ہمارا نظامِ تعلیم

ایک شخص آم کے پودے ااگانا چاہتا تھا۔ مگر اس کے ساتھ مسئلہ یہ تھا کہ ہر سال وہ تین مختلف پھلوں (سیب٫ مالٹا اور آم) کے بیج بوتا اور ہمیشہ اس کی خواهش یہی ہوتی کے ہر بیج سے آم پیدا ہو۔ لیکن نتیجہ اس کے بر عکس نکلتا کیوں کے سیب کے بیج سے آم تو پیدا ہونے سے رہا۔ اور ہر سال ہی وہ اپنی زمین کی زرہیزی میں کمی کو اس کا ذمه دار سمجھ کر کوستا رہتا۔

آپ کو یہ ایک نہایت بے تکی اور مضحکہ خیز بات لگ رہی ہو گی۔ ظاہر سی بات ہے اگر وہ آم گانا چاہتا تو اس کے لیے آم کا بیج ہی بونا چاہیے ۔ لیکن ہم آج بھی بلکل وہی ساری کارروائی من وعن دوہرا رہے ہیں۔ کیسے؟ آئیں یہ بھی دیکھ لیتے ہیں۔

اس وقت ہمارے ہاں بنیادی طور پر تین تعلیمی نظام رائج ہیں۔ اور یہ تین بھی آگے بہت ساری اقسام میں بٹ جاتے ہیں ۔ چلیں آج ان تین نظا موں کے بارے میں تھوڑا دیکھتے ہیں ۔

1۔ عمومی تعلیمی نظام
پہلا نظام ہمارا سب سے بڑا تعلیمی سیٹ اپ ہے جو کے لارڈ میکالے کی سربراہی میں برطانوی راج کے دوران بنایا گیا تھا۔ بنیادی طور پر یہ ایک فالج زدہ نظام ہے جو معاشرے کے تمام تر ذہین لوگوں کو بھی مفلوج کے رہا ہے۔ اس نظام کو بنانے کا بنیادی مقصد ہی کلرک پیدا کرنا تھا۔ اور ہماری نادانی کی بھی داد دیجیے کے ہم اسی نظام میں رہتے ہوئے دنیا کا علمی لحاظ سے مقابلہ کرنا چاہتے ہیں٫ یعنی ہم ایک گول سانچے میں چوکور چیزیں بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

2۔ مدرسہ سسٹم
یہ سب سے پرانا نظام ہے ۔ ہر مذہب کے اندر تقریباً اس طرح کا نظام ہی قائم تھا جہاں وہ اس مذہب کی تعلیمات دیا کرتے تھے۔ یہ نظام سب سے موثر نظام تھا۔ مگر اب حال یہ ہے مدارس سے نکلنے والے گریجویٹس کی اکثریت نہایت سخت نظریات کے حامل ہوتے ہیں۔ اور اکثر مدارس میں صرف مذہبی تعلیم دی جاتی ہے جس کی وجہ سے وہاں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلباء ایک مخصوص حد تک مقید راہ جاتے ہیں ۔

2۔ اکسفورڈ اور کیمبرج کا نظام
وقتی طور پر سب سے زیادہ ایڈوانسڈ نظامِ تعلیم یہی نظام سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اس نظام سے صرف معاشرے کا مالی طور پر سب سے مضبوط طبقہ ہی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ کیوں کہ یہ نہایت ہی مہنگا نظام ہے۔ جسے افورڈ کرنا متوسط طبقے کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس نظام سے نکلنے والے طلباء جب اے لیول کر کے یونیورسٹیز میں داخلہ لیتے ہیں تو دیکھنے میں آیا ہے کہ اُن کے معاشرتی تعلقات بہت کمزور ہوتے ہیں ۔ یا بعض اوقات وہ دوسرے تعلیمی نظاموں سے آئے ہوئے لوگوں کو حقیر مخلوق سمجھتے ہیں کیوں کہ وہ ایک ایسے سسٹم میں پلتے بڑھتے ہیں جہاں اُن کے ذہنوں میں کلاس کے فرق کو انسانیت کا بنیادی معیار بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

اثرات
یہ ہمارے ہاں رائج تعلیمی نظاموں کی چند بنیادی باتیں تھیں۔ آپ خود ذرا سا سوچیں کے اگر ہم ایک کی جگہ ان تینوں نظاموں سے پڑھنے والے بچوں کو بٹھا دیں تو اُن کی گفتگو میں صرف تنازعات ہی اُبھریں گے۔ کیوں کے اُن سب کو سوچنے کا انداز ہی بلکل مختلف دیا گیا ہے۔ ایک فرد جس چیز کو تہذیب یافتہ ہونے کی نشانی سمجھتا ہے دوسرے کے نزدیک وہی چیز حرام کے مصداق ہے۔ جب کے دوسرے کے نزدیک جو چیز اعلیٰ اخلاق کی ضامن ہے پہلے کے لحاظ سے وہ جنگلی ہونے کا ثبوت۔ قصہ مختصر کے ہم سارے نظاموں میں ہم آہنگی پیدا کیے بغیر اس شخص کی طرح سیب کے بیج سے آم کا پودا اگنے کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔
 

Abdul Haseeb
About the Author: Abdul Haseeb Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.