مہمان آرہا ہے رمضان آرہا ہے

(نیکیوں کے موسم بہار کا حق کیسے ادا کیا جائے؟ )
راجہ محمد عتیق افسر
ایگزیکٹو کوآرڈینیٹر(لائف اینڈ لیونگ)شعبہ اسلامیات
رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد
03005930098، [email protected]


ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم شعبان کے دوسرے نصف سے گزر رہے ہیں ۔رمضان کی آمد آمد ہے اور ہر کوئی رمضان کی آمد کا منتظر ہے ۔گرد و پیش کا نظارہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ واقعی رمضان آنے کو ہے ۔ کوئی مہینے بھر کے لیے غلہ خرید کر ذخیرہ کر رہا ہے ، کوئی ملابس کی خرید و فروخت میں مگن ہے ، کسی کے پیش نظر مہینہ بھر کمانے کے لیے کوئی کاروبار ہے، نوجوان رات رات بھر والی بال، کرکٹ، اور بیڈمنٹن کے ٹورنامنٹ ترتیب دے رہے ہیں ، نشریاتی ادارے پورا پورا دن لوگوں کو مصروف رکھنے کے لیے نشریات کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں ، فلم ساز ادارے رمضان کے اختتام پر کسی بڑے شو کا سرپرائز لیے بیٹھے ہیں ۔اشیائے خورو نوش کے تاجر اپنے منافع کے حساب سے مصنوعات کی تیاری کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں ۔ صرف دنیا داروں کاہی یہ حال نہیں حفاظ صاحبان بھی اڑان بھر رہے ہیں اور اور اپنی برق رفتاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کم از کم وقت میں تراویح پڑھانے کے لئے تیاری کر رہے ہیں ۔علماء کرام مختلف محافل میں جوش خطابت سے سامعین اور معتقدین کا دل جیتنے کی مشق کر رہے ہیں ۔ ادارے اور دفاتر رمضان کے لیے نظام الاوقات طے کر رہے ہیں ۔غرض ہر شخص اس وقت رمضان کی تیاری میں مصروف عمل ہے ۔
نیکیوں کا موسم بہار آنے کو ہے ۔لیکن جن تیاریوں کا ذکر کیا جا چکا ہے اس سے تو یہ محسوس نہیں ہوتا کہ کسی عبادت کے وقت کا انتظار یا استقبال کیا جا رہا ہے بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ کوئی میلہ آنے کو ہے جس میں رنگ برنگے چٹخارے دار کھابوں کا دور دورہ ہوگا، محفلیں سجیں گی دکانیں لگیں گی موج میلہ ہوگا۔ گویا ہمارے معاشرے میں رمضان کسی عبادت کا نام نہیں رہا بلکہ ایک تہوار بن گیا ہے ۔ شروع کے چند دن تک تراویح کی نمازوں میں ازدھام دیکھنے کو ملتا ہے پھر رفتہ رفتہ یہ بھیڑ بھی کم ہو جاتی ہے ۔ روز مرہ کی زندگی میں تناؤ بڑھ جاتا ہے ۔ چڑچڑے پن میں اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے اور جگہ جگہ لڑائی جھگڑے ، مارکٹائی نظر آئے گی ۔ ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے اور ان میں زیادہ تر زود خورانی اور بدہضمی کے شکار ہوتے ہیں اور دیگر لڑائی جھگڑوں میں زخمی ہوکر آتے ہیں ۔ اسی طرح افطار سے پہلے پہنچنے کی کوشش میں حادثات میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔رمضان المبارک سے اجتماعی طور پر ہمارا ٹھیک سے تعارف نہ ہونے کی وجہ سے ہم نیکیوں کے اس موسم بہار کی بے توقیری کر بیٹھتے ہیں اور بجائے اس کے کہ اس نعمت خداوندی سے فائدہ اٹھائیں ہم اللہ رب العزت کے غضب کا شکار ہوتے ہیں ۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول الله ﷺ نے فرمایا:
"ورغم أنف رجل دخل عليه رمضان، ثم انسلخ قبل أن يغفر له"
اس شخص کا ناک خاک آلود ہو جس کی زندگی میں رمضان آیا پھر وہ بخشش سے محروم رہا۔ (سنن ترمذی: 3545، مسند أحمد:2/ 254)
ہماری جانب آنے والے اللہ کے اس مہمان کا صحیح تعارف ہونا چاہیے تاکہ ہم اس کا حق ادا کرنے کے قابل ہو سکیں ۔ تو پھر آئیں ہم رمضان کے متعلق اپنے اعتقادات درست کرتے ہیں ۔
1. ماہ ِقرآن
رمضان کا جو تعارف خداوند ِکریم نے کرایا ہے وہ اپنے کلام کی نسبت کے ساتھ کرایا ہے ارشاد باری تعالی ہے کہ:
﴿شَهرُ رَمَضانَ الَّذي أُنزِلَ فيهِ القُرآنُ هُدًى لِلنّاسِ وَبَيِّناتٍ مِنَ الهُدى وَالفُرقانِ﴾
رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لیے ہدایت، ہدایت کی نشانیوں سے بھرپور اور حق و باطل میں فرق کرنے والا ہے۔ (البقرۃ:185)
یعنی رمضان المبارک وہ مہینہ ہے جس میں قرآن پاک کا نزول ہوا اس کی فضیلت کا سبب وہ نور مبین ہے جس نے انسانوں کو گمراہیوں سے نکال کر ہدایت کے اجالوں میں لایا۔اس لحاظ سے رمضان قرآن کا مہینہ ہے اور یہ تقاضا کرتا ہے کہ قرآن مجید پہ ایمان رکھنے والے تمام لوگ اس ماہ مقدس کا احترام کریں اور قرآن کی طرف لوٹ آئیں۔

2. ماہِ ایمان و اتقان
رمضان المبارک کا ایک تعارف یہ ہے کہ یہ ایمان اور تقوی کا مہینہ ہے ۔قول باری تعالی ہے کہ
﴿يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنوا كُتِبَ عَلَيكُمُ الصِّيامُ كَما كُتِبَ عَلَى الَّذينَ مِن قَبلِكُم لَعَلَّكُم تَتَّقونَ﴾
اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کر دیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، (یہ اس لئے) تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔ (البقرۃ: 183)
رمضان المبارک کے روزے ہم پر اس لیے فرض کیے گئے ہیں تاکہ ہم تقوی اختیار کریں اور اللہ کے نیک اور پریزگار لوگوں میں شمار ہو سکیں۔رمضان المبارک کی تمام تر عبادتوں اور ریاضتوں کا مقصد تقوی کا حصول ہے پرہیزگاری کا حصول ہے ۔اس تعارف کی نسبت سے رمضان المبارک ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم ان امور کو انجام دیں جو تقوی کا موجب ہیں اور ان کاموں سے بچیں جو تقوی کے منافی ہیں ۔
3. ماہ ِتربیت
ہمیں یہ بھی معلوم ہو گیا کہ رمضان المبارک میں ہمیں روزہ رکھنا ہے ۔لیکن روزے کے متعلق ہمارا نکتہ نظر یہ ہوتا ہے کہ صبح سے لے کر شام تک بھوک اور پیاس میں مشقت اٹھانا باعث اجر ہےجبکہ ایسا نہیں ہے ۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"ومن صام رمضان إيمانا واحتسابا، غفر له ما تقدم من ذنبه"
جس شخص نے ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے رمضان کا روزہ رکھا تو اس کے سابقہ گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔ (صحیح بخاری:1901، صحیح مسلم:760)
اسی طرح ایک اور جگہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول الله ﷺ نے فرمایا:
"من قام رمضان إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه"
جس نے رمضان کا قیام ایمان کی حالت اور ثواب کی نیت سے کیا تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔ (صحیح بخاری: 2009، صحیح مسلم: 759)
رمضان میں کیا جانے والا قیام اور رکھے جانے والے روزے کا مقصدا سی صورت میں حاصل ہوگا جب ان اعمال کو اللہ تعالی کی رضا کے لیے اس نہج سے ادا کیا جائے گا کہ کسی بھی لمحے اللہ تعالی ٰ کی نافرمانی سرزد نہ ہو ۔ایک ماہ تک مسلسل یہ عمل دہرانے سے ایسی شخصیت کی تعمیر ہوتی ہے جو تمام برس تقوے اور پرہیزگاری کی راہ پر گامزن رہے ۔اس لیے یہ ماہ تربیت ہے ۔اگر رمضان المبارک کی عبادت سے ایمان اور احتساب کو منہا کر دیا جائے تو روزے اور قیام کی یہ ریاضت محض بھوک اور رت جگے پہ منتج ہوتی ہے ۔سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
"رب صائم ليس له من صيامه إلا الجوع، ورب قائم ليس له من قيامه إلا السهر"
بعض روزے دار ایسے ہوتے ہیں جنہیں روزے سے بھوک کے سوا کچھ نہیں ملتا اور بعض قیام اللیل کرنے والوں کو بیداری کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ (سنن ابن ماجہ: 1690، سنن دارمی : 2762)
4. ماہ ِصبر
اس ماہ کا تعارف کرتے ہوئے رسول اکرمؐ نے فرمایا: ''یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنّت ہے۔ ''
رمضان المبارک میں جائز، حلال اور طیّب چیزوں سے بھی انسان صبح صادق سے غروبِ آفتاب تک رُکتا ہے ۔ خواہش ،طاقت اور مواقع ہونے کے باوجود رکنا دراصل صبر اور تقویٰ کی تربیت ہے۔ انسان کی نفسانی خواہشات میں حدود کو پھلانگنے کا رجحان موجود ہوتا ہےجب کہ تقویٰ کا تقاضا ہے کہ انسان سارا سال اپنے آپ کو حرام سے روکے رکھےگناہ سے باز رہے اور منکرات سے اجتناب کرے، اسی کوصبر کہتے ہیں۔
عام خیال یہ ہے کہ کسی تکلیف یا مصیبت کو خندہ پیشانی سے برداشت کرلینا ہی صبر ہےجب کہ حقیقت میں صبر کا مفہوم بہت جامع اور ہمہ گیر ہے۔ امام راغب اصفہانیؒ نے صبر کے تین درجے مقرر کیے ہیں (1) گناہوں سے اپنے آپ کو روکنا (2) اطاعت، بندگی اور دینی فرائض کی ادائی پر کاربند ہونا (3) مشکلات اور سختیوں میں صبر کرنا۔ خاص طور پر اقامت دین کی جدوجہد کے مراحل میں آنے والی سختیوں کو جھیلنا،برداشت کرنا اور پھر استقامت کا مظاہرہ کرنا۔ اس اعتبار سے گویا پورا دین صبر کی تشریح میں شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں کئی مقامات پر صبر کو جنّت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے اور صبر کرنے والوں کو مقرب قرار دیا گیا ہے۔
5. ماہ ِایثار
نبی کریم ﷺ نے جہاں رمضان المبارک کو عظیم ماہ ، بابرکت ماہ اور ماہ صبر قرار دیا ہے وہیں پر اسے شہر المواساۃ (ہمدردی و غمگساری کا مہینہ ) بھی قرار دیا ہے
عن سلمان قال: خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في آخر يوم شمن شعبان فقال: «يا أيها الناس قد أظلكم شهر عظيم مبارك ... وهو شهر الصبر والصبر ثوابه الجنة وشهر المواساة...الخ مشكوة المصابيح 1965
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے شعبان کے آخر میں خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے کہا : لوگو! ایک با برکت ماہ عظیم تم پر سایہ فگن ہوا ہے،۔۔۔۔ یہ ماہ صبر ہے جب کے صبر کا ثواب جنت ہےیہ غم گساری کا مہینہ ہے،۔۔۔۔۔ الخ
جب انسان ایک مشقت کے عمل سے گزرتا ہے تو اسے دوسروں کی تکالیف کا احساس ہوتا ہے ۔اس صورت میں وہ دوسروں پر مہربان ہوتا ہے اور ایثار کا مظاہرہ کرتا ہے ۔ رمضان میں نیکیوں کا اجر کئی گنا بڑھا دیے جانے کی وجہ سے بھی جذبہ ایثار میں کثرت دیکھی جاتی ہے ۔ لہذا رمضان المبارک میں دوسروں کا استحصال کرنے اور انکی مجبوری سے فائدہ اٹھانے کے بجائے ان کے ساتھ ہمدردی کرنے اور ان کے دکھ بانٹنے کی مشق کرنا چاہیے ۔اپنے عزیز واقارب اور اپنے ماتحتوں کا خاص خیال رکھنا چاہیے اور ان کی ہرطرح سے دلجوئی کرنا چاہیے ۔
6. ماہِ اتحاد امت
رمضان المبارک کا ایک تعارف یہ ہے کہ یہ مہینہ اتحاد امت کا مہینہ ہے ۔اس تعارف کو سب سے زیادہ فراموش کیا جاتا ہے یہاں تک کہ خود کو انبیاء علیہم السلام کا وارث گرداننے والے علمائے کرام بھی اس تعارف کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں ۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے وطن عزیز میں رمضان کا آغاز بھی چاند کے اختلاف سے ہوتا ہے اور اس کا اختتام بھی ۔ بعض علاقوں میں تو صورتحال یہ ہوتی ہے کہ ایک گھر میں روزہ ہوتا ہے تو پڑوسیوں کی عید ہوتی ہے ۔ ایک ہی شہر میں دو دو یا تین تین عیدیں منائی جاتی ہیں ۔ حالانکہ باہمی نزاع کتنا بڑا جرم ہے اس کا اندازہ اس حدیث مبارکہ سے کیجیے کہ :

حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا حميد، حدثنا انس، عن عبادة بن الصامت، قال: خرج النبي صلى الله عليه وسلم ليخبرنا بليلة القدر، فتلاحى رجلان من المسلمين، فقال:" خرجت لاخبركم بليلة القدر، فتلاحى فلان وفلان، فرفعت وعسى ان يكون خيرا لكم، فالتمسوها في التاسعة، والسابعة، والخامسة".
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا، ان سے خالد بن حارث نے بیان کیا، ان سے حمید طویل نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول ﷺ ہمیں شب قدر کی خبر دینے کے لیے تشریف لا رہے تھے کہ دو مسلمان آپس میں جھگڑا کرنے لگے۔ اس پر ﷺنے فرمایا کہ میں آیا تھا کہ تمہیں شب قدر بتا دوں لیکن فلاں فلاں نے آپس میں جھگڑا کر لیا۔ پس اس کا علم اٹھا لیا گیا اور امید یہی ہے کہ تمہارے حق میں یہی بہتر ہو گا۔ پس اب تم اس کی تلاش آخری عشرہ کی نویں یا ساتویں یا پانچویں راتوں میں کیا کرو ۔(البخاری 2023)

نبی ﷺ کی موجودگی میں باہمی جھگڑے کی وجہ سے لیلۃ القدر کےتعین کا علم اٹھا لیا گیا ۔ اب تو نبی مہربان ﷺ رحمت للعالمین ہمارے درمیان موجود بھی نہیں ۔ ایسی صورت میں باہمی نزاع اور اختلافِ امت تو ہمیں رمضان کی دیگر برکتوں اور فیوض سے بھی محروم کر دیتا ہے ۔لیکن ستم بالائے ستم یہ کہ دیگر ایام کی نسبت لڑائی جھگڑے رمضان میں زیادہ ہوتے ہیں ۔
استقبالِ رمضان
نبی کریم ﷺ کی سیرت سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ماہ مبارک کی آمد سے چھ ماہ قبل رمضان کی تیاری کرتے تھے۔ بابرکت مہینہ دیکھ کر وہ اللہ کا شکر ادا کرتے کہ اس نے انہیں ایک اور رمضان کی مہلت دی ہے۔ جب مہینہ گزر جاتا تو وہ اس مہینے میں اپنی عبادت کو قبول کرنے کی التجا کرتے۔صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) خوش قسمت تھے کہ ان کے سامنے نبی کریم ﷺ خود موجود تھے۔ صحابہ کرام ؓ کے سامنے بہترین نمونہ اور کامل انسان موجود تھے جن سے وہ سیکھتے اور ان کی پیروی کرتے تھے جب کہ ہمیں یہ نعمت حاصل نہیں ہمارے پاس نبی ﷺ کی سنت ہے جس سے سیکھنا اور اس پر عمل کرنا ہے۔
رمضان المبارک ایک بابرکت مہینہ ہے جس میں ہم اپنی کوتاہیوں کی معافی مانگیں اورقابل تعریف عادات پیدا کر کے ایک نئی شروعات کریں ۔ اس رمضان اگر ہم مندرجہ ڈیل عادات کو اپنانے کا عزم کر لیں تو ہماری زندگی نیکی کے موسم بہار سے فیض یاب ہو سکے گی ۔
1. قرآن کو وقت دیں :
رمضان المبارک قرآن کا مہینہ ہے۔ ہم رمضان کی تیاری نہیں کر سکتے جب تک کہ اپنے دن کا کوئی حصہ کتاب اللہ کو نہیں دیتے۔ قرآن کے مسلمان پر درج ذیل حقوق ہیں:

‌أ. اس پر ایمان لانا
‌ب. اسے پڑھنا
‌ج. اسے سمجھنا
‌د. اس پر عمل کرنا
‌ه. اس کا پیغام دوسروں تک پہنچانا
‌و. اس کی تنفیذ کے لیے جدوجہد کرنا

جب ہم اسے وقت نہیں دیں گے تو ہم اس کے حقوق کیسے ادا کریں گے گے؟ جب ہم اسے نہیں سمجھتے تو ہم اس کے ساتھ کیسے رہ سکتے ہیں؟ جب ہم اس سے دور ہیں تو ہم دوسروں کو قرآن کی طرف کیسے بلا سکتے ہیں؟ ہماری اپنی زندگیاں قرآنی احکامات کے تابع نہیں تو ہم کیسے اس کو دنیا پہ نافذ کر سکتے ہیں ؟اگر ہم طویل عرصے سے قرآن سے دور ہیں، تو رمضان دوبارہ جڑنے کا ایک اچھا موقع ہے۔
• اس بار ارادہ کریں کہ قرآن کو طاق سے اتاریں گے اور غلاف سے نکالیں گے ۔
• چند آیات کی تلاوت سے شروع کریں، پھر دن میں ایک صفحہ پر جائیں، اور پھر، ان شاء اللہ، دن میں ایک جز (پارہ) پر جائیں۔
• قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں اور انہماک سے سنیں ۔ مساجد کے حفاظ سے بھی کہیں کہ وہ دوڑ نہ لگائیں بلکہ عمدہ قرأت سے قرآن سنائیں تاکہ قیام اللیل کا لطف پیدا ہو ۔
• جو بھی پڑھیں اس کو سمجھیں ، ترجمہ کریں تفسیر پڑھیں ۔قرآن کو سکھانے والے حلقوں سے رابطہ کریں ۔
• اہم، بات یہ نہیں ہے کہ آپ "کتنا" قرآن ختم کرتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ آپ کتنا سمجھتے ہیں اور اپنی زندگی میں اس پر عمل کرتے ہیں۔
• سب سے زیادہ اہم یہ ہے کہ قرآن انفرادی زندگی میں نافذ ہونے کے لیے نہیں آیا بلکہ اپنے معتقدین سے تقاضا کرتا ہے کہ اسے تما م عالم پہ نافذ کر دیا جائے لہذا ایسی اجتماعیت کا حصہ بنیں جو قرآن کے نظام کو نافذ کرنے کے لیے میدان عمل میں کوشاں ہو۔
2. نماز کی پابندی کریں :
سیرت ہمیں بتاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی نماز کے گرد گھومتی تھی۔ خواہ وہ گھر پر ہوں، سفر میں ہوں یا جنگ میں بھی، انہوں نے کبھی نماز نہیں چھوڑی۔اقامت صلوٰۃ ایک مسلمان کی اولین ذمہ داری ہے ۔اللہ تعالیٰ نے نماز قائم کرنے کا حکم دیا ہے اور اقامت صلاۃ کے لیے نماز باجماعت پہلی شرط ہے ۔رمضان المبارک میں نماز کو قائم کریں اس کے لیے
‌أ. نماز باجماعت کو اپنا وطیرہ بنائیں
‌ب. نماز وقت پر ادا کریں ۔نماز اپنے مقررہ وقت پر پڑھنا ان اعمال میں سے ہے جو اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہیں۔ علماء کا مشورہ ہے کہ ہم اپنی نماز کو وقت پر ادا کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم نماز کا وقت شروع ہونے سے پہلے ہی اس کے لیے تیار ہو جائیں۔
‌ج. آذان کی آواز کان میں پڑتے ہی سب کام چھوڑ دیں اور وضو کرنے کے لیے اٹھیں۔
‌د. نماز کو خشوع اور خضوع سے ادا کریں ۔ نماز اللہ کے ساتھ ملاقات ہے تو ملاقات اس طر ح ہو کہ آپ کی توجہ نماز ہی کی جانب ہو ۔ توجہ کے ساتھ پڑھی جانے والی دعا اس کی قبولیت کے امکانات کو بڑھا دیتی ہے۔
‌ه. اگر نماز میں اداکیے جانے والے کلمات کا ترجمہ نہیں آتا تو اسے پہلی فرست میں سیکھیں اور اللہ سے ملاقات اس طرح کریں جیسے واقعتا آپ اس سے ملاقات کر رہے ہیں ۔
3. باقاعدگی سے صدقہ و خیرات کریں:
ہم آزمائشوں اور فتنوں کے دور میں جی رہے ہیں۔ آفات سے بچنے کا ایک مستحسن طریقہ اللہ سبحانه و تعالى ٰ کی راہ میں دل کھول کرصدقہ کرنا ہے ۔ اپنے گھر کے ارد گرد دیکھیں، ہم نے کتنی اشیاء کو سمیٹ رکھا ہے جو ہماری ضرورت سےزائد ہیں اور ہم نے انہیں کئی ہفتوں، مہینوں یا برسوں میں چھوا نہیں؟ یہ ہم میں سے بہت سے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ ہم چیزیں خریدتے ہیں اور انہیں محفوظ کرتے ہیں ہم سالانہ صفائی تک نہیں کرتے کہ ہمیں احساس ہو کہ ہم کتنے مال کے مالک ہیں۔رمضان المبارک ایثار کا مہینہ ہے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ استفادہ کریں ۔
• اپنے ارد گرد مستحق افراد کو تلاش کریں اور ان کی فہرست مرتب کریں۔
• کم نصیبوں کی مدد کے لیے جو کچھ بھی اضافی اور اپنی ضرورت سے زیادہ ہے اسے دے دیں۔
• جس کو آپ دے رہے ہیں اسے کی عزت نفس کو ذہن میں رکھیں اور اس طریقے سے مدد کریں جیسے آپ اس کے غم خوار ہیں ۔ صدقات کی تشہیر بھی ریاکاری ہے جو آپ کے روزے کو تباہ و برباد کر سکتی ہے ۔
• اپنے آخرت کے گھر کی تعمیر اور آرائش پر توجہ دیں اور ہر صدقے کا اجر صرف اللہ سے طلب کریں ۔
• دولت ہی خیرات کی واحد شکل نہیں ہے۔ اپنا وقت دینا، اپنی صلاحیتوں کو بانٹنا، مہربان ہونا، اور مسکرانا یہ سب خیرات کی مختلف شکلیں ہیں۔
• اپنے رشتہ داروں ، دوست احباب اور پڑوسیوں کے لیے محبت کا اظہار کریں اور انہیں روزہ افطار کرائیں ۔
• صدقہ کی وسیع تر تعریف کے تحت اپنے ماتحتوں اور ملازمین کا خاص خیال رکھیں یہ اکثر ہماری نظروں سے اوجھل رہ جاتے ہیں رمضان میں ان کی مشکلات کو کم کرنے کی کوشش کریں ۔
4. علمی مجالس میں شرکت کریں:
ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم مسلم ملک میں رہ رہے ہیں ہمارے اردگرد بہت ساری مساجد ہیں لیکن یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ ان میں محدودے چند ہی باقاعدہ علم کی درسگاہیں ہیں۔ہم نے مساجد کو محض نمازوں کی ادائیگی کے لیے مخصوص کر دیا ہے حالانکہ یہی مساجد مسلم معاشرے کا مرکز ہیں اور یہیں سے علم و عرفان کے سوتے پھوٹنا چاہییں۔علمائے کرام کو ان مساجد کے ذریعے عوام الناس کی فکری و روحانی تربیت کرنا چاہیے ۔دورجدید میں کچھ علماء نے تربیتی عمل کا بیڑا اٹھایا ہے اور جگہ جگہ علمی محافل کا اہتمام ہو رہا ہے ۔ کوشش کریں کہ زیادہ سے زیادہ ان محافل میں شریک ہوں تاکہ ہماری علمی استعداد کار بڑھے ۔ ہمیں اپنی دعاؤں میں محبت اور تعلق اس وقت تک نہیں مل سکتا جب تک کہ ہم دین کا علم حاصل نہ کر لیں اور یہ نہ جان لیں کہ ہم کیا اور کیوں دعا کر رہے ہیں۔اس لیے
• عربی زبان کو سیکھنے کی کوشش کریں ۔
• قرآن کو تفسیر کے ساتھ پڑھنے اور سیکھنے کی کوشش کریں
• احادیث مبارکہ کو یاد کریں اور سیرت کے واقعات سے استفادہ کریں
• ذکر و اذکار کی محافل میں ضرور شریک ہو ں۔
ہفتے میں کم از کم ایک حلقہ علم میں ضرور شرکت کریں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جو شخص علم کی تلاش میں چلتا ہے اللہ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے۔ [مسلم]
5. پاکیزگی کی حالت میں رہیں :
رمضان المبارک میں ہم پورا دن عبادت کی حالت میں ہوتے ہیں لیکن اکثر یہ بات ہم بھول جاتے ہی لہذا ہمیں ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ روزہ بھی عبادت ہے اور دوران عبادت خود کو جسمانی و روحانی طور پر پاک رکھنا چاہیے ۔ ہمیں باوضو رہنے کی مشق کرنی چاہیے تاکہ فرشتے ہمارے ساتھ وقت گزارنا پسند کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جو شخص طہارت کی حالت میں سوتا ہے تو اس کے لباس میں فرشتہ اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ وہ اس وقت تک بیدار نہیں ہوگا جب تک کہ فرشتہ یہ دعا نہ کرے کہ اے اللہ اپنے بندے کو بخش دے کیونکہ وہ پاکی کی حالت میں سو رہا ہے۔ [طبقاتی صحیح از شیخ البانی]
جسمانی طہارت کے لیے وضو ، غسل اور مسواک کو اپنا معمول بنائیں جبکہ روحانی طہارت کے لیے حرام اور نا پسندیدہ اعمال و اشیاء سے دور رہیں ۔جب ہم سجدے میں جاتے ہیں تو فرشتے تسبیح کے کلمات جمع کرنے کے لیے ہمارے منہ کے قریب آتے ہیں۔ اگر ہماری سانس میں بدبو آتی ہے تو یہ انہیں دور کر دے گی۔اسی طرح روزے کی حالت میں منکرات اور حرام کاری سے نہیں بچیں گے تب بھی ہماری عبادت قبولیت کی منازل طے نہیں کر پائے گی ۔
6. اپنے غصے اور اپنی زبانوں پر قابو رکھیں:
ہمارا عمومی رویہ یہ ہے کہ ہم کھانے پینے کے عمل سے تو رک جاتے ہیں لیکن زبان اور ہاتھ مسلسل وہ افعال سرانجام دے رہے ہوتے ہیں جن کی اسلام شدت سے ممانعت کرتا ہے ۔جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب تم روزہ رکھو تو سننے، دیکھنے اور بولنے کا بھی روزہ رکھو۔ اور جھوٹ اور حرام چیزوں سے پرہیز کرو۔ اور اپنے پڑوسیوں کو نقصان پہنچانے سے پرہیز کرو۔ جس دن تم روزہ رکھو اس دن پرسکون اور باوقار رہو۔ اور جس دن تم روزہ رکھتے ہو اور جس دن روزہ نہیں رکھتے ایک جیسا نہ ہونے دو۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"من لم يدع قول الزور والعمل به فليس لله حاجة في أن يدع طعامه وشرابه"
جس شخص نے جھوٹ بولنا اور اس پرعمل کرنا نہ چھوڑا تو الله تعالی کو کوئی حاجت نہیں کہ یہ شخص اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔ (صحیح بخاری: 1903)
مجموعی طور پر ہمارا معاشرہ ایک مشترک بیماری کا بھی شکار ہے اور وہ ہے غصہ ۔ ہم اس بیماری کی وجہ سے نجانے کتنے اور گناہ کر بیٹھتے ہیں ۔ رمضان المبارک میں کوشش کریں کہ اس بیماری سے خود کو آزاد کرائیں ۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک مہینہ دیا ہے جس میں ہم جان بوجھ کر بری عادتوں پر قابو پانے اور ترک کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔رمضان گزرنے کے بعد اس عادت کو نہ چھوڑیں۔ چغل خوری، غیبت، کردار کشی اور زبان کی دوسری برائیوں سے دور رہیں۔یہ ایسی عادات ہیں جن میں ہم مبتلاء ہوتے ہیں لیکن ہمیں محسوس تک نہیں ہوتا اور یہ ہماری حسنات کو راکھ کر دیتی ہیں۔
7. بھائی چارہ پیدا کریں:
مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور یہ بھائی چارہ ان کے درمیان ایک عقیدے اور ایک کلمے کی بنیاد پر ہے۔ ارشادِ ربانی ہے:
’’إِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ إِخْوَۃٌ۔‘‘ (الحجرات:۱۰ )
ترجمہ:’’مسلمان آپس میں ایک دُوسرے کے بھائی ہیں۔‘‘
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اخوتِ اسلامیہ اور اُس کے حقوق کے بارے میں ارشاد فرمایا:
’’الْمُسْلِمُ أَخُوْ الْمُسلِمِ، لَا یَظْلِمُہٗ وَلَا یَخْذُلُہٗ، وَلَا یَحْقِرُہٗ۔ اَلتَّقْوٰی ھَاہُنَا وَیُشِیْرُ إِلٰی صَدْرِہِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ یَّحْقِرَ أَخَاہُ الْمُسلِمَ، کُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ حَرَامٌ، دَمُہٗ، وَمَالُہٗ، وَعِرْضُہٗ۔‘‘ (صحیح مسلم،ج:۲،ص: ۳۱۷، باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ واحتقارہ)
ترجمہ: ’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، اُس پر خود ظلم کرتا ہے اور نہ اُسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے اور نہ اُسے حقیر جانتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قلب مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین بار یہ الفاظ فرمائے: تقویٰ کی جگہ یہ ہے۔ کسی شخص کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے۔ ہر مسلمان پر دُوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔‘‘
ان اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہمیں اسلامی بھائی چارے کو عام کرنا ہے ۔رمضان المبارک کی ساعتوں سے فائدہ اٹھائیں اور مسلم بھائی چارے کو فروغ دیں
• اپنے ناراض رشتہ داروں کے پاس جائیں اور انہیں منائیں ۔ مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ ناراض رہے ۔
• ناراض دوستوں یا ایسے دوستوں سے ملیں جن سے ملاقات کو عرصہ بیت گیا ہو۔ ان کی دعوت کریں ان سے تعلق بحال کریں ۔
• اپنے پڑوسیوں کے ساتھ معاملات بہتر کریں اور رمضان میں ان کے ساتھ شیر و شکر ہو جائیں ۔
• اپنے علاوہ دیگر مکاتب فکر کے افراد کے خیالات کو سنیں اور انہیں برداشت کریں اور بقائے باہمی کے لیے درمیانی راستے تلاش کریں لیکن حق کو نہ چھوڑیں فروعات میں گنجائش پیدا کریں۔

8. موت کو کثرت سے یاد کریں:
ایک عالم کا کہنا ہے کہ: "اگر آپ نماز یا اللہ کی عبادت کرنے سے قاصر ہیں، تو اپنی قبر میں اپنے آپ کو دیکھیں۔ آپ قبر کو کیسا ہونا پسند کریں گے؟" ہم سب چاہیں گے کہ یہ وسیع اور روشنی سے بھر جائے، جہاں قرآن اور ہمارے نیک اعمال ہمارے ساتھی ہوں۔ لیکن جب ہم اس دنیا میں ان سے جڑے ہی نہیں تھے تو وہ ہمارا ساتھ کیسے دیں گے۔
اپنی موت کو کثرت سے یاد کرنے کی عادت ڈالیں۔ رات کو زیارت القبور کریں اور خود کو یہ سمجھائیں کہ یہی ہمارا مستقبل ہے ۔ ہم میں سے ہر ایک کو اپنے مستقبل کی فکر ہے تو پھر اپنے حتمی مستقبل کی بھی فکر کریں اور اسے بہتر بنائیں ۔ یہ عمل آپ کو مزید باشعور بنائے گا کہ آپ اپنے دن اور راتیں کیسے گزارتے ہیں۔
رمضان المبارک اپنی برکتوں ، رحمتوں ، مغفرتوں، انعامات اور جنت کی بشارت کے ساتھ ہماری طرف بڑھ رہا ہے اورہمارا مہربان رب صدا لگا ریا ہے ۔
وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ

اپنے رب کی مغفرت اور اتنی بڑی جنت کی طرف دوڑ کر آؤ جس کی چوڑائی آسمانوں اور زمین کے برابر ہے، اسے متقی لوگوں کیلیے تیار کیا گیا ہے۔[آل عمران : 133]
آئیے ہمیں جو موقع دیا گیا ہے اسے ضائع نہ کریں اور رمضان المبارک کو بہترین بنانے کے لیے تیاری کریں ۔



Raja Muhammad Attique Afsar
About the Author: Raja Muhammad Attique Afsar Read More Articles by Raja Muhammad Attique Afsar: 90 Articles with 112475 views Working as Assistant Controller of Examinations at Qurtuba University of Science & IT Peshawar.. View More