شجر کی حکایت

شجر انسان کی زندگی کا آئینہ ہے، جو بلندی اور گہرائی، روشنی اور تاریکی کے تضادات سے زندگی کے فلسفے کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

دیکھا جو تجھے، اے شجر، تیری قامت کی بلندیاں اور جڑوں کی گہرائیاں مجھے زندگی کے ان ان کہے رازوں کی یاد دلانے لگیں، جو اکثر ہم بھول جاتے ہیں۔ یہ زمین اور آسمان کا تعلق تیرے وجود میں سمٹ آیا ہے۔ تیری شاخیں بلندیوں کی طرف، روشنی اور ہوا کی طلبگار ہیں، اور تیری جڑیں تاریکی میں چھپی، زمین کے دل کی گہرائیوں میں زندگی کے سراغ تلاش کرتی ہیں۔

یہی تو کائنات کا فلسفہ ہے۔ انسان بھی تیرے ہی مانند دو دنیاؤں میں جیتا ہے؛ ایک دنیا جو ظاہر ہے، روشنی سے بھری، جہاں خواہشات اور آرزوئیں پنپتی ہیں۔ دوسری وہ دنیا، جو پوشیدہ ہے، تاریک اور گہری، جہاں انسان کا اصل وجود، اس کی روح، اپنی حقیقت کی جستجو میں مصروف ہے۔

تیری ہر شاخ، اے شجر، ایک داستان ہے۔ کوئی شاخ کمزور، کوئی مظبوط، کوئی پھولوں سے لدی، کوئی خالی۔ یہ انسان کی زندگی کے مرحلے ہیں، خوشیوں کے لمحات اور دکھ کے سائے۔ اور تیری جڑیں وہ قوت ہیں جو زمین کے اندر چھپ کر ان شاخوں کو غذا دیتی ہیں۔ جیسے زندگی کی اندرونی طاقتیں انسان کو اس کے خوابوں تک پہنچنے کا حوصلہ دیتی ہیں۔

تُو زمین سے جڑا، مگر آسمان کا طلبگار ہے۔ یہ ایک سبق ہے کہ انسان اپنی بنیادوں کو نہ بھولے، مگر بلندیوں کا خواب دیکھنا بھی ترک نہ کرے۔ تیری جڑیں زمین کو تھامے رکھتی ہیں، اور شاخیں روشنی کی طرف لپکتی ہیں۔ یہ تعلق اس بات کا عکاس ہے کہ ماضی، حال اور مستقبل سب جُڑے ہیں۔

پر، اے شجر، تیری خاموشی میں ایک اور راز بھی چھپا ہے۔ تجھے اپنی جڑوں کی گہرائی پر ناز نہیں، نہ اپنی شاخوں کی بلندی پر فخر۔ تجھے اپنی ذات کا ادراک ہے، اور یہ وہی ادراک ہے جو انسان کو عاجزی سکھاتا ہے۔ یہ سمجھاتا ہے کہ چاہے انسان کتنا ہی بلند ہو جائے، اس کی اصل اہمیت زمین سے اس کے تعلق میں ہے، اس بنیاد میں ہے جہاں سے وہ نکلا ہے۔

لیکن، اے شجر، تجھ میں ایک غم کا پہلو بھی ہے۔ تیرے پتوں کا جھڑنا، تیری شاخوں کا سوکھنا، یہ فنا کی حقیقت ہے۔ یہ یاد دہانی ہے کہ کچھ بھی ہمیشہ نہیں رہتا۔ ہر بہار کے بعد خزاں آتی ہے، اور ہر خزاں کے بعد نئی بہار۔ یہ زندگی کا دائرہ ہے، ایک سفر جو کبھی رک نہیں سکتا۔

تیرے وجود کی یہی حکمت ہے، یہی تیرے فلسفے کی گہرائی۔ تُو ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ زندگی میں بلندیوں کی جستجو کرتے رہنا ضروری ہے، مگر اپنی بنیادوں کو نہ چھوڑنا۔ اور یہ بھی کہ فنا کے خوف سے زندگی کے حسن کو ترک نہ کیا جائے۔

تُو، اے شجر، میرے لیے ایک آئینہ ہے۔ میں اپنی زندگی کی تمام کہانیاں، اپنی تمام کامیابیاں اور ناکامیاں، تجھ میں دیکھتا ہوں۔ تُو میرے دل کو یہ سمجھاتا ہے کہ زندگی کا حسن اس کے تضادات میں ہے؛ روشنی اور تاریکی، بلندی اور گہرائی، خوشی اور غم۔

آخر میں، تیرے سائے میں بیٹھ کر میں سوچتا ہوں کہ تُو نے مجھے کیا کچھ سکھایا۔ تُو نے مجھے اپنی حقیقت، اپنی خواہشات، اپنی کمزوریوں اور اپنی طاقتوں کا ادراک دیا۔ تُو نے یہ بتایا کہ انسان کو اپنے اندر کے تضادات کے ساتھ جینا سیکھنا چاہیے، کیونکہ یہی تضادات اس کی اصل پہچان ہیں۔

زندگی کا فلسفہ تیرے وجود میں چھپا ہے، اور یہ فلسفہ اتنا عمیق ہے کہ اسے الفاظ میں مکمل بیان نہیں کیا جا سکتا۔ تُو، اے شجر، نہ صرف زمین اور آسمان کے درمیان ایک پل ہے، بلکہ انسان اور کائنات کے رازوں کے درمیان بھی ایک نشان ہے۔
 

Dr. Shakira Nandini
About the Author: Dr. Shakira Nandini Read More Articles by Dr. Shakira Nandini: 393 Articles with 277706 views Shakira Nandini is a talented model and dancer currently residing in Porto, Portugal. Born in Lahore, Pakistan, she has a rich cultural heritage that .. View More