مصرعِ اجل-انسانیت کا نوحہ

In picture

شامِ افطار کے بعد معمول کے معائنے کے لیے دارالشفاء جانا ہوا۔ حسبِ دستور ملک کے موجودہ احوال پر گفتگو جاری تھی، صحافتی مباحثہ جاری تھا کہ اسی اثنا میں ایک خاتون اپنے طفلِ شیرخوار کو اٹھا کر داخلِ خیمہ ہوئیں اور گویا ہوئیں، "میرا فرزند آج دوپہر تک صحت مند تھا، اب لب کشائی نہیں کر رہا۔" طبیبِ حاذق نے مختصر معائنے کے بعد استفسار کیا، دن میں کیوں نہ لائیں؟ اور اس کا باپ کہاں ہے؟" وہ خاتون بولیں، "وہ صبح مزدوری پر ہے، ابھی تک نہیں آئے۔ وہ کچھ لاتا تو میں آتی۔" اس کے بعد ڈاکٹر صاحب نے اس خاتون کو فیس واپس کی اور سرکاری ہسپتال جانے کا کہا۔ اس خاتون کے جانے کے بعد ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ بچہ کافی دیر پہلے فوت ہو چکا ہے، مگر مجھ میں ہمت نہیں تھی کہ اس کی ماں کو بتا سکتا۔ پھر کافی دیر ہم ایک دوسرے کا منہ تکتے رہے۔ جب رخصت ہوا تو ایک پدرِ مشفق کی حیثیت سے سوچا کہ اس مزدور باپ کی کیا حالت ہوگی جب وہ آج کی اجرت لے کر بصدِ مسرت گھر آئے گا۔واپسی پر ایک ہی سوال مضطرب کر رہا تھا کہ اس معصوم طفل کی موت کا ذمہ دار کون ہے؟ اگر دجلہ و فرات (دو تاریخی دریاؤں کے کنارے) کے کنارے ایک کتے کے پیاسا مرنے کا ذمہ دار حاکمِ وقت اپنے آپ کو ٹھہرا سکتا ہے، تو اس معصوم طفل کا کیوں نہیں؟

یہ صرف ایک طفل کی موت نہیں، یہ انسانیت کی موت ہے۔ یہ اس نظام کی موت ہے جو مفلوک الحالوں کو زیست کا حق بھی نہیں دیتا۔ یہ اس معاشرے کی موت ہے جو اپنے کمزور افراد کی حفاظت نہیں کر سکتا۔ اس طفل کی موت ہم سب کے لیے ایک سوال ہے، ایک چیلنج ہے۔ کیا ہم ایسے معاشرے میں رہنا چاہتے ہیں جہاں مفلوک الحالوں کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا جائے؟

کیا ہم ایسے نظام کو قبول کر سکتے ہیں جہاں صرف اصحابِ ثروت کو جینے کا حق ہو؟

رمضان اور عید جیسے ایامِ مبارکہ میں ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنے اردگرد کے سفید پوش مفلسوں کا دھیان رکھنا چاہیے۔ ہمیں ان کی دستگیری کرنی چاہیے، ان کی آواز بننی چاہیے۔ ہمیں ان کے لیے وہ سہارا بننا چاہیے جو وہ خود نہیں بن سکتے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہم سب انسان ہیں، اور ہم سب ایک دوسرے کے کفیل ہیں۔

خداوندِ قدوس ہم سب کو ہدایت دے اور ہمیں ان لوگوں کی اعانت کرنے کی توفیق عطا فرمائے جو ہماری اعانت کے مستحق ہیں۔ آمین۔

 

Asad Mukhtar
About the Author: Asad Mukhtar Read More Articles by Asad Mukhtar: 8 Articles with 4511 viewsCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.