جھوٹ اتنا بولو کہ سچ لگنے لگے٬ دنیا کی چند حیران کن چیزیں جو غلط ہیں لیکن لوگ نہیں مانتے

image
 
جب چیزیں غلط ہوتی ہیں تو بہت سے لوگ ان کی نشاندہی کرتے ہیں، اور پھر بھی بہت سے لوگ اسے مختلف وجوہات کی بنا پر نظر انداز کر سکتے ہیں۔ ایسی ہی کچھ چیزیں آج بھی دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں جو حقیقت غلط ہیں لیکن انہیں غلط بہت کم لوگ تسلیم کرتے ہیں یا پھر غلطی مانتے تو ہیں لیکن نظر انداز بھی کردیتے ہیں-
 
نپولین کا قد چھوٹا نہیں تھا
عام طور پر نپولین بونا پارٹ کے حوالے سے یہی مشہور ہے کہ اس کا قد چھوٹا تھا اور اکثر لوگ اسی وجہ سے کسی چھوٹے قد کے مالک شخص کو مذاق کا نشانہ بنانے کے لیے نپولین ہی کہہ کر پکارتے ہیں- لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے جی ہاں نپولین کا قد 5 فٹ 9 انچ تھا جو اس وقت کے فرانسیسی باشندے کے لیے بالکل نارمل سائز تھا۔ نپولین کے چھوٹے ہونے کا خیال کہاں سے آیا؟ اصل میں ایک برطانوی کارٹونسٹ جیمز گلرے نے ایک چھوٹے آدمی کے طور پر نپولین کے سیاسی کارٹون بنائے جس کے بعد یہ صورتحال پیدا ہوئی۔
image
 
دیوارِ چین خلا سے نظر نہیں آتی
دیوارِ چین 7ویں صدیق میں تعمیر کی گئی تھی یہ ایک بہت ہی طویل دیوار ہے جو کہ تقریباً 5500 میل کے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے- اس دیوار کے حوالے سے سوشل میڈیا پر یہ بات مشہور ہے کہ یہ دیوار خلا سے بھی نظر آتی ہے جبکہ اس بات میں کوئی حقیقت نہیں ہے- کم سے کم یہ خلا سے انسانی آنکھ کے ذریعے دکھائی دینا تو ممکن نہیں ہے- یہ خیال کہ یہ خلا سے نظر آتی ہے شاید اس حقیقت سے آتا ہے کہ اس دیوار کا مشاہدہ سیٹلائٹ کی تصویر کے ذریعے کیا گیا ہے۔ لیکن اگر یہی معیار رکھا جائے تو ہماری کاروں کی لائسنس پلیٹیں بھی خلا سے نظر آئیں گی۔
image
 
بھینسے سرخ رنگ سے ناراض نہیں ہوتے
ہم سب نے فلمیں، کارٹون، یا میٹاڈرز کی پینٹنگز دیکھی ہیں جو بھینسے کو لڑائی پر آمادہ کرنے کے لیے اپنے سرخ کپڑے یا رومال کو لہراتے ہیں۔ لیکن یہ سراسر غلط ہے۔ بھینسے کے ساتھ ساتھ دیگر تمام مویشی بھی دو رنگوں سے متاثر ہوسکتے ہیں اور سرخ ان میں سے ایک نہیں ہے۔ بھینسے کو جو چیز پریشان کرتی ہے وہ ہے رومال کی حرکت اور میٹاڈور کی مخالفت ہے۔
image
 
ڈائنوسار اور انسان ایک ساتھ نہیں رہے
یقین کریں یا نہ کریں، تقریباً 41 فیصد امریکی شہریوں کا خیال ہے کہ ڈائنوسار اور انسان ایک ساتھ رہتے تھے۔ اس پر یقین رکھنے والے زیادہ تر لوگ عیسائی بنیاد پرست ہیں جو یہ مانتے ہیں کہ زمین 6,000 سال سے کچھ زیادہ پرانی ہے۔ سائنس نے اس بات کا تعین کیا ہے کہ انسان اور ڈائنوسار تقریباً 64 ملین سال تک ایک دوسرے سے محروم رہے ہیں۔
image
 
وائکنگز نے اپنے سروں پر سینگ نہیں پہنے
تاریخ میں کہیں بھی یہ نہیں ملتا کہ وائکنگز اپنے ہیلمٹ کے طور پر اپنے سروں پر سینگ پہنتے تھے۔ سینگوں والے واحد ہیلمٹ وائکنگ دور سے پہلے 3000 قبل مسیح کے ہیں۔ سینگ والا وائکنگ ہیلمٹ دراصل 1800 کی دہائی کا ہے۔ گستاو میلسٹروم، ایک سویڈش آرٹسٹ، نے وائکنگ چھاپہ مار پارٹیوں کی اپنی تصویروں میں ہارن ہیلمٹ کو شامل کرنا شروع کیا۔
image
YOU MAY ALSO LIKE: