سائنس کا مردہ لوگوں کو دوبارہ زندہ کرنے کا دعویٰ - ایک ایسی تجربہ گاہ جہاں پر مردہ لوگ دوبارہ زندہ ہونے کے منتظر ہیں

image
 
موت اس دنیا کی ایک ایسی حقیقت ہے جس سے بقا کسی بھی جاندار کو میسر نہیں ہے۔ جو اس دنیا میں آیا ہے اس نے ایک نہ ایک اس دنیا سے جانا ہے اور یہی سب سے بڑی حقیقت اور سچ ہے-
 
حضرت انسان کی ہمیشہ سے یہی کوشش رہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح سے موت کو فریب دے کر حیات جاوداں حاصل کر سکے اگرچہ بحیثیت مسلمان ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ حیات جاوداں درحقیقت قیامت کے بعد ملنے والی زندگی ہوگی- مگر ملحد اور ایک اللہ پر یقین نہ رکھنے والے سائنسی ماہرین ہر دور میں اس بات پر تحقیق کرتے نظر آتے ہیں کہ یا تو موت کو آنے سے روک لیں یا پھر موت آنے پر دوبارہ سے زندگی کو حاصل کر پائيں-
 
ویسے تو ایسا اب تک ہونا ناممکن ہی لگتا ہے مگر سائنسی ماہرین کو اپنی تحقیقات کی بنیاد پر یہ یقین ہے کہ آئندہ آنے والے 50 سے 70 سالوں میں سائنس اس قابل ہو سکے گی کہ مردہ لوگوں کو دوبارہ سے زندہ کیا جا سکے-
 
انیتا رسکن مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کی خواہش رکھنے والی
انیتا کا تعلق امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا سے تھا اس کو جسم کے مختلف حصوں میں کینسر کی بیماری تھی جس کی وجہ سے اس کو ڈاکٹروں نے بتا دیا تھا کہ وہ اب زيادہ عرصہ تک زندہ نہیں رہ پائيں گی- مگر انیتا کی زندہ رہنے کی خواہش اس موذی بیماری کے باوجود کم نہ ہوئی اس وجہ سے انیتا نے مرنے کے بعد دوبارہ سے زندہ ہونے کا ارادہ کیا-
 
image
 
اپنے اس ارادے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے امریکہ ہی میں موجود الکور نامی ایک ادارے میں انیتا نے اپنے آپ کو رجسٹر کروا لیا- یہ ایک حیرت انگیز عمل تھا اس وجہ سے انیتا میڈیا پر خبروں کی سرخی بن گئيں اور انہوں نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کے اس خالص سائنسی عمل کے لیے مرنے سے قبل کئی انٹرویوز بھی دیے- اس کے علاوہ مرنے کے بعد اپنے جسم کو محفوظ کرنے کے عمل کریونک کو بھی شوٹ کرنے کی اجازت دے دی-
 
جبکہ انیتا کے شوہر جو کہ آخری وقت تک انیتا کی خدمت کرتے رہے انہوں نے بھی اپنے جسم کو مرنے کے بعد کریونک طریقے سے محفوظ کرنے کے لیے رجسٹریشن کروا دی ہے تاکہ جب سائنسدان مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے کے قابل ہو سکیں تو وہ ایک دوسرے کے ساتھ رہ سکیں-
 
مرنے کے بعد زندہ ہونے کی عمل کرنے والی تجربہ گاہ
دنیا کے وہ لوگ جن کو سائنس پر اتنا بھروسہ ہے کہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں سائنس ایک نہ ایک دن موت کو شکست دے کر مردہ لوگوں کو بھی دوبارہ سے زندہ کر پائے گی- ایسے افراد کے لیے اسکاٹ ٹیل ایریزونا میں ایلکور نامی ایک تجربہ گاہ بنائی گئی ہے-
 
اس تجربہ گاہ میں اسٹین لیس اسٹیل کے بڑے بڑے کنٹینر میں تقریباً 300 افراد کی لاشیں موجود ہیں اس کے علاوہ 33 پالتو جانوروں کی لاشیں بھی موجود ہیں جن کو فریز کر کے محفوظ کر دیا گیا ہے-
 
لاشوں کو دوبارہ زندہ ہونے کی امید پر محفوظ کرنا
یہاں سائنس دانوں کے نزدیک موت کا مطلب انسان کے جسم کی وہ حالت ہے جس میں اس کا دل دھڑکنا بند کر دیتا ہے اور جسم کے اندر خون کی سپلائي بند ہو جاتی ہے اس لیے اس کو یہ موت کہنے کے بجائے ایک گہری نیند سے تعبیر کرتے ہیں-
 
یہاں پر ایک خاص طریقے سے جسم کے خون کو نکال کر اس کی جگہ ایک خاص محلول بھر دیا جاتا ہے اور اس کے بعد لاش کو منفی 196 درجہ حرارت میں محفوظ کر لیا جاتا ہے-
 
ان 300 مریضوں میں سے 116 مریضوں نے اس تجربہ گاہ میں صرف اپنے سر محفوظ کروائے ہیں ان کا یہ ماننا ہے کہ جب سائنس دوبارہ زندہ کرنے کے قابل ہو سکے گی تو ان کے دماغ دوبارہ زندہ کر لیے جائيں گے اور پھر اس کے ساتھ ڈیجیٹل جسم لگا دیا جائے گا-
 
image
 
انتہائی مہنگا عمل
یہ عمل ایک بہت مہنگا عمل ہے جس میں پورے جسم کو محفوظ کرنا کروڑوں روپے کی مالیت کا عمل ہے یہ عمل جسم کو 50 سالوں کے لیے محفوظ کر سکتا ہے۔ اس عمل کو مکمل کرنے میں 12 گھنٹے لگتے ہیں ہر کنٹینر کے باہر ان مریضوں کی تصاویر اور ان کا تعارف موجود ہے-
 
یہ عمل مریض کے مرنے کے فوراً بعد ایک گھنٹے کے اندر اندر شروع کر دیا جاتا ہے ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ مرنے کے بعد جتنا جلدی اس کو محفوظ کرنے کا عمل شروع کیا جائے اتنا ہی اس کے دوبارہ زندہ ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں-
 
یاد رہے یہ سارا عمل وہ سائنسدان کرتے اور وہ لوگ کرواتے ہیں جن کا اللہ تعالیٰ کے وجود پر یفین نہیں ہوتا ہے کیوں کہ اسلام کے مطابق ہر انسان کو قیامت کے دن دوبارہ سے زںدہ کیا جائے گا اور اس کے لیے اللہ تعالیٰ کو کسی کی لاش کو محفوظ کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ ہر مرے ہوئے انسان کو اپنی قدرت سے دوبارہ سے زندہ کرے گا اور میدان حشر میں جمع کر کے اس سے اس کے اعمال کا حساب لیا جائے گا-
YOU MAY ALSO LIKE: