۡرُ اَوۡ تَہۡوِیۡ بِہِ الرِّیۡحُ فِیۡ مَکَانٍ سَحِیۡقٍ ﴿۳۱﴾
ترجمہ: ’’ جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے تو گویا وہ آسمان سے گر پڑا ، تو اب پرندے اسے اچک لیں یا ہوا اسے کسی دور جگہ پر پھینک دے ۔‘‘ اس کی روح اس کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے اور دو فرشتے اس کے پاس آتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں : تیرا رب کون ہے ؟ وہ حیرت زدہ ہو کر کہتا ہے : ہائے ! ہائے ! میں نہیں جانتا ، پھر وہ اس سے پوچھتے ہیں : تیرا دین کیا ہے ؟ تو وہ حیرت زدہ ہو کر کہتا ہے : ہائے ! افسوس ! میں نہیں جانتا ، پھر وہ پوچھتے ہیں : یہ ہستی جو تم میں مبعوث فرمائے گئے تھے ؛ کون ہیں ؟ تو وہ کہتا ہے : ہائے ! افسوس ! میں نہیں جانتا۔ آسمان سے آواز آتی ہے ، اس نے جھٹلایا ، اس کے لیے جہنم سے بچھونا بچھا دو ، اور اس کے لیے جہنم کی طرف ایک دروازہ کھول دو ، وہاں سے گرمی اور گرم ہوا اسے آتی رہے گی اور اس کی قبر کو اس قدر تنگ کر دیا جائے گا کہ اس کی پسلیاں ایک دوسری کے اندر داخل ہو جائیں گی ، اور ایک بد صورت چہرے والا شخص ، بد صورت لباس اور انتہائی بدبودار حالت میں اس کے پاس آئے گا اور اسے کہے گا : تمہیں ایسی چیزوں کی بشارت ہو ؛ جو تجھے غم زدہ کر دیں گی ، یہ تیرا وہ دن ہے جس کا تجھ سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ وہ پوچھے گا تو کون ہے ؟ تیرے چہرے سے کسی خیر اور بھلائی کی توقع نہیں ، وہ جواب دے گا : میں تیرا خبیث عمل ہوں ، تو وہ کہے گا : میرے رب ! قیامت قائم نہ کرنا ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں بھی اسی طرح ہے لیکن اس میں یہ اضافہ ہے :’’ جب اس
(مومن) کی روح نکلتی ہے تو زمین و آسمان کے مابین اور آسمان کے تمام فرشتے اس کے لیے رحمت کی دعا طلب کرتے ہیں ، اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، ہر دروازے والے اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ اس کی روح ان کی طرف سے اور زیادہ بلند کی جائے ، اور اس کافر کی روح رگوں سمیت کھینچی جاتی ہے اور زمین و آسمان کے درمیان والے تمام فرشتے اور آسمان والے تمام فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں ، آسمان کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور تمام دربان فرشتے اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ اس کی روح کو ہماری طرف سے بلند نہ کیا جائے ۔‘‘
اس پوری حدیث کو امام احمد بن حنبل نے مسنداحمد میں اور امام ابوداؤد نے سنن ابوداؤد میں اور امام ہیثمی نے مجمع الزوائد میں اور امام ابنِ ماجہ نے سنن ابنِ ماجہ میں اور امام ولی الدین تبریزی نے مشکوٰة شریف میں نقل فرمایا ہے۔
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : جو اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملاقات پسند فرماتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ سے ملنا نا پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا ناپسند فرماتا ہے۔‘‘ یہ حدیث بخاری مسلم دونوں میں ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہر لمحہ اپنی موت کو یاد رکھیں۔ قبر کی پہلی رات کو سامنے رکھیں۔ قبر کے اندھیروں کو سامنے رکھیں۔ اللہ کے خوف کو سامنے رکھیں۔ بس یہ آیت ذہن میں بٹھا لیں کہ: وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ۞کہ تم جب بھی ؛ جو بھی ؛ جس طرح بھی کر رہے ہو ؛ اللہ تعالی اس سے غافل نہیں ہے ……… اسی مضمون کی آیت قرآن پاک میں 9بار آئی ہے کہ اللہ تعالی انسان کے اعمال سے غافل نہیں ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا:۔ مَا يَكُوۡنُ مِنۡ نَّجۡوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمۡ وَلَا خَمۡسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمۡ وَلَاۤ اَدۡنٰى مِنۡ ذٰ لِكَ وَلَاۤ اَكۡثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمۡ اَيۡنَ مَا كَانُوۡا‌ۚ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمۡ بِمَا عَمِلُوۡا يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَىۡءٍ عَلِيۡمٌ ۞ ]المجادلہ:7]
یعنی (اے مخاطب ! ) اللّٰہ تعالیٰ سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں حتّٰی کہ جہاں کہیں تین شخص سرگوشی سے بات کریں اور اپنے راز آپس میں ایک دوسرے کو آہستہ آواز سے بتائیں اور اپنی مشاورت پر کسی کو مطلع نہ کریں توان میں چوتھا اللّٰہ تعالیٰ ہی ہے جو ان کا مشاہدہ کرتا ہے، ان کی سرگوشی اور ان کے رازو ں کو جانتاہے اور اگر پانچ لوگ سرگوشی سے بات کریں تو وہ اللّٰہ تعالیٰ ہی ان کا چھٹا ہوتا ہے اور (یہ چیز اسی تعداد پر موقوف نہیں بلکہ ) تین سے کم اور پانچ سے زیادہ جتنے بھی لوگ ہوں ، اللّٰہ تعالیٰ اپنے علم و قدرت سے ان سب کے ساتھ ہوتا ہے خواہ وہ جہاں بھی ہوں ، اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے ۔ پھر وہ قیامت کے دن اُنہیں بتائے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا تھا۔ بیشک ہر ہر چیز کو جاننے والا صرف اللہ ہے۔
دو باتیں آپ احباب اپنے دل میں اچھے طریقے سے بٹھا لیں تو گناہ انشاءاللہ نہیں ہوگا۔
1: میں جو بھی کر رہا ہوں ؛ خواہ اچھا ہو یا بُرا ؛ اللہ تعالیٰ اُس کام سے ہرگز غافل نہیں ہے۔
2: اللہ ہر لمحہ میرے ساتھ ہے۔
جو چاہتا ہے کہ وہ متقی اور پرہیزگار بن جائے اور اس کی موت ایمان پر ہو۔ اور وہ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں مجرم بن کر نہ جا رہا ہو بلکہ اس کا فرمانبردار بندہ بن کر جا رہا ہو۔ اسے چاہیے کہ تقوی اختیار کرے۔ اور اللہ تعالی نے تقوی بھی بہت لمبا چوڑا نہیں فرمایا بلکہ سورۃ تغابن آیت نمبر 16 میں فرمایا: فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسۡتَطَعۡتُمۡ وَاسۡمَعُوۡا وَاَطِيۡعُوۡا وَاَنۡفِقُوۡا خَيۡرًا لِّاَنۡفُسِكُمۡ‌ؕ ۔ یعنی تم جتنا ہو سکے اللہ سے ڈرتے رہو؛ یعنی تقویٰ اختیار کرو اور (احکام) سن کر اطاعت کرو اور (اللہ کی راہ میں) خرچ کرو، یہی تمہارے لئے بہتر ہے۔
اور تقوی کی تفصیل اللہ تعالی نے سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 177 میں یوں بیان فرمائی ہے کہ:
لَيۡسَ الۡبِرَّ اَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡهَكُمۡ قِبَلَ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ وَلٰـكِنَّ الۡبِرَّ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَالۡمَلٰٓئِکَةِ وَالۡكِتٰبِ وَالنَّبِيّٖنَ‌ۚ وَاٰتَى الۡمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنَ وَابۡنَ السَّبِيۡلِۙ وَالسَّآئِلِيۡنَ وَفِى الرِّقَابِ‌ۚ وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّکٰوةَ ۚ وَالۡمُوۡفُوۡنَ بِعَهۡدِهِمۡ اِذَا عٰهَدُوۡا ۚ وَالصّٰبِرِيۡنَ فِى الۡبَاۡسَآءِ وَالضَّرَّآءِ وَحِيۡنَ الۡبَاۡسِؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ صَدَقُوۡا ؕ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ ۞
1: اللہ پر ؛ اور یوم آخرت پر ‘ اور فرشتوں پر اور کتابوں پر اور نبیوں پر ایمان لانا
2: مال سے اپنی محبت کے باوجود (اللہ کے حکم سے) قریبی رشتہ داروں ‘ یتیموں ‘ مسکینوں ‘ مسافروں ‘ سوالیوں اور غلام آزاد کرانے کے لیے خرچ کرنا
3 :نماز قائم کرنا اور زکوۃ ادا کرنا
4: جب بھی وعدہ کرو تو اپنے وعدوں کو پورا کرنا
جہاد وغیرہ سمیت ہر قسم کی تکلیف اور سختی اور مشقت میں صبر کرنا
جس میں یہ تمام نشانیاں ہوگی ان کے لئے اللہ تعالی نے فرمایا کہ اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ صَدَقُوۡا ؕ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ ۞ سچے اور پرہیزگار لوگ ہیں ہی یہ۔
اب اتنا تقوی تو ہم اختیار کر ہی سکتے ہیں۔ کیا خیال ہے؟

MUHAMMAD AQIB JAVED
About the Author: MUHAMMAD AQIB JAVED Read More Articles by MUHAMMAD AQIB JAVED: 2 Articles with 1039 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.