جمعہ نامہ : جو تم سے کٹے، تم اس سے جڑو

قرآن حکیم ان لوگوں کو دانشمندوں میں شمار کرتا ہے:’’ جو اللہ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرتے ہیں ،اور معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرتے ، اور جن رشتوں کو اللہ نے جوڑے رکھنے کا حکم دیا ہے ، انہیں جوڑے رکھتے ہیں اور اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ، اور حساب کے برے انجام سے خوف کھاتے ہیں‘‘۔اسلامی نظام حیات میں رشتے داری کے حقوق کی ادائیگی کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ سے کیے جانے والے عہد کی پاسداری ، اللہ کا خوف اور آخرت کے استحضار کو لازم قرار دیا گیا ہے ۔ ان حقوق کو کماحقہُ ادا کرنے کے لیے لازمی صفات عالیہ مندرجہ ذیل ہیں، فرمایا:’’ اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی خوشنودی کی خاطر صبر سے کام لیا ،اور نماز قائم کی ، اور ہم نے انہیں جو رزق عطا کیا اس میں سے پوشیدہ اور اعلانیہ خرچ کیا، اور برائی کا بدلہ بھلائی سے دیتے ہیں‘‘۔ صبرو انفاق اور برائی بدلے بھلائی کا معاملہ نہ ہو توانسان اس ذمہ داری سے عہدہ برا ٓ نہیں ہوسکتا ۔

صلہ رحمی کا حق ادا کردینے والوں کو بشارت دی گئی ہے کہ :’’ انہی لوگوں کے لیے انجام کا گھر ہوگا، ہمیشہ رہنے کے باغات، جن میں یہ خود بھی داخل ہوں گے اور ان کے آباء، بیویوں اور اولاد میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی، اور فرشتے ان پر ہر دروازے سے داخل ہوں گے، یہ کہتے ہوئے کہ "سلام ہو تم پر" بسبب تمہارے صبر کرنے کے، سو کیا ہی خوب ہے انجام کا گھر‘‘۔ اس موقع پر پھر ایک بار صبر کا ذکر اس کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:تین صفات ایسی ہیں کہ وہ جس شخص میں بھی ہوں اللہ تعالی اس سے آسان حساب لے گا اوراسے اپنی رحمت سے جنت میں داخل فرمائے گا ۔ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کن کو؟ آپﷺنے فرمایا: جو تجھے محروم کرے تو اسے عطا کر،جو تُجھ پر ظلم کرے تو اسے معاف کر،اور جو تجھ سے (رشتہ داری اور تعلق) توڑے تو اس سے جوڑ۔
آفتاب کے ہاتھوں شردھا کا قتل کیا ہوا کہ ذرائع ابلاغ میں اس طرح کی خبروں کا سیلاب آگیا۔ اعظم گڑھ سے خبر آئی کہ ایک شخص خلیج سے چھٹی پر آیا اور اس نے اپنی معشوق کے پانچ ٹکڑے کردئیے۔ وہ دونوں چونکہ ہم مذہب ( ہندو )تھے اس لیے بات آئی گئی ہوگئی لیکن خونی رشتوں میں بھی سفاکی کا مظاہرہ ہونے لگا۔ دہلی میں ایک شخص نے اپنی بیوی کے ساتھ مل کر بیٹی کو ہلاک کردیا ۔ حیدرآباد میں ایک باپ نے پیسہ دے کر اپنے بیٹے کا قتل کروا دیا اور دہلی کے پالم میں ایک جنونی نے ماں ،باپ، بہن اور دادی کا قتل کردیا ۔ یہ سب ایک ہفتہ میں وقو ع پذیرہونے والے واقعات ہیں جہاں رشتوں کی ناچاقی قتل و غارتگری میں بدل گئی ہے ۔ اس انحطاط کی بنیادی وجہ مقصدِ زندگی سے ناآشنائی، خدا بیزاری ، آخرت فراموشی اور صبرو ضبط کا مفقود ہونا ہے۔ نبی اکرم ﷺنے اِرشاد فرمایا:" میدانِ محشر میں رحم (جو رشتہ داری کی بنیاد ہے) عرشِ خداوندی پکڑکر یہ کہے گا کہ جس نے مجھے (دُنیا میں) جوڑے رکھا آج اللہ تعالیٰ بھی اُسے جوڑے گا (یعنی اُس کے ساتھ انعام وکرم کا معاملہ ہوگا) اور جس نے مجھے (دُنیا میں) کاٹا آج اللہ تعالیٰ بھی اُسے کاٹ کر رکھ دے گا (یعنی اُس کو عذاب ہوگا)"۔ رسول کریم ﷺ نےیہ وعید بھی سنائی کہ : قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہ ہوگا“۔

احادیث نبوی ﷺسے یہ ثابت ہے کہ ظلم اور قطع رحمی کی سزا آخرت کے قبل دُنیا میں بھی ملے گی ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کوئی گناہ اس بات کے زیادہ لائق نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا ارتکاب کرنے والے کو دنیا میں بھی اس کی سزا دے اور (مرتکب کو) آخرت میں بھی دینے کے لیے (اس سزا) کو اٹھا رکھے، ہاں دوگناہ اس بات کے لائق ہیں: ایک تو زنا کرنا اور دوسرا ناتا توڑنا“۔ صلہ رحمی کرنے والوں کو نبی اکرم ﷺ نے یہ خوشخبری سنائی ہے کہ: ”اس قدر اپنا نسب جانو جس سے تم اپنے رشتے جوڑ سکو، اس لیے کہ رشتہ جوڑنے سے رشتہ داروں کی محبت بڑھتی ہے، مال و دولت میں اضافہ ہوتا ہے، اور آدمی کی عمر بڑھا دی جاتی ہے“ ۔ اس کے ساتھ یہ تاکید بھی فرمائی کہ :’’ یہ صلہ رحمی نہيں كہ جو صلہ رحمى كرے اس سے بدلے ميں صلہ رحمى كى جائے، ليكن صلہ رحمى كرنے والا تو وہ ہے جس سے اس كے رشتہ داروں نے قطع تعلقى كى ہو اور وہ ان سے صلہ رحمى سے پيش آتا ہو "۔ قرآن و حدیث کی ان تعلیمات کو فراموش کرکے عالم انسانیت نے اس دنیا کو اپنے لیےجہنم زار بنارکھا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو رشتے داروں کے حقوق ادا کرنے اور ان کے ساتھ شفقت و محبت کے ساتھ پیش آنے کی توفیق عطا فرمائے ،
 

Salim
About the Author: Salim Read More Articles by Salim: 1867 Articles with 974040 views Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.