دنیائے قدیم کا عظیم فاتح سکندر اعظم مقدونیہ کے
دارالخلافہ پیلا میں 356 قبل مسیح میں پیدا ہوا۔ اس کا باپ بادشاہ فلپ دوئم
صحیح معنوں میں غیر معمولی قابلیت اور بصیرت کا حامل انسان تھا۔ فلپ نے
مقدونیہ کی فوج میں توسیع اور تنظیم اسے ایک اعلیٰ درجہ کی جنگجو طاقت میں
تبدیل کر دیا۔ اس طاقت کو اس نے پہلی بار یونان کے شمالی حصوں کو فتح کرنے
میں استعمال کیا۔ پھر وہ جنوب کی طرف بڑھا اور یونان کے بیشتر حصہ پر قابض
ہو گیا۔ بعد ازاں فلپ نے یونانی شہری ریاستوں کی ایک انجمن تشکیل دی جس کا
وہ سربراہ تھا۔ وہ یونان کے مشرق میں وسیع و عریض ایرانی سلطنت پر حملہ کی
تیاریاں کرنے لگا۔ 336 قبل مسیح میں جب اس یورش کا آغاز ہوا، فقط چھیالیس
برس کی عمر میں فلپ کو قتل کر دیا گیا۔
باپ کی موت کے وقت سکندر کی عمر 20 برس تھی۔ تاہم وہ کسی دشواری کے بغیر اس
کی جگہ تخت اقتدار پر براجمان ہوا۔ فلپ نے اپنے بیٹے کی جانشینی کے لیے
راہیں ہموار کر دی تھیں اور نوجوان سکندر کو اعلیٰ عسکری تربیت سے لیس کیا
تھا۔ اس کی ذہنی تربیت کا بھی فلپ نے خاطر خواہ اہتمام کیا تھا۔ عظیم عالم
ارسطو کو اس کا اتالیق مقرر کیا گیا تھا جو دنیائے قدیم کا سب سے عظیم
سائنس دان اور فلسفی تھا۔
یونان اور شمالی علاقہ جات میں، جنہیں فلپ نے فتح کیا تھا لوگوں نے فلپ کی
موت کو اس زیر دستی کا چوغہ سر سے اتار پھینکنے کا ایک بہترین موقع جانا۔
تاہم تخت نشین ہونے کے ۔ ۔ بعد 2 برس ۔ بعد ہی سکندر نے دونوں علاقوں کو
پھر سے فتح کر لیا۔ بعد ازں وہ ایران کی جانب مڑا۔
دو سو سالوں سے ایرانیوں نے ایک وسیع علاقے پر جو بحیرہ روم سے ہندوستان
عظیم سلطنت قائم کر رکھی تھی۔ اگرچہ ایرانی سلطنت کو اب ماضی جیسا تک محیط
تھا ایک عروج حاصل نہیں رہا تھا، لیکن یہ ہنوز نا قابل تسخیر حریف تھا۔ 334
قبل مسیح میں سکندر ایران پر حملہ آور ہوا۔ اسے اپنی فوج کا کچھ حصہ
مقدونیہ میں انتظام و انصرام سنبھالنے کے لے چھوڑنا پڑا۔ جس کے بعد صرف
پینتیس ہزار فوجیوں کا دستہ اس کے پاس باقی بچا جس کے ساتھ وہ ایران پر
حملہ آور ہوا۔ ایرانی فوجوں کے مقابلے میں یہ نہایت کم فوج تھی۔ اس کمی کے
باوجود سکندر ایرانی فوجوں کو پنے در پے شکست دیتا چلا گیا۔ اس کی کامیابی
کی تین وجوہات تھیں۔ اول فلپ کی تیار کردہ فوج ایرانی فوجوں سے کہیں زیادہ
تربیت یافتہ اور منظم تھی۔ دوم سکندر ایک غیر معمولی اہلیت کا سالار تھا،
غالبا تاریخ کا سب سے بڑا جنگجو ۔ سوم اس کی ذاتی شجاعت مندی نے بڑا اہم
کردار ادا کیا۔ اگرچہ وہ پچھلی صفوں سے ہر مرحلے پر اپنی فوجوں کی رہنمائی
کرتا
سکندر اپنے سالاروں کے ساتھ پہلے ایشیائے کوچک میں داخل ہوا اور وہاں موجود
ایرانی فوجوں کو شکست فاش دی۔ پھر وہ شمالی شام کی طرف مڑا۔ وہاں آئسس کے
مقام پر اس نے بھاری ایرانی فوجی جمعیت کو مات دی۔ وہ مزید آگے جنوب کی طرف
گیا؟
جہاں سات ماہ کے دورانیہ کے ایک دشوار محاصرے کے بعد اس نے موجودہ لبنان کے
علاقے میں ٹائر نامی فونیشین قوم کے شہر کو فتح کیا۔ اس محاصرے کے دوران
اسے شاہ ایران کی طرف سے ایک پیغام موصول ہوا کہ وہ اپنی نصف سلطنت کے بدلے
اس سے امن معاہدہ کرنے کو آمادہ تھا۔ سکندر کے ایک سپہ سالار پارسینیو کو
یہ پیشکش قابل قبول معلوم ہوئی اگر میں سکندر ہوتا تو یہ پیشکش قبول کر
لیتا ؟ اس نے کہاں میں بھی قبول کر لیتا ، اگر میں پار مینیو ہوتا۔ " سکندر
نے جواب دیا
ہٹلر اور نپولین کی مانند سکندر نے بھی اپنی نسل پر بے پناہ اثرات چھوڑے ۔
تاہم ان دونوں کی نسبت سکندر کے اثرات کم عمر ثابت ہوئے۔ جس کی وجہ اس دور
کے سفر اور ابلاغ کے محدود ذرائع تھے جنہوں نے دنیا میں اس کے اثرات کے
پھیلاؤ پر قدغن لگائی۔
مجموعی طور پر سکندر کی فتوحات کا سب سے اہم اثر یونانی اور وسطی مشرقی
تہذیبوں کا باہم قریب ہو جاتا تھا جس سے وہ دونوں ایک دوسرے سے مستفید
ہوئے۔ سکندر کی زندگی میں اور اس کے بعد یونانی تمدن شتابی سے ایران، میسو
پوٹیمیا، شام یہودہ اور مصر میں پھیل گیا۔ سکندر سے پہلے یونانی تہذیب کا
ان علاقوں میں نفوذ بہت ست رو ایشیا میں فروغ پانے کا موقع ملا جیسا اس سے
قبل ممکن نہ ہوا تھا۔ تاہم تہذیبی اثر و نفوذ ایک یکطرفہ عمل نہیں تھا۔
سکندر کی وفات کے فوراً بعد کی صدیوں میں جسے پہیلیانی دور کہا جاتا ہے،
مشرقی فکر بالخصوص مذہبی خیالات یونانی دنیا میں عام یہ ہیلمانی تمدن ہی
تھا جس میں یونانی اور گہرے مشرقی اثرات موجود تھے اور جس نے علی الاخر روم
کو متاثر کیا۔ تھا
نئے شہروں کی بنیادیں استوار کیں۔ ان میں انتہائی اہم مصر میں سکندریہ کا
شہر ہے ، جو جلد ہی دنیا کے ممتاز میں شمار ہونے لگا اور علم و تہذیب کا
گہوارہ بن گیا۔ علاوہ ازیں افغانستان کے شہر ہرات اور قندھار بھی اہم شہروں
کی فہرست میں مقام پا گئے۔
اپنے مجموعی اثرات کے حوالے سے بھی ہٹلر ، نپولین اور سکندر میں بڑی مماثلت
موجود ہے۔ یہ تاثر ملتا ہے کہ جیسے دوسرے دو افراد کے اثرات سکندر کی نسبت
کم پائیدار ثابت ہوں گے۔ اس بنیاد پر اسے ان دونوں سے پہلے اس فہرست میں
جگہ دی گئی ہے-
|