"کھیلوں کے افسر کا صحافی کے ساتھ توہین آمیز سلوک، ضم شدہ اضلاع کی کھیلوں کی انتظامیہ میں شفافیت کا فقدان بے نقاب"


کھیلوں کی صحافت میں، ایک صحافی کا کردار صرف واقعات اور نتائج کی رپورٹنگ تک محدود نہیں ہوتا بلکہ ان افراد کو احتساب کے کٹہرے میں لانا بھی اس کی ذمہ داری ہوتی ہے جو طاقت کی پوزیشن پر فائز ہیں۔ تاہم، جب ان حکام کی طرف سے مزاحمت اور شفافیت کی کمی کا سامنا ہو، تو یہ ذمہ داری انتہائی مشکل ہو جاتی ہے۔ یہی صورتحال میں، ایک صحافی کے طور پر، خیبر پختونخوا میں اس وقت بھگت رہا ہوں جہاں ایک ضلعی سپورٹس افسر (ڈی ایس او) جو ضم شدہ اضلاع سے تعلق رکھتے ہیں، میری متعدد "حقِ معلومات" درخواستوں کا جواب دینے سے گریز کر رہے ہیں اورراقم کے کام کو نظر انداز کرتے ہوئے میری عزت نفس کو مجروح کر رہے ہیں۔

یہ معاملہ راقم کی مسلسل کوششوں سے شروع ہوا کہ ضم شدہ اضلاع میں ہونے والے مختلف کھیلوں کے ایونٹس کے بارے میں شفافیت حاصلکی جاسکے۔ راقم نے اس حوالے سے کئی باقاعدہ "حقِ معلومات" درخواستیں دیں تاکہ ان ٹورنامنٹس اور دیگر کھیلوں کی سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلات حاصل کی جا سکیں، جو سرکاری چینلز یا رپورٹنگ میں کہیں نظر نہیں آئیں۔ ان جائز درخواستوں کے باوجود ڈی ایس او کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، جس کے بعد شبہ ہونے لگا کہ یا تو معلومات چھپائی جا رہی ہیں یا پھر ان کا انتظام ناقص ہے۔

تاہم، صورتِ حال ا±س وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب راقم نے ٹورنامنٹس کی رپورٹنگ اور حکام کی جانب سے عوامی سطح پر ان کی تفصیلات فراہم کرنے میں ناکامی پر سوال اٹھایا۔ بجائے اس کے کہ وہ اس معاملے کو شفافیت کے ساتھ حل کرتے، ڈی ایس او نے میری جائز درخواستوں کے بجائے لوگوں کو یہ کہنا شروع کردیا کہ فلاں صحافی دو ٹکے کا صحافی ہے اور راقم سے بات کرنے کیلئے اس نے اپنے علاقے کے تین افراد کو سولہ ہزار روپے کا کھانا کھلایا ‘جس میں رویتہ ‘ پٹے تکے اور چھوٹے گوشت کی کڑاہی شامل تھی.۔ انہوں نے رافم کو ٹکہ مار صحافی قرار دیتے ہوئے میری محنت اور سوالات کی توہین کی۔ یہ رویہ نہ صرف غیر مہذب ہے بلکہ یہ کھیلوں کی صحافت کے لیے ایک خطرناک مثال قائم کرتا ہے، جو سچائی اور احتساب پر مبنی ہوتی ہے۔

اس قسم کے ردعمل کے پیچھے دو بڑے پہلو ہیں: اولاً، یہ ایک وسیع تر مسئلہ کی نشاندہی کرتا ہے کہ بعض حکام اپنی ذمہ داریوں سے انکار کرتے ہیں اور میڈیا کے کام کو نظر انداز کرتے ہیں۔ دوئم، یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ طاقتور افراد احتساب کو نہیں مانتے اور اپنے آپ کو سوالات سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں، خصوصاً ایسے شعبوں میں جو نوجوانوں کی ترقی اور کمیونٹی کے لیے بہت اہم ہیں۔ راقم کی صحافتی ذمہ داریوں میں، خاص طور پر ضم شدہ اضلاع میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو رپورٹ کرنا، میں نے ہمیشہ ان اہم مسائل کو اجاگر کیا ہے جیسے کہ فنڈز کی تقسیم، انفراسٹرکچر کے مسائل اور وسائل کے غلط استعمال۔ جب ایسے حکام، جیسے ڈی ایس او، جائز تشویشات کو جھوٹے الزامات سے کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ دراصل اس نظام کو نقصان پہنچا رہے ہیں جس کی وہ خدمت کرنے کے لیے منتخب ہوئے ہیں۔

یہ بالکل واضح ہے کہ خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع میں کھیلوں کا انتظامی ڈھانچہ اصلاحات اور نگرانی کا محتاج ہے۔ عوامی ملازمین کو یہ سمجھنا چاہیے کہ احتساب کسی آپشن کا معاملہ نہیں ہے، یہ کسی بھی جمہوری معاشرت کا بنیادی ستون ہے۔ معلومات کا اخفائ اور صحافیوں کی عزت نفس کو مجروح کرنا صرف جہالت اور بدعنوانی کو فروغ دیتا ہے۔ کھیلوں کو، جیسے کسی دوسرے شعبے کی طرح، عدلیہ اور شفافیت کا عکاس ہونا چاہیے جہاں افسران کھلاڑیوں اور کمیونٹی کی بہتری کے لیے کام کریں نہ کہ اپنی تصویر کو بچانے کے لیے صحافیوں پر بے جا الزامات عائد کریں.

ڈی ایس او کا رویہ اور میڈیا کی درخواستوں کا جواب نہ دینا کھیلوں کی انتظامیہ میں احتساب کے فقدان کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک صحافی کے طور پر، میں اپنے مشن میں پختہ ہوں کہ سچائی کو اجاگر کروں اور طاقتور افراد کو جوابدہ ٹھہروں۔ کوئی بھی تنقید مجھے اپنے مقصد سے نہیں ہٹا سکتی۔ یہ ضروری ہے کہ صحافی، خصوصاً خیبر پختونخوا جیسے علاقوں میں، شفافیت اور عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے رہیں تاکہ حکام میڈیا کے کردار کو تسلیم کریں اور ایک زیادہ کھلا اور جوابدہ معاشرہ قائم ہو سکے۔اختتاماً، یہ واقعہ صحافیوں کو درپیش مشکلات کی عکاسی کرتا ہے جب انہیں ایک چیلنجنگ ماحول میں کام کرنا پڑتا ہے۔ حکام کی جانب سے تعاون کی کمی اور میڈیا کی تضحیک صرف ایک وسیع تر نظامی مسئلے کو ظاہر کرتی ہے جسے فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ کھیلوں کے شعبے میں شفافیت کی ضرورت بہت زیادہ ہے، جہاں حکام کو صحافت کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ معاشرتی بہتری کے لیے کام کیا جا سکے۔

#SportsAccountability #RTI #JournalismMatters #KPKSports #TransparencyInSports #RightToInformation #SportsMismanagement #KPKJournalism #PressFreedom #SportsDevelopment

Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 675 Articles with 557976 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More