مرید! حضور کیا زندگی ایک دائرے میں ہی گردش کرتی ہے؟
مرشد!پتر جی بالکل زندگی ایک دائرے میں ہی سفر کرتی ہے ،
اسکا پہلا دائرہ تقریباً دس سال تک کی عمر کا ہوتا ہے ،جہاں والدین بچوں کو
سمجھاتے ہیں کہ زندگی کے اصول و ضوابط کیا ہیں اور ان پر عمل کیسے کرنے ہے
،عمل کرنے اور نا کرنے کے نقصانات بھی سیکھائیں جاتے ہیں ،
پتر زندگی کا دوسرا دائرہ دس سال سے تقریباً 20 سال کا ہوتا ہے ،جس میں بچے
والدین و استاتذہ کی جانب سے ملنے والے سبق پر عمل کرنے کی بجائے اپنے سبق
کتاب زندگی کے اوراق پر لکھتے ہیں اور پھر ان کی بے سمجھی کی سب سے زیادہ
نقصان بے شک انہی کو ہوتا ہے لیکن والدین جس پل صراط سے گزرتے ہیں وہ
ناقابلِ بیان ہے ،کیونکہ انہی دس سالہ عملی زندگی پر باقی زندگی منتظر ہوتی
ہے ،
اس کے بعد پتر زندگی کا تیسرا دائرہ کار شروع ہوتا ہے جو تقریباََ بیس سے
تیس سال کا ہوتا ہے ،اس میں گزشتہ بیس سال کا رزلٹ ملنا شروع ہوتا ہے
،والدین کی نافرمانیوں پر ندامت محسوس ہوتی ہے ،اپنی غلطیوں پر شرمندگی
ہوتی ہے ،اپنے گناہوں پر افسوس ہوتا ہے ،اپنے ہاتھوں سے برباد کیے ہوئے
اپنے روشن مستقبل پر رونا آتا ہے لیکن تب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے ،یہاں تک
تب حوصلے دینے والے والدین بھی بے بس ہو چکے ہوتے ہیں کیونکہ وہ خود بزرگوں
کی صف میں شامل ہو چکے ہوتے ہیں ،
ایک بات اور پتر کہ اگر اس دوران شادی ہو جائے تو پھر تیس سال کے بعد چالیس
سال تک کی زندگی میں بندے کو اپنی اولاد میں اپنی زندگی کے تیس سالہ دور کا
اندازہ صرف دس سال میں ہو جاتا ہے ،
پتر زندگی کے جوانی کے سفید لباس میں ملبوس ہے اور اس کو بچانے کی ضرورت ہے
کہ کوئی ندامت کا داغ نہ لگے کیونکہ سفید لباس پر داغ کو لاکھ کوشش کے بعد
چھپایا نہیں جاسکتا اور اگر بالفرض چھپا بھی لیا جائے تو پتر خود سے پھر
بھی نہیں پوشیدہ ہوتا جو ہر روز آئینہ دیکھتے وقت سامنے کھڑا ہو جاتا ہے ۔
اور پتر چالیس سال کے بعد سوائے صبر،درگزر،برداشت،خاموشی و بے بسی کے کوئی
حل نہیں ۔
مرید! اللّٰہ کریم ہم سب پر سلامتی فرمائے۔ آمین
|