آجکل جس طرح سے پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا اور سوشل میڈیا نیوز چینل
پرپاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی جانب سے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی
ایم ایف) کو ایک خط ارسال کیا گیا ہے بقول ترجمان تحریک انصاف کے رؤف حسن نے میڈیا
پر آکر اس بات کا اعلان کیا جس میں پاکستان کو بیل آؤٹ پیکج دیتے وقت سیاسی استحکام
کو مدنظر رکھنے کی درخواست کی گئی ہے۔
یہ خط بانی پی ٹی آئی کے ترجمان رؤف حسن کو بانی تحریک انصاف کی واضع ہدایت پر آئی
ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹرکو لکھا گیا ہے اور گذشتہ روز سے ہی اس خط کے مندرجات
اور اس کے اثرات کے بارے میں خاصی بحث و مباحثہ جاری ہے۔
پاکستان کا آئی ایم ایف کے ساتھ نو ماہ کا پروگرام مارچ کے آخر میں ختم ہو رہا ہے
اور ملک کو معاشی استحکام کے لیے اپریل سے آئی ایم ایف کے ساتھ نئے پروگرام پر
مذاکرات شروع کرنے ہیں۔
ان الیکشن کے نتیجے سے بننے والی حکومت کی کامیابی سے یہ نتیجہ اس کی اہمیت کا
اندازہ امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر کے اس بیان سے بھی لگایا جا سکتا
ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کی نئی حکومت کو فوری طور پر معاشی صورتحال کو
ترجیح دینا ہو گی۔
امریکی ترجمان کے بقول ’پاکستان کی نئی حکومت کو فوری طور پر معاشی صورتحال کو
ترجیح دینی چاہیے کیونکہ آئندہ کئی ماہ کی پالیسیاں پاکستانیوں کے لیے معاشی
استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے انتہائی اہم ہوں گی۔‘
پاکستان میں 8 فروری کے عام انتخابات کے بعد وفاق میں حکومت سازی اور پارلیمانی عمل
کا آغاز ہو گیا ہے اور قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں نومنتخب اراکین اسمبلی کی
حلف برداری اور 3 مارچ کو وزیراعظم کے لیے ووٹنگ اور اس کے بعد شہباز شریف نے
اکثریت سے نئے وزیراعظم منتخب ہوکر ایک نئے پارلیمانی دور کی بنیاد رکھی ہے۔
مگر ان سب کے باوجود ملک میں سیاسی عدم استحکام اور رسا کشی کی گونج اب بھی اسمبلی
اور اسمبلی سے باہر پرنٹ اور الیکٹرونک انٹرنیشنل و نیشنل میڈیا میں بھرپور طریقے
سے سنائی دے رہی ہے اور اس کی وجہ پاکستان تحریک انصاف کے جانب سے ملک میں ہونے
والے انتخابات کے نتائج پر دھاندلی اور مینڈیٹ چوری کے الزامات عائد کرنا ہے۔
مگر جہاں ملک میں سیاسی عدم استحکام کی صورتحال برقرار ہے وہیں ملک کے معاشی مستقبل
پر بھی بہت کچھ خطرات منڈلا رہے ہیں۔
مگر ان سب صورتحال کے باوجود پی ٹی آئی کے بانی جناب عمران خان کی جانب سے آئی ایم
ایف کو لکھا گیا خط کس قسم کی اہمیت کا حامل ہے؟ یہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے پہلے
یہ جانبا ضروری ہے کہ اس خط میں آخر ایسی کیا وجہ لکھی گئی ہے جو اتحادی حکمران اس
کو پاکستان سے غداری اور پاکستان کو مُشکلات میں ڈالنا سے تشبیہ دے رہے ہیں .
حالانکہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہدایت پر لکھے گئے خط میں عالمی
ادارے سے یہ کہا گیا ہے کہ وہ
* دو ہفتوں کے اندر قومی و صوبائی اسمبلیوں کی 30 فیصد نشستوں کا آڈٹ یقینی بنائے
اور بیل آؤٹ پیکیج کے وقت پاکستان کے سیاسی استحکام کو مدنظر رکھے۔
* خط میں کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف پاکستان کو مالی سہولت دینے سے پہلے گڈ گورننس
کے ساتھ ساتھ دیگر شرائط رکھے۔
* صرف منتخب حکومت کے ساتھ ہی مذاکرات کیے جا سکتے ہیں اور پی ٹی آئی پاکستان کی
سب سے بڑی اور مقبول سیاسی جماعت ہے، پاکستان کے عوام کے اعتماد کی حامل منتخب
حکومت ہی اس حوالے سے بات چیت کا اختیار رکھتی ہے۔‘
* خط میں کہا گیا ہے کہ جب کسی ایسی حکومت کو ملک پر مسلط کیا جائے جسے عوام کی
حقیقی نمائندگی حاصل نہ ہو تو اس کے پاس ملک کو چلانے کی کوئی اخلاقی حیثیت نہیں
ہوتی اور ٹیکس کے حوالے سے کوئی اقدامات نہیں کر سکتی۔
* آٹھ فروری کو ہونے والے الیکشن پر 50 ارب روپے کے اخراجات آئے لیکن اس میں بڑے
پیمانے پر مداخلت اور ووٹوں کی گنتی اور حتمی نتیجے میں فراڈ کیا گیا، یہ فراڈ اتنا
واضح تھا کہ امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین کے ممالک نے انتخابات کی شفاف اور
غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
* اس حوالے سے یہ یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ ہم حکومت سازی، قرضوں کی ادائیگی اور
قانون کی حکمرانی کے لیے آئی ایم ایف کی ڈیل کی اہمیت سے آگاہ ہیں، پی ٹی آئی آئی
ایم ایف کی سہولت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہتی کیونکہ یہ وہ سہولت ہے جو ملک
کی طویل مدتی معاشی بہبود کو فروغ دیتی ہے۔
* اس حوالے سے کہا گیا کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ آئی ایم ایف تحقیقاتی ادارے کا
کام کرے لیکن فافن اور پٹن کولیشن 38 جیسے اداروں کے تعاون سے الیکشن کا شفاف آڈٹ
کر کے تمام سٹیک ہولڈرز کو مطمئن کیا جا سکتا ہے۔
جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد و سابق وزیراعظم نواز شریف نے عمران خان کی جانب
سے بین الاقوامی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کو لکھے گئے خط کو ریاست مخالف قرار
دیا ہے۔
تاہم قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کے موقع پر پارلیمنٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے
ہوئے سابق وزیراعظم نے سیاسی جماعت کا نام لیے بغیر کہا کہ آئی ایم ایف کو خط لکھنا
ملک دشمنی کے مترادف ہے۔ ’ایسے خط وہی لکھ سکتے ہیں یہ ان کا وطیرہ ہے، کوئی دوسری
سیاسی جماعت ایسے خط نہیں لکھ سکتی، آپ خود ہی نتیجہ اخذ کر لیں۔ نواز شریف نے کہا
کہ ’سیاسی جماعتیں صرف اس طرح خط نہیں لکھ سکتیں، ایسا صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو
بااختیار ہیں۔‘
یہ بھی واضح رہے کہ 22 فروری کو بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا تھا کہ عمران خان کی
جانب سے آئی ایم ایف کو خط لکھا جائے گا، جس میں آٹھ فروری کو ہونے والے انتخابات
میں جتنے حلقوں میں دھاندلی ہوئی وہاں آڈٹ کرانے کا مطالبہ کیا جائے۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا تھا کہ ملک کے خلاف ہم کچھ بھی نہیں کریں گے، ریاست،
جمہوریت اور قانون کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔
جبکہ اس طرح آئی ایم ایف کو لکھے خط کی آئی ایم ایف کے نزدیک کوئی زیادہ اہمیت نہیں
ہے اور اس کا امکان بہت کم ہے کہ اس سے پاکستان اور آئی ایم ایف کے مذاکرات، تعلقات
یا ڈیل پر کوئی اثر پڑے۔‘
جبکہ ’اس بارے میں آئی ایم ایف کی جانب سے پہلے ہی ایک بیان سامنے آ چکا ہے جس میں
اس نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان کی جو بھی نئی حکومت ہو گی ہم اس کے ساتھ
کام کرنے کو تیار ہیں۔‘
اس ہی طرح کا ایک بیان امریکہ نے بھی دیا ہے اور اس میں کہا ہے کہ وہ قرضوں اور بین
الاقوامی مالیات کے شیطانی چکر سے آزاد ہونے کے لیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت
کرتا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف ملک میں ایک مضبوط اپوزیشن ہے مگر یہ ایک سیاسی نوعیت کا خط ہے
جبکہ ’آئی ایم ایف اس خط کے حوالے سے یہ سمجھ جائے گا کہ یہ سیاسی نوعیت کا خط ہے
اور آئی ایم ایف کو کسی بھی ملک کے سیاسی معاملات نہیں بلکہ معاشی معاملات سے
سروکار ہوتا ہے۔‘ اور یہ پی ٹی آئی کو بھی اچھی طرح سے معلوم ہے.
جبکہ کچھ پی ٹی آئی کے حمایتی اینکرز و تجزیہ نگار ان باتوں سے اختلاف کرتے ہوئے
یہی اپنا تجزیہ الاپ تے ہیں کہ ’اس وقت آئی ایم ایف کا جو پروگرام چل رہا ہے اس کے
لیے بھی آئی ایم ایف وفد نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اڈیالہ جیل میں بات کی تھی
جہاں عمران خان اپنی جیل کاٹ رہے ہیں اور پھر نگراں سیٹ اپ میں بھی جب پارٹی کی
سینیئر لیڈرشپ جیلوں میں تھی تو پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات عبدالرؤف حسن اور
چیئرمین بیرسٹر گوہر سے بات کی گئی تھی۔‘
اکثر پی ٹی آئی عہدیداران یہی ترجمانی کرتے نظر آئے کہ ’اگر آئی ایم ایف ہم سے
رابطے میں ہے تو آپ کو کیا لگتا ہے کہ آئی ایم ایف ہمارے لکھے خط کو زیر غور نہیں
رکھے گا۔‘
پی ٹی آئی نے آئی ایم ایف کو کہا ہے کہ نئی حکومت کے مینڈیٹ پر آڈٹ ہو جائے جو آئی
ایم ایف نہ کرے بلکہ دیگر ادارے کریں تاکہ جب آپ اپریل میں نئے پروگرام کے لیے
مذاکرات کا آغاز ہو تو آئی ایم ایف عوام کی نمائندہ حکومت سے بات چیت کر رہی ہو۔
پی ٹی آئی کئ جانب سے یہی کہا جارہا ہے کہ آخر ایسا کیا لکھا گیا ہے کہ اگر اس خط
کا کوئی اثر نہ ہونا ہوتا تو آج نواز شریف سمیت سب کی زبانوں پر خط کا تذکرہ نہ اس
طرح الزامات کی بارش پی ٹی آئی کے بانی پر نہیں لگائی جاتی.
جبکہ مسلم لیگ ن کی طرف سے یہ الزام لگانا کہ پی ٹی آئی اس مرتبہ بھی خط لکھ کر وہ
ہی سب کچھ کر رہے ہے جو اسے کرنا آتا ہے یعنی مزاحمت کی سیاست لیکن انھیں یہ علم
نہیں کہ جب آپ اینٹی اسٹیبلشمنٹ مزاحمت کرتے ہیں تو آپ کو سیاست بھی آنی چاہیے اور
اس میں پی ٹی آئی کو پہ در پہ ناکام و نامراد ہورہی ہے۔
’وہ سڑکوں پر احتجاج کی کال تو دے رہے ہیں لیکن پارلیمانی سیاست میں بری طرح ناکام
ہو رہے ہیں، پہلے وحدت المسلمین سے اتحاد کی بات کی اور پھر سنی اتحاد کے ساتھ
الحاق کی اور انھیں اب پتا چلا کہ اس نے تو مخصوص نشستوں کے لیے فہرست ہی نہیں دی۔‘
جبکہ اتحادی حکمران کا یہ کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کو صرف احتجاج کرنا آتا ہے اور وہ
اس مرتبہ بھی وہ ہی کر رہی ہے۔
جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے مُسلسل یہی بیانیہ داغ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم صرف
مزاحمت اور احتجاج کی سیاست کرتے ہیں تو انھیں یہ علم ہی نہیں کہ ہم نے آٹھ فروری
کو سیاسی برج بھی الٹا دیتے ہیں. بہت سے لوگوں کو یہ علم ہی نہیں کہ پی ٹی آئی اور
آئی ایم ایف کے وفد کے درمیان انٹریکشن لیول کیا ہے۔ اگر پی ٹی آئی نے ماضی میں آئی
ایم ایف کے پروگرام کی حمایت نہ کی ہوتی تو آج آئی ایم ایف کا پروگرام ہی نہ چل رہا
ہوتا۔
جبکہ کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ ’پی ٹی آئی کا آئی ایم ایف کو خط ایک مس فائر سے زیادہ
کچھ نہیں ہے۔
جبکہ ’پی ٹی آئی یہ اندازہ لگا بیٹھی ہے کہ آئی ایم امریکہ کا سٹیٹ ڈپارٹمنٹ یا
جسٹس ڈپارٹمنٹ ہے جو الیکشن میں دھاندلی کی تحقیقات کروا سکتا ہے۔
حالانکہ دنیا کو معلوم ہے کہ آئی ایم ایف ایک مالیاتی ادارہ ہے اگر اس قسم کی چیزوں
میں آئی ایم ایف نے مداخلت کرنا شروع کر دی تو اس کے لیے کام کرنا مشکل ہو جائے
گا۔‘ اگر اس طرح کرنا ہی ہوتا تو پھر، روس، یونان ، شمالی کوریا، وینزویلا کچھ
دہائیوں پہلے ان مُلکوں کے سیاسی حالت بھی پاکستان سے کہیں درجہ خراب تھے. مگر کبھی
آئی ایم ایف نے دوسری طرف دیکھنا بھی گوارہ بھی نہیں کیا سوائے معاشی پروگرام کو
صیح ٹریک پر لانے کی جستجو پر ہی حکومتوں کو آگاہ کرتا رہا.
حالانکہ جب ’پی ڈی ایم کی حکومت میں جب آئی ایم ایف کی ٹیم پی ٹی آئی سے ملی تھی اس
کی وجہ یہ تھی کہ ایک حکومت جا رہی تھی، اس کی جگہ ایک نگران حکومت آ رہی تھی اور
اس کے الیکشن ہونے تھے جس کے نتیجے میں کوئی بھی جماعت اقتدار میں آ سکتی تھی اس
لیے آئی ایم ایف کا اس وقت ملاقات کرنے کی سمحھ بھی آتی تھی۔‘
اور یہ دنیا جانتی ہے کہ ’آئی ایم ایف کا پاکستان کے داخلی معاملات میں دخل دینے کا
کوئی مینڈیٹ نہیں ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے لکھے گئے خط میں پاکستان کے الیکشن کے
آڈٹ کرانے کی بات کی گئی ہے جو کہ یہ الیکشن کمیشن اور پاکستانی عدالتوں کا مینڈیٹ
ہے ’اس خط کے لکھے جانے کے حوالے سے پی ٹی آئی کے اندر بھی اختلاف رائے موجود ہے۔‘
اس طرح کی صورتحال میں نئی نئی اسمبلی اور نئی نئی حکمرانی میں معاملات حل ہونے کے
بجائے اس سے ملک کی سیاسی صورتحال میں کھینچا تانی کی صورت برقرار رہے گی اور اس سے
جمہوری کلچر پروان کے بجائے اور پس پُشت چلا جائیگا. اس سے حزب اقتدار جماعتوں و
حزب اختلاف جماعتوں کو بجائے فائدے کہ نقصان کی طرف ہی رستہ نکلے گا.
اگر حزب اقتدار جماعتیں عمران خان کے خط لکھنے پر بات کر رہے ہیں تو دراصل یہ پی ٹی
آئی کے خلاف اس چیز کو سیاسی طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
اگر پاکستان کے آئی ایم ایف کے ساتھ اگلے پروگرام میں جانے پر تاخیر ہوتی ہے یا
مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تو پی ٹی آئی کے سیاسی حریف اس کو استعمال کرتے ہوئے اس
کا بیانیہ بنائیں گے کہ عمران خان نے ذاتی سیاست کو ملکی معیشت پر ترجیح دی اور
عوام کی فلاح و بہبود کی بجائے اقتدار کی رسا کشی کو اپنایا۔
یہ پاکستانی سیاسی کلچر میں کوئی اچھنبے کی بات نہیں اس سے پہلے بھی ادوار میں
پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ( ن ) نے بھی کوئی موقع جانے نہیں دیا مگر طریقہ مختلف
تھے.
تاہم ملکی سیاست پر اس کے اثرات کی اگر بات کی جائے تو یہ بات افسوسناک ہے کہ آپ
ملک کے داخلی معاملات میں مل بیٹھ کر الیکشن میں دھاندلی پر مُلکی اداروں کو ایک
آزاد کمیشن بناکر پاکستانی عوام میں اور انٹرنیشنل ملکوں میں 8 فروری الیکشن میں جو
دھاندلی کے ریکارڈ بنے ہیں اور اس پر جس طرح سے دنیا بھر میں جگ ہنسائی ہوئی ہے اس
کا ازالہ ہونا چاہیے کہ آئندہ کسی بھی سیاسی جماعت کو خارجی اداروں کو مداخلت کی
دعوت دینے کی جسارت نہ کرسکیں .
|