عید الفطر: خوشی، رحمت اور ضرورت مندوں کی مدد کا پیغام

اس مختصر مضمون میں عید مناتے ہوئے غریب لوگوں کی مدد کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت سے کچھ واقعات بھی لکھے گئے ہیں

عید الفطر مسلمانوں کے لیے ایک بابرکت اور خوشیوں بھرا تہوار ہے جو رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے اختتام پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن صرف خوشی اور مسرت کا موقع نہیں بلکہ اللہ کے حضور شکرانے اور سماجی فلاح و بہبود کا بھی درس دیتا ہے۔ اس دن کا اصل مقصد یہ ہے کہ ہر فرد، چاہے وہ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتا ہو، خوشیوں میں برابر کا شریک ہو۔

ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی تعلیمات میں اس بات پر بہت زور دیا گیا ہے کہ ہم اپنی خوشیوں میں دوسروں کو بھی شریک کریں، خصوصاً وہ افراد جو مالی مشکلات یا پریشانیوں کا شکار ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے ہمیشہ غریبوں، یتیموں، بیواؤں اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے کی تلقین کی۔ عید الفطر کے موقع پر بھی آپ ﷺ نے تاکید فرمائی کہ ہر مسلمان صدقہ فطر ادا کرے تاکہ معاشرے کے غریب افراد بھی اس دن کو خوشی کے ساتھ گزار سکیں۔

صدقہ فطر کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ ضرورت مندوں کی مالی مدد کی جائے تاکہ وہ بھی عید کی خوشیوں میں شامل ہوسکیں۔ یہ صدقہ ہر صاحب استطاعت مسلمان پر واجب ہے تاکہ عید کے موقع پر غریب افراد کو بھی بنیادی ضروریات میسر آسکیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "لوگوں کو بھوک سے بچاؤ، اور ان کی ضروریات پوری کرو تاکہ وہ عید کے دن خوشی سے گزار سکیں۔" (ابن ماجہ)

نبی کریم ﷺ کے عید کے موقع پر غریبوں کی مدد کے واقعات

نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ میں ایسے کئی واقعات موجود ہیں جو ہمیں اس بات کی تعلیم دیتے ہیں کہ عید کی خوشیوں میں ضرورت مندوں کو شریک کرنا کتنا ضروری ہے۔

1. عید کے دن غریب بچوں کا خیال نبی کریم ﷺ ایک مرتبہ عید کے دن باہر تشریف لے جا رہے تھے کہ راستے میں ایک یتیم بچے کو اداس حالت میں دیکھا۔ آپ ﷺ نے اس سے دریافت کیا کہ وہ کیوں پریشان ہے۔ اس نے جواب دیا کہ اس کے والد کا انتقال ہو چکا ہے اور اس کے پاس نئے کپڑے نہیں ہیں، اس لیے وہ دوسرے بچوں کی طرح خوش نہیں ہے۔ یہ سن کر نبی کریم ﷺ نے شفقت سے اس بچے کو گلے لگایا، اسے اپنے ساتھ گھر لے گئے، اسے نئے کپڑے پہنائے اور پیار سے فرمایا: "میں تمہارا باپ ہوں، اور عائشہ تمہاری ماں۔" یہ سن کر بچہ خوش ہوگیا اور دوسرے بچوں کے ساتھ عید منانے چلا گیا۔ (ابن کثیر)

2. ضرورت مندوں کو عید کے تحائف دینا نبی کریم ﷺ عید کے موقع پر صدقہ فطر کی خاص تاکید فرماتے تھے تاکہ کوئی بھی شخص بھوکا نہ رہے اور سب عید کی خوشیوں میں برابر شریک ہو سکیں۔ آپ ﷺ خود بھی عید کے دن مستحقین میں کھانے پینے کی اشیاء تقسیم فرمایا کرتے تھے۔


3. عید کے دن فقراء کے لیے صدقہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "عید کا دن اللہ کی طرف سے خوشی کا دن ہے، پس اس دن کسی محتاج کو خالی ہاتھ نہ لوٹاؤ۔" (ترمذی)

اس بابرکت دن کے موقع پر ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں اور دیکھیں کہ کون ایسا ہے جو ہماری مدد کا محتاج ہے۔ ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو غربت کی وجہ سے عید کی خوشیوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اگر ہم اپنی حیثیت کے مطابق ان کی مدد کریں، تو یقیناً یہ عید ہمارے لیے حقیقی خوشیوں کا باعث بنے گی۔

مدد کرنے کے بہت سے طریقے ہیں۔ ہم اپنی استطاعت کے مطابق کسی غریب خاندان کے لیے نئے کپڑوں، راشن یا عیدی کا انتظام کرسکتے ہیں۔ کسی یتیم بچے کو عید کی خوشیوں میں شامل کرنا، کسی بیمار کی عیادت کرنا، یا کسی ضرورت مند کو عید کے دن ایک وقت کا کھانا فراہم کرنا بھی بہترین نیکی ہے۔

حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: "مسلمان وہ ہے جو اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔" (بخاری و مسلم)۔ اگر ہم اس حدیث کو اپنا اصول بنا لیں، تو یقیناً ہماری عید نہ صرف ہمارے لیے بلکہ دوسروں کے لیے بھی خوشیوں کا پیغام بن جائے گی۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ عید کی اصل خوشی صرف مہنگے کپڑے پہننے یا قیمتی کھانے کھانے میں نہیں، بلکہ دوسروں کو خوشی دینے میں ہے۔ جب ہم کسی ضرورت مند کی مدد کرتے ہیں اور اس کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھتے ہیں، تو یہی حقیقی عید ہے۔

لہٰذا، آئیں اس عید پر ہم یہ عہد کریں کہ ہم اپنی خوشیوں میں غریبوں اور مستحق افراد کو بھی شریک کریں گے۔ یہ عمل نہ صرف ہمارے دل کو سکون دے گا بلکہ اللہ کی رضا اور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے کا ذریعہ بھی بنے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی معنوں میں عید کی خوشیوں کو سب کے ساتھ بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

 

Iftikhar Ahmed
About the Author: Iftikhar Ahmed Read More Articles by Iftikhar Ahmed: 57 Articles with 44761 views I am retired government officer of 17 grade.. View More