سفرِ طائف سے معراج النبیﷺ تک: اہم واقعات و مراحل
(Muhammad Asif Abdul Ghaffar Chishti Nizami, Karachi)
ازقلم: محمد آصف عبدالغفار چشتی نظامی طالبِ علم جامعہ اسلامیہ حنفیہ، شعبہ درسِ نظامی (دورۃ الحدیث)
|
|
اللہ کے رسول حضورخاتم النبیینﷺنے دعوتِ حق کی تبلیغ کیلئے مکہ سےباہرطائف کے سفر کا ارادہ فرمایا،آپﷺ کے ہمراہ حضرت زید بن حارثہ تھے۔ جب آپﷺ نے اہلِ طائف کو دینِ اسلام کی دعوت دی تو اُنہوں نے دعوتِ حق کو رد کردیا اور صرف رد نہیں کیا بلکہ جس عظیم نبی کی انگلی کے اشارے سےچاند کے دو ٹکڑے ہوجاتےہیں، آسمان سے رحمت کے بادل برستے ہیں، اُس نبیﷺ پر سنگ برسائے گئے، یہاں تک کہ آپ کا خون مبارک آپکے نعلین تک آگیا ۔ جب مشہور کافر عتبہ اور شیبہ نے آپﷺ کو دیکھا تو انہوں نے آپﷺ کو اپنے انگور کے باغ میں ٹہرنے کی التجا کی اور آپ کی خدمت کیلئے اپنے غلام "عداس"کی ذمہ داری لگادی، جو بعد میں آپﷺپر ایمان بھی لے آئے تھے۔
جنات کا ایمان لانا: پھر جب آپﷺ طائف سےتشریف لے گئے اور نخلہ کے مقام پر قیام فرمایا، جہاں رات کو نمازِتہجد میں آپﷺ کی پُر اثرتلاوت سُن کر نصیبین کی جماعتِ جنات آپﷺ پر ایمان لے آئی، پھر اسی جنات کی جماعت نے مکہ مکرمہ میں جنات کو آپﷺ کے متعلق خبر دی، تو فوج در فوج وہاں بھی جنات آپﷺ پر ایمان لے آئے۔
طائف کا سخت دن اور مَلک الجبل کا آنا: حضورخاتم النبیینﷺ نے نخلہ سے مقامِ حرا کا رخ فرمایا اور دستورِعرب کے مطابق مطعم بن عدی کو پناہ کا پیغام بھیجا، پھر آپﷺ مطعم بن عدی اور اسکے بیٹوں کے ساتھ حرم میں داخل ہوئے۔ آپﷺ نے طوافِ کعبہ کیا، حجرِ اسود کا بوسہ لیا، نماز ادا کی اور پھر اپنے دولت خانے تشریف لےگئے۔کئی عرصے بعد اماں عائشہ کے دریافت کرنے پر حضورخاتم النبیینﷺنے فرمایا کہ اُحد سے زیادہ سخت دن تبلیغِ طائف کے دن تھے کہ جب حضرت جبرئیل آئے، مجھ پر سایہ کیا اور ان کے ساتھ َملک الجبل بھی آئےاور کہنے لگے کہ آپﷺ اگر حکم دیں تو دونوں پہاڑوں کو اہلِ طائف پر پلٹ دوں؟ تو حضورخاتم النبیینﷺنے فرمایا نہیں! میں امید کرتا ہوں کہ اللہ ﷻ ان کی نسلوں میں ایسے لوگوں کو پیدا فرمائےگا جو صرف اُسی کی عبادت کریں گے شرک نہیں کریں گے۔
بیعتِ عقبہ اولیٰ: عقبہ منیٰ کی ایک گھاٹی کا نام ہے۔ اعلانِ نبوت کے بارہویں سال حج کیلئے مدینہ سے آنے والے افراد میں سے بارہ افراد نے چھپ کر عقبہ کی گھاٹی میں آپﷺ کے دستِ مبارک پر بیعت کی کہ " مشکل ہو یا آسانی آپﷺ کا ہمیشہ ساتھ دینگے"اور اسلام قبول کر لیا۔ان کی درخوست تھی کہ درسِ اسلام کیلئے کسی کو ہمارے ساتھ بھیجیں تو اس کام کیلئے حضورخاتم النبیینﷺ نے مصعب بن عمیر کوان کے ساتھ مدینہ روانہ کردیا، وہاں آپ نے اسعد بن زرارہ کے گھر قیام کیا اور ان کے ساتھ مل کر مدینہ میں تبلیغ کرکے قباء تک اسلام پھیلادیا۔حضرت سعد بن معاذ جو سردارِ قبیلہِ اوس تھے، وہ قرآن سُن کر اتنا متاثر ہوئے کہ فوراً اسلام میں داخل ہو گئےاور ان کے ساتھ تمام قبیلہءِ اوس بھی مسلمان ہوگیا۔
بیعتِ عقبہ ثانی: پھر اسی طرح اگلے سال اعلانِ نبوت کے تیرہویں سال حج کیلئے مدینہ سے آنے والے افراد میں سے بہتّر(72) افراد نے اسی عقبہ کی گھاٹی پر بُت پرستی کو چھوڑ کر آپﷺ کے دستِ مبارک پر بیعت کرکے اپنی دنیا و آخرت کو بلند کیا۔
معراجِ مصطفیٰﷺ: اللہ تعالیٰ نے حضور خاتم النبیینﷺ کو سب سے بڑا معجزہ معراج کی سیر کا عطا فرمایا، جو مادی دنیا سے ما وراء اور عقلِ انسان کے قیاس اور گمان کی سرحدوں سے بالاتر ہے۔ شبِ معراج حضرت جبرائیل چند فرشتوں کے ہمراہ نازل ہوئے اور آپﷺ کو حرمِ کعبہ میں لے گئے۔آپﷺ کا سینہ مبارک چاک کیا پھر قلبِ انور کو نکال کر اُس پر زمزم بہایا اور ایمان و حکمت سے پُر طشت کو سینے میں انڈیل کر چاک برابر کردیا۔ پھر حضور خاتم النبیینﷺ کو براق پر سوار کیا اور بیت المقدس لے آئے، جہاں اللہ نے انبیاء سے کیا وعدہ پورا کیا اور تمام انبیاء کو بیت المقدس میں جمع فرمایا اور حضور خاتم النبیینﷺ کو انبیاء کا امام بنایا۔ پھر آپﷺ نے آسمانوں کی سیر کا آغاز فرمایا۔ پہلے آسمان پر حضرت آدم ، دوسرے پر حضرت یحییٰ ،تیسرے پر حضرت یوسف ، چوتھے پر حضرت ادریس ، پانچویں پر حضرت ہارون ، چھٹے پر حضرت موسیٰ اور ساتویں آسمان پر حضرت ابراہیم سے ملاقات کی ۔ جنت و دوزخ کا مشاہدہ کیا۔ جب آپﷺسدرۃ المنتہیٰ پہنچے، تو حضرت جبرائیل یہ کہہ کر ٹہر گئے کہ"میں آگے نہیں جاسکتا، میں ذرہ برابر بھی آگے ہوا تو میرے پر جل جائیں گے"۔ اس کے بعد حقﷻ نے آپ کو لامکاں تک کی سیر کرائی، ملاقات کا شرف بخشا اور بے شمار عطیات کے ساتھ خصوصاً تین انعامات عطا فرمائے۔ 1۔سورہ البقرہ کی آخری آیات 2۔جو امتی شرک نہیں کرے گا اللہﷻ اسے بخش دےگا 3۔امت پر پچاس نمازیں جب حضور خاتم النبیین ﷺ واپس آسمانوں کی جانب آئے توحضرت موسیٰ نے فرمایاکہ آپ کی امت پچاس نمازوں کا بار نہیں اٹھا سکے گی، حضرت موسیٰ کے مشورے پر آپﷺ باربار اللہﷻ کی بارگاہ میں حاضر ہوتےے رہے اور 5،5 کرکے نمازیں کم کرواتے گئےاور جب آخری پانچ نمازیں رہ گئیں تو اللہﷻ نے فرمایا کہ میرا قول نہیں بدلےگا یہ پانچ نمازیں ثواب میں پچاس کے برابر ہیں۔ اگلے دن جب آپﷺ نے لوگوں کو معراج کے متعلق بتایا، توقریش جانتے تھے کہ آپﷺ کبھی بیت المقدس نہیں گئے تو انہوں نے آپﷺ کو جھوٹا ثابت کرنے کیلئے آپﷺ سے بیت المقدس کی عمارت، درو دیوار ممبر و محراب کے متعلق سوالات کی طویل قطار لگانی شروع کردی، تو اللہﷻ نے بیت المقدس کا نقشہ نگاهِ نبیﷺ کے سامنے رکھ دیا، قریش سوال کرتے اور آپﷺ اس کا درست جواب دیتے، گویا جوابات سن کر سب حیران ہی رہ گئے تھے۔
|
|