مرید! حضور رمضان المبارک کا تاریخی پہلو بتائیں ۔۔!
مرشد! پتر رمضان المبارک انعام ہے مسلمانوں کے لیے ،رمضان المبارک رحمتوں ،برکتوں،نعمتوں
کا نام ہے ،پتر دنیاوی اعتبار سے رمضان المبارک کی تاریخی حیثیت و اہمیت
بڑی واضح ہے ،جیسا کہ
01 رمضان المبارک سنہ 654 ہجری
مسجد نبوی اور اس کے حجرات مقدسہ میں آگ بھڑک اٹھی۔
02 رمضان المبارک
حضرت موسیٰ علیہ السلام پر توریت نازل ہوئی۔
03 رمضان المبارک
خاتون جنت لخت جگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت فاطمہ رضی اللّٰہ
تعالیٰ کی وفات ہوئی ،
10 رمضان المبارک
حضرت خدیجہ الکبریٰ بنت خویلد رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا امام کائنات محمد
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کی پہلی زوجہ کی وفات ہوئی،
12 رمضان المبارک
حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر انجیل نازل ہوئی۔
15 رمضان المبارک
نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت حسن بن علی رضی اللّٰہ تعالیٰ کی
پیدائش ہوئی ،
16 رمضان المبارک 36 ہجری
محمد بن ابوبکر رضی اللّٰہ کو علی بن ابی طالب رضی اللّٰہ نے نے مصر کا
گورنر بنا کر بھیجا۔
17 رمضان المبارک
سرور کائنات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تیسری زوجہ حضرت
عائشہ صدیقہ بنت ابی بکر رضی اللّٰہ عنہا کی وفات ہوئی ،
17 رمضان المبارک
مسلمانوں اور کفار کے درمیان اسلام کا پہلا معرکہ غزوہ بدر ہوا اللہ کی مدد
مسلمان جیت گئے۔
18 ۔ رمضان المبارک
حضرت داؤد علیہ السلام پر زبور (پالم) نازل ہوئی۔
18. رمضان المبارک
حضرت خالد بن ولید رضی اللّٰہ کا وصال ہوا ،
19۔ رمضان المبارک
حضرت سیدہ رقیہ رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ بنت رسولِ اللّٰه ﷺ
زوجہ محترمہ حضرت عثمان غنی رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ کا وصال ہوا ،
19 رمضان المبارک
دشمن دین نے خلیفہ چہارم حضرت علی بن ابی طالب رضی اللّٰہ تعالیٰ پر تلوار
سے وار کیا جس کی نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوئے۔
20 رمضان المبارک
اللّٰہ رب العالمین نے اپنے محبوب کائنات محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ
کی فتح نصیب فرمائی،
21 رمضان المبارک
داماد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
حضرت علی ابن ابی طالب تلوار کی زخموں کی تاب نہ لا سکے اور شہادت کا بلند
مرتبہ پایا ،
27 رمضان المبارک
اور تاریخی کتب میں لکھا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا قیام وجود میں
آیا 14 آگست 1947 کو (27 رمضان 1366 اسلامی تقویم میں)،
ماہ مبارک رمضان المبارک سنہ 92 ہجری
لشکر مسلمین نے طارق بن زیاد رحمۃ اللہ کی سرکردگی میں اندلس کو فتح کیا۔
مزید بھی پتر کئی حوالے تاریخی کتب میں موجود ہیں لیکن یہ مندرجہ بالا تمام
حوالے زیادہ قابلِ ذکر ہیں ۔
مرید! جزاک اللہ خیرا
|